لاہوردھماکہ اور سیف سٹی پروجیکٹ

Feb 21, 2017

LB9

لاہورکے چیئرنگ کراس پرہونیوالے دھماکے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ ہم آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں دوہزارایک میں امریکہ پرہونے والے حملوں کے بعد دہشتگردی کے خلاف شروع ہونیوالی جنگ کے وقت کھڑے تھے۔اس دھماکے کے بعد پھرسے لاہور کے بازاروں، پارکوں اور شاپنگ مالز میں جانے کا خوف واپس آگیا ہے جو پشاورکے آرمی پبلک سکول اور لاہور کے گلشن اقبال پارک پر ہونیوالے خود کش دھماکوں کے بعد عروج پر تھا،جب بچوں کو اسکول بھیجنے اور انھیں تفریح کے لیے پارکس لے جاتے ہوئے ڈر لگتا تھا۔

LB6

اسے خدا کی قدرت کہیں یا پھر پاک فوج کی کوششوں کا پھل،حکومت کی طرف سے کئے گئے اقدامات کہیں یا پھرخفیہ ایجنسیوں کی موثرکاروائیاں۔ پچھلے کافی عرصے سے لاہور کے علاوہ کسی بھی دوسرے بڑے شہر سے دہشتگردی کی اطلاعات نہیں آرہی تھیں۔ مارکیٹس اور پارکوں میں لوگ بنا خوف کے آنے جانے لگے تھے۔ بچوں کو اسکول بھیجتے وقت دل خوفزدہ ضرور تھا مگر خوف دن بدن ختم ہورہا تھا۔ لیکن چیئرنگ کراس پر ہونیوالے دھماکے نے پھر سے امن قائم ہونے اور دہشتگردی سے محفوظ ہونے کے سارے دعوے غلط ثابت کردیے۔ اس دھماکے نے ثابت کردیا کہ اتنے عرصے تک دھماکوں کا ناہونا خدا کی رحمت تھی ناکہ سیکیورٹی اداروں اور فوج کی کوششیں۔

LB8

پنجاب اسمبلی کے بالکل سامنے ہونیوالے دھماکے نے ثابت کردیا کہ دہشتگرد بنا کسی خوف اورڈرکے اگر لاہور کے مال روڈ پرمٹر گشت کرسکتے ہیں تو پھروہ لاہور کے کسی بھی علاقے میں باآسانی کارروائی کرسکتے ہیں۔جب بھی کوئی دہشتگردی ہوتی ہے تو پہلے پنجاب کے وزیر قانون راناثناء اللہ اور پھر دیگر صوبائی وزرا باری باری دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں مزید میسر کرنے کے دعوے کرتے ہیں۔ پھر دو یا تین دن بعد وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار اپنے مصروف ترین اوقات میں سے ٹائم نکال کر پریس کانفرنس کرتے ہیں جس میں ہر بار دہشتگردوں تک پہنچ جانے اور سہولت کاروں کے ٹھکانوں کا پتا لگانے کے دعوے کیے جاتے ہیں۔

لیکن بد قسمتی سے ان تمام دعووں کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا اور دھماکے پھر ہوجاتے ہیں۔ جس کے بعد پھر سے وزیر داخلہ آکر پریس کانفرنس کرتے ہیں۔ اسطرح اگر یہ کہا جائے کہ چوہدری نثار کی ایک پریس کانفرنس سے دوسری پریس کانفرنس تک ہی صرف سکون ہوتا ہے تو غلط نہیں ہوگا۔

LB3

حیرانگی کی بات یہ ہے کہ اسلام آباد کے بعد لاہور میں بھی سیف سٹی پروجیکٹ کے لئے اربوں روپے سے خریدے گئے کیمرے اور کنٹرول رومز بنائے گئے جن میں پورے شہر کی تمام اہم سڑکوں پر نظر رکھنے کیلئے اقدامات کئے گئے۔ پنجاب حکومت کی طرف سے لاہورشہر کو محفوظ بنانے کیلئے 12 کروڑ کی لاگت سے اس نوعیت کامنفرد ترین پراجیکٹ شروع کیا گیا جس کیلئے ایشیا میں سب سے بڑی اسکرین مانیٹرنگ کیلئے استعمال کی گئی۔

LB4

لیکن اس سیف سٹی پروجیکٹ کا فائدہ؟جیسا کہ مختلف چینلز پردکھائی جانیوالی فوٹیجز میں باآسانی دیکھا جاسکتا ہے کہ کیسے خود کش، سہولت کاروں کی مدد سے مال روڈ کے ریگل چوک اور پھر پینوراما سنٹر کے سامنے سے ہوتا ہوا چیئرنگ کراس پہنچا۔ کیا ان کیمروں کاکام صرف سڑکوں پر گھومنے پھرنے والوں کی ویڈیو بنانا ہی ہے؟۔جسے دھماکہ ہونے کے بعد چینلز والے استعمال کرسکیں۔ کیا اس سیف سٹی پروجیکٹ کے کیمراز کے زریعے صرف یہی پتا لگایا جائیگا کہ خود کش دھماکہ کرنے والے کے سہولت کار کون تھے اور وہ کس طرف سے آیا تھا۔

LB5

ایسے سیف سٹی پروجیکٹ کیلئے ضروری یہ بھی ہے کہ سڑکوں پر لگائے گئے کیمروں کی باقاعدہ مانیٹرنگ  کی جائے اور سڑکوں پر مشتبہ افراد کو پہچاننے کیلئے کنٹرول رومز میں ایسے ماہرافرادمانیٹرنگ کررہے ہوں جوکسی بھی قسم کی مشکوک کارروائی دیکھنے پر فوری اقدامات کریں۔ اس کے علاوہ ان کنٹرول رومز کے ساتھ سیکیورٹی ادارے بھی رابطے میں ہوں جو اطلاع ملنے پر فوری طور پر مشکوک شخص کے خلاف کارروائی کریں، اس سے پہلے کہ وہ خود کو دھماکے سے اڑا لے۔

Safe City Project

lahore blast

Tabool ads will show in this div