افغانستان کی چوری اورسینہ زوری،پاکستانی سفیرکی طلبی

482695-afghanlogo-1356114490-165-640x480 کابل / اسلام آباد : دہشت گردوں کے خلاف ایکشن لینے کے بجائے افغان حکومت نے پاکستانی سفیر کو طلب کرلیا، افغان حکومت کا کہنا تھا کہ سہون دھماکے میں افغان سرزمین استعمال نہیں ہوئی، افغان حکام کا کہنا تھا کہ سرحدی خلاف ورزیاں بند کی جائیں۔ اس کو کہتے ہیں ایک تو چوری اوپر سے سینا زوری،  افغانستان نے کابل میں تعینات پاکستانی سفیر کو وزارت خارجہ طلب کیا۔ افغان حکام کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان میں ہونے والی سرحدی خلاف ورزیاں بند کریں، جس پر پاکستانی سفیر کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کی آمد ورفت روکنے کیلئے افغان حکومت کو تعاون کرنا ہوگا، افغان حکومت ان کی نقل و حرکت روکے۔ دوسری جانب غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان حکومت نے لعل شہباز کے مزار پر دھماکے میں افغان سرزمین استعمال ہونے کو مسترد کر دیا۔ افغان صدر کے ترجما ن کا کہنا ہے کہ پاکستان الزام لگانے کے بجائے اپنے ملک سے دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے ختم کرے، ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے لیے محفوظ ٹھکانے نہیں ہیں ،پاکستان کو اپنی سر زمین پر موجود دہشت گردوں سے نمٹنا چاہیے۔ ۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں اپنی صاف نیت ثابت کردی ہے اور اب پاکستان کی باری ہے کہ اپنی سر زمین سے دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو ختم کرے ۔ان کا کہنا تھا کہ افغانستان اپنی سرزمین ہمسائے ممالک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت ہر گز نہیں دے گا اور ہمیں امید ہے کہ دوسرے ممالک بھی اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے ختم کریں گے۔ شاہ حسین نے کہا کہ پاکستان الزام لگانے کے بجائے اپنے ملک سے دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کرے۔ دوسری جانب افغانستان کی نیشنل ڈائریکٹو ریٹ آف سیکیورٹی کے سابق سربراہ امیر اللہ صالح نے الزام عائد کیا کہ لعل شہباز کے مزار پر دہشت گردی کا حملہ پاکستان کی جانب سے دہشت گردوں کو سپورٹ کرنے کا نتیجہ ہے۔ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے امیر اللہ صالح کا مزید کہنا تھا کہ مزار پر دھماکے کے پیچھے افغانستان کا کوئی ہاتھ نہیں، اس لیے ہمیں کوئی وضاحت کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔

واضح رہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد کالعدم تنظیم جماعت الحرار نے سہون شریف دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی، دھماکے میں 88 سے زائد افراد شہید، جب کہ 200 سے زائد زخمی ہوئے۔ کالعدم تنظیم جماعت الحرار داعش، ٹی ٹی پی اور لشکر جھنگوی العلمی کے ساتھ ملکر دہشت گرد حملوں کی منصوبہ سازی افغانستان میں کرتی ہے۔ سماء

SHELLING

NDS

afghan govt

Pakistani Ambassador

Sehwan Sharif

Jamat ul Ahrar

Ambassador Summons

Tabool ads will show in this div