چار کالعدم تنظیموں کے خلاف خفیہ کریک ڈاؤن کا آغاز

Security-Forces-Operation

کراچی : ملک بھر میں شروع دہشت گردی کی حالیہ لہر کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کالعدم تنظیموں کے خلاف بھرپور کومبنگ آپریشن کا آغاز کردیا، دہشت گردی کے واقعات میں چار تنظیموں کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ملک میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات میں کالعدم ٹی ٹی پی، کالعدم جماعت الاحرار، کالعدم داعش براہ راست اور کالعدم لشکر جھنگوی العالمی بالواسطہ شریک ہیں، تینوں کالعدم تنظیموں کے سربراہ افغانستان میں مقیم ہیں، جہاں وہ پاکستان میں دہشت گرد حملوں کی پلاننگ کرتے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان نے گزشتہ روز افغان سفیر کو طلب کر کے 76 دہشت گردوں کی فہرست افغانستان کو دی، پاکستان نے سخت اور ٹھوس لہجے میں افغانستان پر واضح کردیا کہ افغانستان یا تو ان کے خلاف کارروائی کرے اور اگر کارروائی نہیں کرسکتا تو انہیں پاکستان کے حوالے کرے۔ Saudi Special Security Forces during a joint anti-terror exercise in Pakistan 1 پاکستان کی جانب سے افغانستان سے کالعدم ٹی ٹی پی کا سربراہ فضل اللہ، جماعت الاحرار کا عمر خالد خراسانی، لشکر جھنگوی العالمی کا صفدر خراسانی کی حوالگی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ داعش کی پاکستان میں کارروائیوں کو حسیب لوگری نامی افغان کنڑول کررہا ہے۔ انٹیلی جنس اداروں کے مطابق پشاور اور کوئٹہ میں نوعمر دہشت گرد لڑکوں کی گرفتاریوں کے بعد پکٹرے گئے لڑکوں سے دوران تفتیش دہشت گردی کی منصوبہ بندی کا علم ہوا، جس کے بعد ضلعی سطح پر ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹیوں کو بھی متحرک کردیا گیا ہے۔ 877147-pesh_force_dec__afpx-1430194960 دوسری جانب ہفتہ کے روز ڈیرہ اسماعیل خان میں مارے جانے والے تین دہشت گردوں کی بھی شناخت کرلی گئی ہے، ہلاک دہشت گردوں کی شناخت مقبول عرف بولی، محمد سعد اور شفیع اللہ کے ناموں سے ہوئی ہے۔ ہلاک دہشت گردوں میں پولیس حملوں میں مطلوب مقبول بولی کے علاوہ سعداللہ اور شفیع اللہ بھی شامل ہیں،جن کے بیرونی عناصر سے رابطےتھے۔ 5494ff81317dd ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق انٹیلی جنس ادارے حالیہ واقعات کے پیچھے نیٹ ورکس بے نقاب کرنے میں پیشرفت کررہے ہیں،ان واقعات میں سرحد پار سے تعاون کے روابط موجود ہیں۔ سماء

NDS

COMBING OPERATION

Jamat ul Ahrar

Tabool ads will show in this div