ڈائنوسارز کے بارے میں انوکھا انکشاف

dinosaur-normal قاہرہ: سائنسدانوں کو پہلی مرتبہ اس بات کا ثبوت ملا ہے کہ جانوروں کا گروہ جس میں ڈائنوسارز اور مگرمچھ بھی شامل ہیں ماضی میں بچے بھی دیتے تھے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق جانوروں کے یہ گروپ آرکوسارومورفاکہے جاتے ہیں اور آج کے دور میں اس میں شامل تمام جانور انڈے دیتے ہیں،اس پر سائنسدانوں کے ذہن میں یہ خیال پیدا ہوا کہ کیا ان کی حیاتیاتی بناوٹ میں ہی یہ بات شامل ہے کہ یہ بچے نہیں دے سکتے۔لیکن لمبی گردن والے ساڑھے 24 کروڑ سال پرانے چین کے بحری ریپٹائل کے محجر باقیات کے معائنے پر پتہ چلا کہ اس جانور کے پیٹ میں ایک بچہ پل رہا تھا۔

یہ تحقیق سائنسی جریدے نیچر کمیونیکیش میں شائع ہوئی ہے اور اس کے پہلے مصنف جون لیو نے بتایا کہ یہ جاندار تین سے چار میٹر لمبا ہو سکتا ہے اور اس کی گردن تقریبا پونے دو میٹر لمبی تھی۔

ان کے مطابق اس کے پیٹ میں نطفہ تقریبا ًنصف میٹر لمبا رہا ہوگا جو کہ دائنوسیفلوسارس کے فوسل کی پسلیوں کے درمیان تھا۔تحقیق کرنے والوں نے اس امکان پر بھی غور کیا کہ پسلیوں کے درمیان پایا جانے والا چھوٹا جانور اس بڑے جانور کی آخری غذا بھی ہو سکتا ہے۔

لیکن اس کا چہرہ آگے کی جانب ہے جبکہ نگلے ہوئے جانور کا چہرہ عموما پیچھے کی جانب ہوتا ہے کیونکہ شکاری جانور پہلے اپنے شکار کا سر کھاتے ہیں تاکہ گلے سے نیچے اتارنے میں آسانی ہو۔براہ راست بچہ پیدا کرنے کا دوسرا ثبوت یہ تھا کہ بڑے جانور کے پیٹ میں جو چھوٹے جانور کے باقیات ملے ہیں وہ واضح طور پر اسی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ سماء / اے پی پی

ANIMAL

Wired

dynasore

Tabool ads will show in this div