فکسر طائی سے پرائڈ آف پرفارمنس کیسے چھینا جائے؟  

ASHRAF TAI SOT 08-02 انیس سو تیراسی میں جرمن فائٹر ہاورڈ جیکسن سے ڈیمو فائٹ ہارنے کیلئے مجھے چار لاکھ ڈالر کی آفر ہوئی اور میں نے پانچ لاکھ ڈالر میں ڈیل طے کرلی اور جان کر فائٹ ہارگیا'' یہ الفاظ پاکستانی قوم کے لیے کسی دھماکے سے کم نہیں تھے یہ اعتراف کسی ایرے غیرے نے نہیں کیا تھا بلکہ یہ وہ شخص تھا جسے ملک کا سب سے بڑا سویلین اعزاز پرائڈ آف پرفارمنس سے نوازا گیا تھا!

وہی گرینڈ ماسٹر اشرف طائی جنہوں نے کک باکسنگ کے اپنے چھیالیس مقابلوں میں سے بتیس مقابلے ہم وطنوں کے خلاف لڑے کک باکسنگ کیریئر میں صرف آٹھ مقابلے ملک سے باہر لڑے۔

جی ! آپ درست سمجھ رہے ہیں بات گرینڈ ماسٹر مارشل آرٹس کے ڈان اشرف طائی کی ہورہی ہے جو نہ جانے کس دھن میں تھے کہ چونتیس سال بعد نہ صرف فکسنگ کا اعتراف کیا بلکہ دھڑلے کے ساتھ کیمروں کے سامنے بیان بھی داغ دیا۔

خبر چلی ! طوفان مچا ! موصوف کو ہوش آیا اور صفائیاں پیش کرنے لگے اور وہ بھی اس بھونڈے انداز میں کہ جو سنے قہقہ لگائے، مرے پہ سو درے کے گھر کی بھیدی یعنی موصوف کی بیگم صاحبہ ثمینہ شاہ نے بھی لنکا ڈھانا شروع کردی اور انکشاف کیا کہ صرف ہاروڈ جیکسن سے ہی نہیں بلکہ اشرف طائی اپنی آخری فائٹ جو ڈان ولسن سے لڑی وہ بھی جان بوجھ کر ہارے تھے اور یہ اعتراف خود اشرف طائی نے ان یعنی بیگم صاحبہ کے سامنے کیا ساتھ ہی الزام لگایا کہ موصوف ہیروئن کے نشے کے عادی ہیں یہ الزامات سابقہ اہلیہ نہیں بلکہ موجودہ بیگم جو آج بھی ساتھ ہی رہتی ہیں نے لگائے۔

530249-AshrafTaiPHOTOSNEFERSEHGALEXPRESS-1364925607-306-640x480

لگتا ہے ہم پاکستانیوں نے غلطیوں سے نہ سیکھنے کی قسم کھارکھی ہے کوئی غلطی کرتا ہے تو اسے وقتی طور پر برا سمجھا جاتا ہے پھر وقت کی گرد کے ساتھ اس کے گناہ بھی آنکھوں سے اوجھل کردیئے جاتے ہیں نتیجہ ! پاکستانی کرپشن کی دلدل میں دھنسنے سے ڈرتے نہیں۔

ایسا پہلی بار تو نہیں ہوا کہ کسی کھلاڑی نے ملکی وقار کو داؤ پر لگایا ہو اور مال بنایا ہو اس سے پہلے یہ کالک پاکستانیوں کے منہ پر محمد آصف ، محمد عامر اور سلمان بٹ بھی مل چکے ہیں لیکن ان کو بھی معافی کے لبادے میں کلین چٹ دے دی گئی۔

ایسا کب تک چلتا رہے گا اگر ہم نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو ایسا نہ ہو کہ وہ بچے جو ایسے کرداروں کو اپنا ہیرو مانتے ہیں وہ بھی گناہ کو گناہ سمجھنا چھوڑدیں غلطی کو غلطی ماننے کو تیار نہ رہیں اور پاکستان کرپشن کی وجہ سے پستیوں کے اندھیروں میں ہی گم نہ ہوجائے۔

پاکستان حکومت کہاں سو رہی ہے کیا حکمران اپنی کرپشن کی وجہ سے دوسروں کی کرپشن پر زبان ہلانے یا ایکشن لینے کی ہمت نہیں کرتے ؟؟؟ یا پھر معاملہ کوئی اور ہے ؟؟؟

اگر حکومت یا بیورو کریٹس کرپشن کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کے لیے کم از کم ایسے کرداروں کو جو برملا کرپشن کا اعتراف کرچکے ہوں کو عبرت کا نشان بنانے کی ہمت کریں تو کم از کم ہمارا جو حال بے حال ہے اس کا مستقبل تو سنور جائے؟

بقول وفاقی وزیر بین الصوبائی ریاض الدین پیرزادہ کے کہ وہ کسی کرپٹ کے پاس ملک کا سب سے بڑا اعزاز نہیں رہنے دیں گے تو کیا محمد عامر ، سلمان بٹ اور محمد آصف کے لیے بھی کرکٹ کے دروازے بند کرنے لیے ایکشن میں آئیں گے ؟

فکسنگ کا برملا اعتراف اور پھر اس کے دفاع میں بھونڈا جواز ،،، کیا اشرف طائی ملک کے سب سے بڑے اعزاز کو اپنے پاس رکھنے کے اب حقدار رہے ہیں؟ لیکن فکسر طائی سے پرائڈ آف پرفارمنس کیسے چھینا جائے؟

MARTIAL ARTS

public opinion

ashraf tai

pride of performance

Tabool ads will show in this div