کالمز / بلاگ

لاہوریوں کی بسنت کا دشمن کون

Feb 07, 2017
A Pakistani youth checks kites before purchasing one from a stall in Lahore, 04 February 2005, on the eve of Basant festival or festival of kites. Thousands of kite lovers from across the country are gathering in the eastern Pakistani city of Lahore to take part in the annual Basant festival.                 AFP PHOTO/Arif ALI / AFP PHOTO / ALI ARIF

ایک وقت تھا جب لاہور کی بسنت، پوری دنیا میں مشہور تھی۔ امریکہ، کینیڈا سمیت برطانیہ میں مقیم ناصرف پاکستانی بلکہ گورے بھی بسنت منانے لاہور آتے تھے۔پھر 2007 میں پرویزمشرف کی حکومت نے بسنت پر پابندی لگادی اور آج تک لاہوری اپنے اس تہوار کو منانے سے قاصر ہیں۔

بنیادی طور پر بسنت پر پابندی کی وجہ ضرورت سے زیادہ اس تہوار کو ملنے والی پزیرائی اور امرا کی اس تہوار میں بڑھ چڑھ کر شمولیت تھی جس کی وجہ سے پتنگ اڑانے کا تہوار، ہوائی فائرنگ، شورشرابا اور ایک دوسرے پر سبقت لیجانے کےلئے کیمیکل لگی موٹی ڈور کی نظر ہوگیا۔اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ ایک بھی انسانی جان کا ضیاع، کسی صورت قابل قبول نہیں۔ لیکن انسانی جانوں کو محفوظ بناتے ہوئے اس تہوار کو اگر محفوظ بنایا جائے تو اسے منانے کی اجازت ہونی چاہیئے۔

SHARJA BASANT MELA PKG 06-03 ASIF

بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ان دس سالوں میں کسی بھی حکومت کی طرف سے اس تہوار کو محفوط بنانے کیلئے اقدامات نہیں کئےگئے۔ ہر سال فروری کا مہینہ شروع ہوتے ہی پنجاب کی صوبائی حکومت کمیٹیاں بناتی ہے، حفاظتی انتظامات کیلئے لائحہ عمل بنایا جاتا ہے مگر پھر بھی بسنت نہیں ہوتی۔

اگر ماضی پر نظر ڈالی جائے تو 2007 سے پہلے منائی جانیوالی بسنتوں پر بھی ہلاکتیں ہوتی تھیں۔ جن کی وجہ کرنٹ لگنا، چھت سے گرنا یا پھر ہوائی فائرنگ ہوتی تھی۔ لیکن ڈور پھرنے سے ہلاکتوں کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں۔

Qta Basant Enjoyment Pkg  19-02

جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ مشرف دور کے شروع ہوتے ہی پاکستان میں ناصرف میڈیا نے ترقی کی۔ بلکہ ملٹی نیشنل کمپنیز بھی پاکستان میں آئیں۔ جن کے ہاتھوں صدیوں سے منایا جانیوالا بسنت کا تہوار اغوا ہوگیا اور اس تہوار کےذریعے پیسہ کمایاجانےلگا۔بسنت کا تہوار کمرشل ہونے کی وجہ سے غریب لاہوری کے تہوار میں امیر لاہوری کود پڑے۔ امیروں نے اپنی اونچی شان اور ناک کو بچانے کیلئے ایسی ڈوروں کا استعمال شروع کردیا۔ جوکہ ناصرف موٹی تھیں بلکہ ڈور پر لگائے جانے والے مانجے میں ایسے کیمیکلز استعمال کئے جانے لگے جس سے پیچ لڑوانے والے کی ڈور باآسانی کاٹی جاسکے۔ لیکن یہی کیمیکل ملی موٹی ڈور معصوم لاہوریوں کیلئے وبال جان بھی بن گئی۔

امیروں کی استعمال کردہ ڈوریں موٹی ہونے کی وجہ سے ٹوٹتی نہیں تھی اور مانجے میں شیشے کے ساتھ کیمیکل کی مکسنگ کی وجہ سے ڈور تلوار کی دھار کی مانند تیز ہوتی۔پھر بازار میں باآسانی کیمیکل والی موٹی ڈور کی دستیابی عام ہوگئی اور یوں ہر لاہوری نے اپنی پتنگ کیلئے ایسی ڈوریں لینا شروع کردیں۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دس سال قبل اس تہوار پر پابندی لگ گئی۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ جس پتنگ کو کٹنے سے روکنے کیلئے کیمیکل والی موٹی ڈور استعمال کی جاتی ہے،اسی پتنگ کے کٹ جانے کے بعد واپس کھینچی جانے والی ڈور واپسی کے راستے پر راہ چلتے یا موٹر سائیکل والوں کے گلے میں پھنستی ہے۔ چونکہ ڈور موٹی ہوتی ہے،اس لئے آسانی سے ٹوٹتی نہیں اور مانجے میں کیمیکل ملا ہونے کی وجہ سے انتہائی کاٹ دار ہوتی ہے۔ جس کا نتیجہ گلا کٹنے کی صورت میں نکلتا ہے۔

kite6

اس کے علاوہ بسنت کے کمرشل ہوجانے کی وجہ سے عام استعمال کے سائز کی پتنگوں کی جگہ بڑے سائز کی پتنگیں اڑائی جانے لگیں۔بڑی پتنگ کی وجہ سے اڑتی پتنگ کے تن (وزن) میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ جس کیلئے موٹی ڈور کا استعمال لازمی ہوگیا۔ جوکہ تیز ہوا میں بھی بڑی پتنگ کو ٹوٹنے سے بچا سکے۔ یوں پتنگ کے سائز میں اضافے کے ساتھ ساتھ ڈور کی موٹائی میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔موٹی ڈوروں کے استعمال سے پہلے استعمال کی جانیوالی ڈوریں تیز ضرور ہوتی تھیں۔ مگر کسی بھی جگہ پھنس جانے کی وجہ سے ٹوٹ جاتی تھیں۔ لیکن بعد میں درآمد کی جانیوالی ڈوروں نے پتنگ بازی کا بیڑا غرق کردیا۔

ویسے تو ہر سال بسنت سے پہلے بے تحاشہ سفارشات دی جاتی ہیں تاکہ بسنت پر پابندی اٹھائی جاسکے۔ لیکن اگر حکومت بسنت واقعی ہی منانا چاہتی ہے تو چند مشکل فیصلے لیکر اس صدیوں پرانے تہوار کو دوبارہ سے شروع کرسکتی ہے۔

kite8

اگر حکومت چاہے تو مناسب ڈور کی فروخت کو یقینی بناتے ہوئے موٹی ڈور پر پابندی لگا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت خود یوٹیلیٹی اسٹورز، ڈاک گھروں اور دیگر سرکاری اداروں کے ذریعے ڈور فروخت کرسکتی ہے۔سب سے بڑھ کر یہ کہ اگر حکومت دہشتگردی کے پیش نظر ڈبل سواری پر پابندی لگا سکتی ہے تو دو دنوں کیلئے موٹر سائیکل پر بھی پابندی لگا دے اور بذریعہ پولیس یقینی بنائے کہ کوئی موٹرسائیکل سڑکوں پر خاص طور پر کھلی سڑکوں پر نہ آئے۔

ان تمام حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانے کے بعد ہی  بسنت کی اجازت ہونی چاہیئے کیونکہ ہر انسانی جان قیمتی ہے۔ جس کی حفاظت کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

PUNJAB

KITE FLYING

Tabool ads will show in this div