بانو قدسیہ کی نماز جنازہ ادا، مقامی قبرستان میں تدفین

Bano Qudsia 1600 Funeral Lhr 05-02

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2016/02/Bano-Qudsia-Funeral-Lhr-Pkg-05-02.mp4"][/video]

لاہور : معروف مصنفہ اور ڈرامہ نگار بانو قدسیہ کو نماز جناز کی ادائیگی کے بعد لاہور کے مقامی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا، بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

اردو ادب کا ایک اور بڑا نام خالق حقیقی سے جا ملا، کئی کتابوں کی مصنفہ، ادیب اور ڈرامہ نگار بانو قدسیہ کی نماز جنازہ ماڈل ٹاؤن بلاک ای کی مسجد میں ادا کردی گی، جبکہ مقامی قبرستان میں انہیں سپرد خاک کردیا گیا۔

نماز جنازہ میں چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ صدیق الفاروق، شعیب بن عزیز،امیر جماعت اسلامی لاہور مقصود احمد، مقصود چغتائی، ممتاز دانشور علامہ عبد الستار عاصم، ڈاکٹر آصف جاہ، قاضی منشاء، راﺅ محمد اسلم، فاروق تسنیم، پروفیسر نذر بھنڈر، محمد فاروق چوہان، معروف ہدایت کار و فلمسٹار عثمان پیرزادہ، اداکار انور علی سمیت اہم شخصیات عزیز و اقارب، مداحوں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

معروف افسانہ نگار، ادیب اور مصنف اشفاق احمد کی بیوہ جو خود بھی اردو ادب کا بڑا نام ہیں، گزشتہ روز لاہور کے اسپتال میں انتقال کر گئی تھیں، ان کی عمر 88 برس تھی، اردو ادب سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیات گلزار، انور مقصود، مشتاق احمد یوسفی سمیت دیگر نے اسے رواں برس کی سب سے افسوسناک خبر قرار دیا۔

بانو قدسیہ 28 نومبر 1928ء کو بھارت کے شہر فیروز پور میں پیدا ہوئیں، 1950ء میں انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ماسٹرز کیا، مشہور افسانہ نگار اور ڈرامہ نویس اشفاق احمد سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کے بعد ان کی معاونت سے ادبی پرچہ داستان گو جاری کیا، ۔بانو قدسیہ کے افسانوی مجموعوں میں ناقابل ذکر، بازگشت، امر بیل، دست بستہ، سامان وجود، توجہ کی طالب، آتش زیرپا اور کچھ اور نہیں کے نام شامل ہیں، ان کا ناول راجہ گدھ اردو ادب میں اعلیٰ مقام رکھتا ہے۔ سماء / اے پی پی

 

WRITER

Litrature

Bano Qudsiya

ASHFAQ AHMED

Tabool ads will show in this div