جنسی زیادتی کےشکارافرادکوانصاف مل گیا،قانون سازی ہوگئی

rape13

کراچی: زیادتی کیسز میں لازمی ڈی این اے ٹیسٹ کا ترمیمی بل اتفاق رائے سے منظورکرلیاگیا۔

سندھ اسمبلی میں کوڈآف کرمنل پروسیجرترمیمی بل پیش کیاگیا۔ زیادتی کے کیسز مین ڈی این اے ٹیسٹ لازمی قراردیاگیاہے۔قانون کے تحت پولیس افسر لیب کے ذریعے ڈی این اے کرانے کاپابندہوگا۔زیادتی کے شکار فرد کا72 گھنٹے میں ڈی این اے کراناہوگا۔اگر72 گھنٹے میں ڈی این اےسیمپل جمع نہ ہوسکے تو سات روزمیں کرناہوگا۔

ڈی این اے سیمپل اور اس کی رپورٹس کو افشا نہیں کیاجائے گا۔ڈی این اے سیمپل کاریکارڈ، لیب یااسپتال میں رکھاجائے گا۔ڈی این اے سے متعلق تمام نتائج سینٹرل پولیس آفس میں رکھے جائینگے۔بل کے متن میں بتایاگیاہےکہ گریڈ انیس کا پولیس افسر ڈی این اے ریکارڈز رکھے گا۔ سماء

Sindh assembly

rape cases

Tabool ads will show in this div