پاکستانی شائقین اورکرکٹ ٹیم

Feb 02, 2017

pak sports cricket

پہلے نیوزی لینڈ کے ہاتھوں پاکستانی شاہینوں کو ٹیسٹ میچزاور پھرایک روزہ میچز میں بھی منہ توڑ شکست کا سامناکرنا پڑا۔ پھرآسٹریلین کینگروز کے بیٹسمینوں نے ٹیسٹ اور پھر ون ڈے سیریز میں ایسی دھلائی کی کہ پاکستانی کپتان اظہرعلی کو اس غضب ناک شکست کی بھینٹ چڑھانے کا ارادہ کرلیا گیا ۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کی ان حالیہ بدترین شکستوں کے بعد پھر بھی پاکستانی عوام ایسے ڈھیٹ اور شیدائی ہیں۔ جو ہر میچ ایسے انہماک اور تجسس سے دیکھتے ہیں جیسے پاکستانی ٹیم کبھی کوئی میچ ہاری ہی ناہو اور ناصرف پاکستانی بالرز بلکہ بیٹسمین بھی ہمیشہ پاکستانیوں کی توقعات کے عین مطابق کھیل پیش کرتے رہے ہوں۔

cricket pak

پاکستانی کرکٹ تاریخ میں ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ کوئ سیریز ہارنے کے بعد ٹیم سمیت پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہو۔ماضی میں بھی جب پاکستانی ٹیم کسی بھی حریف ٹیم سے ہار کر یا کسی بھی ٹورنامنٹ میں بری کارکردگی کی وجہ سے ہارتی ہے تو کبھی کپتان، کبھی کوچ اور کبھی چیف سیلکیٹر کو ٹیم کی کارکردگی کاذمہ دارٹہراتےہوئے فارغ کردیا جاتا ۔

اس طرح ناکامیوں کا یہ سلسلہ دہائیوں سے جاری ہے اور موجودہ حالات دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ سلسلہ اگلی کئی دہائیوں تک جاری رہیگا۔اگر دیکھا جائے تو پاکستانی کرکٹ ٹیم کی ناکامیوں کے بعد کی جانیوالی برطرفیوں سے نقصان صرف کرکٹ کو ہی ہوتا ہے۔بے شک اس کے کہ کرکٹ کے مستقبل کو دیکھتے ہوئے ناصرف پلیئرز کو بلکہ کوچ سمیت دیگر منتظمین کو بھی حوصلہ دیا جائے۔ ہوتا یہ ہے کہ عوام کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کیلئے بری کارکردگی دکھانے والے پلیئرز، کوچ اور چیف سیلیکٹر کی چھٹی کروادی جاتی ہے۔ جس کے بعد کچھ نئے پلیئرز کے ٹیم میں آنے اور کوچ اور چیف سیلکیٹر کی تعیناتی کے بعد پاکستانی کرکٹ ٹیم پھر سے ہارنے اگلے دورے پر روانہ ہوجاتی ہے۔ جہاں پھر توقعات کےعین کبھی بیٹسمین نہیں چلتے اور کبھی بالرز کی ٹھکائی کی وجہ سے پاکستان کو شکست پر شکست کا سمانا کرنا پڑتا ہے۔ یوں یہ شکستوں کا یہ سلسلہ دہائیوں سے جاری ہے۔

ICC cricket australia pak

پاکستانی ٹیم کی شکستوں کی وجہ صرف کرکٹ بورڈ یا کھلاڑی نہیں بلکہ پاکستانی عوام بھی ہیں۔ جو کرکٹ کے میچ کو زندگی اور موت کا مسئلہ بنالیتے ہیں۔ کرکٹ کے کھیل کو کھیل سمجھنے کی بجائے اپنی انا کا مسئلہ بنالیتے ہیں۔دیکھا جائے تو دیگر معاملات کی طرح پاکستانی کرکٹ کے معاملے میں بھی انتہا پسند ہی ثابت ہوئے ہیں جن کا کرکٹ سے شدید لگاؤ ان کے انتہا پسند ہونے کا ثبوت ہے۔

پاکستانیوں کی انتہا پسندی، انتہا پر اس وقت  پہنچتی ہے جب پاکستان کا میچ ہمسایہ ملک بھارت کی حریف ٹیم سے پڑ جائے۔ پھر کیابچے، کیا جوان اور کیا بوڑھے، سب کے دماغوں پر پاکستان اور بھارت کا میچ ہوتا ہے۔

Pak australia cricket sports

یہ تو شکر ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدہ تعلقات کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان ہوم سیریز کا انعقاد نہیں ہوتا، ورنہ پاکستانیوں کی اکثریت سال میں کئی مہینے پاکستان اور بھارت کے میچوں کے درمیان ہی پھنسی رہتی۔

پاکستانی کرکٹ شیدائیوں کو دیکھتے ہوئے کرکٹ بورڈ کو بھی چاہیئے کہ بورڈ سیاسی مداخلت کو رد کرتے ہوئے پاکستانی کرکٹ کی بہتری کیلئے کام کرے۔ یہ حقیقت ہے کہ کرکٹ ایک کھیل ہے۔ لیکن پاکستانیوں کا کرکٹ کے ساتھ لگاؤ اور شیدائیت پاکستانیوں کو ہر میچ دیکھنے اور ہر میچ جیتنے کی دعا کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ ایسے حالات میں ناصرف کھلاڑیوں بلکہ بورڈ کو بھی عوام کی خواہشات کو مدّنظر رکھتے ہوئے کھیلنا چاہیئے۔ کیونکہ پاکستانی ٹیم جتنا مرضی برا کھیل لے۔ جتنے مرضی میچ ہار جائے۔ بھارت سے جتنی مرضی بار شکست کا سامنا کرنے پڑے پاکستانیوں نے کرکٹ میچز دیکھنے نہیں چھوڑنے۔

Tabool ads will show in this div