معاشرتی بگاڑ کے اسباب

young-child-stress-parents

تحریر: شکیلہ سبحان شیخ

ایک صاحب کی آواز گندی گندی گالیوں کے ساتھ ہماری سماعت سے ٹکرائی دھیان دینے پر معلوم ہوا کہ وہ ایک بزرگ کو جو شاید انکا ملازم تھا اس پر چیخ رہے تھے۔ یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوا کیا کسی بزرگ سے اس طرح بات کی جاتی ہے؟ چاہے وہ ملازم ہی کیوں نا ہو یہ دیکھ کر ماضی کی یادوں سے اپنے استاد محترم کی بات یاد آئی۔ اصل تربیت وہی ہے جو اپنے عمل سے اپنے چھوٹوں کو سیکھائی جائے اور وہ تب ممکن ہوگا جب آپ کا کردار اچھا ہوگا۔ جب ایک چھوٹا بچہ دنیا میں آتا ہے، اتنا چھوٹا سا ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ اُس بچے کو دل اتنا بڑا دیتا ہے کہ وہ اپنی چیزیں ہر کسی کے ساتھ بانٹتا ہے پھر جب وہ بچہ بڑا ہوتا ہے تو دل چھوٹا ہو جاتا ہے، لیکن دل کیوں چھوٹا ہوتا ہے؟ اس کے تین عوامل ہوتے ہیں۔ ہمیں معاشرے میں وہ کردار ہی نہیں ملتے جن کے پاس کردار ہیں، گھر میں ماں باپ کی شکل میں، کلاس روم میں استاد کی شکل میں، معاشرے میں مثالی کردار کی شکل میں۔

image

ہم جس تعلیمی ادارے میں کام کرتے ہیں وہاں اکثر سر مزمل کے پاس والدین آکر پوچھتے ہیں "بچوں کی اچھی تربیت کیسے کی جائے؟ تو وہ کہتے ہیں خدارا سب سے پہلے خود ایک اچھے انسان بنیں۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے آپ ایک امرود کا پودا لگاﺅ اور دُعا کئے جاو یا اللہ آم لگ جائے۔ امرود کے پودے سے امرود ہی نکلے گا"۔ جس گھر میں ماں ڈنڈی مارتی ہو، باپ سے جھوٹ بولتی ہو اور باپ دودو روپے کی خاطر لڑجائے اور گالیاں دیتا ہو اور جھوٹ بولتا ہو لیکن جب وہی عمل بچہ کرتا ہے باپ ڈانٹتا ہے کہ یہ غلط ہے ۔ ۔ بری بات ۔ ۔ گالیاں نہیں دیتے، جھوٹ نہیں بولتے، والدین خود نماز نہیں پڑھتے اور بچوں سے کہتے ہیں نماز پڑھو۔ کیا وہ بچہ اُنکی بات پر عمل کرے گا؟ جب بچہ گھر میں سب کچھ دیکھ رہا ہے تو یاد رکھے سنانے سے تربیت نہیں ہوتی بلکہ کرکے دیکھانے سے ہوتی ہے، آنکھوں سے دیکھ کر کردار سے متاثر ہو کر ہی اچھا عمل کیا جاتا ہے۔

بہت ضروری ہے کہ معاشرے میں سدھار کے لئے آنے والی نسل کی اصلاح کی جائے، اصلاح کیسے ہوگی؟ جب لوگ اپنے بچوں کی پرورش حرام کے پیسے سے کریںگے تو کیا اولاد نیک ہو گی؟ ہمارے پاس جو کرنسی ہوتی اُس پر لکھا ہوتا ہے "حلال رزق عین عبادت ہے" لیکن ہمارے معاشرے میں اب کوئی کام رشوت کے بغیر نہیں ہوتا۔ بدعنوانی کا خاتمہ صرف تربیت کے مرہون منت ہے۔ ہمارے معاشرے میں تربیت ہی نہیں ہم نے تعلیم علیحدہ اور تربیت علیحدہ کردی ہے۔ ہمارے پاس وہ سارے نظام موجود ہیں جو "نمبروں" کی شکل میں "جی پی اے" شکل میں ہے۔ یہ سب ایک اچھا بندہ نہیں ایک رٹو طوطا بناتے ہیں۔ ہمارے پاس اداروں کی بھر مار جو 10,12 لاکھ کی ڈگری دے دیتے، پھر بعد میں بندے نے پیسے بھی تو پورے کرنے ہوتے ہیں۔ کیا کرے بندہ کیوں نہ کرے کرپشن ۔ ۔ ۔

parenttrain_hero

ہمارے پاس ایک بڑی تعداد ایسے نوجوانوں کی ہے جو صرف ڈگری رکھتے ہیں اور تعلیم حاصل کرنے کے بعد بس یہ چاہتی ہے کہ کمانا ہے جتنے پیسے تعلیم حاصل کر نے میں لگائے وہ پورے کرنے ہیں۔ سود سمیت جب سوچ یہ ہوگی تو ہم کیسے کردار کی بات کرے گے۔ ہمیں اشد ضرورت ہے بڑے کردار والوں کو سامنے لانے کی۔ ہمیں ایسے بڑے مثالی کردار والوں کو عوام الناس سے روشناس کرانے کی ضروت ہے۔ جب تک ہمارا بچہ نہیں سمجھے گا کہ کردار والے کی عزت ہے وہ کردار والا نہیں بننے گا۔ بڑے افسوس کے ساتھ ہمارے بچے کے ذہن میں بیٹھا دیا جاتا ہے کہ ڈنڈے والے کی عزت ہے، پیسے والے کی عزت، بڑی بڑی گاڑیوں میں بیٹھنے والے کی کچل دینے والے عزت ہے۔ جب ہم مثالی کردار یہ پیش کرے گے تو آنے والی نسل سے یہ امید کیسے کرسکتے ہیں کہ وہ باکردار ہونگے؟ سب سے پہلے ہم خود کو مثالی کردار بنائے اور اچھے کردار والوں کی عزت کرے۔ نوجوان نسل کو تعلیم کے ساتھ تربیت کی اشد ضرورت ہے تبھی اس معاشرے میں مثبت اثرات مرتب ہونگے۔

social harm

Tabool ads will show in this div