پاناماکیس فیصلہ کن مرحلےمیں داخل،حسین نوازکی آف شورکمپنزکاریکارڈطلب

Jan 30, 2017
panama-case-PM-Nawaz [video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2016/01/Sc-Panama-Case-isb-Pkg-30-01.mp4"][/video] اسلام آباد : پاناما کیس کی سماعت کے دوران لارجر بینچ نے حسین نواز کے وکیل سلمان اکرم راجہ کے دلائل پر سخت سوالات کر ڈالے، معزز ججز نے پوچھا  کوئی وضاحت نہیں کہ دبئی فیکٹری لگانے کے لیے پیسہ کہاں سے آیا؟ کیا اونٹ کی پیٹھ پر رقم منتقل کی گئی؟ آپ کو ثابت کرنا ہے کہ جائیداد حسین نواز کی ہے، نواز شریف کا لندن فلیٹس سے تعلق نہیں، آپ کہنا چاہتے ہیں کہ بیل کو سینگوں سے پکڑا جائے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان میں پاناما کیس سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت ہوئی، جسٹس آسف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ سپریم کورٹ آف پاکستان میں جاری پاناما لیکس کی درخواستوں کی سماعت کے دوران قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس میں اسحٰق ڈار کی معافی سے متعلق طلب کیا گیا ریکارڈ عدالت میں جمع کروادیا گیا۔ Nawaz-Sharif-vs-Imran-Khan نیب ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے جسٹس آصف کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ اسحاق ڈار نے چیئرمین نیب کو معافی کی تحریری درخواست خود دی تھی اور معافی مل جانے کے بعد وہ ملزم نہیں رہے۔ اس سے قبل جمعہ (27 جنوری) کو کیس کی سماعت کے دوران وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے وکیل شاہد حامد نے عدالت کو آگاہ کیا تھا کہ ان کے مؤکل نے 25 اپریل 2000 کو مجسٹریٹ کے سامنے اعترافی بیان کی تردید کردی ہے، جسے مخالفین کی جانب سے ثبوت قرار دیا جاتا ہے۔ Panama-640x360 جس کے بعد عدالت نے معاملے کو اہم قرار دیتے ہوئے پراسیکیوٹر جنرل نیب سے حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس میں اسحٰق ڈار کے اعترافی بیان سے متعلق ریکارڈ طلب کیا تھا اور پراسیکیوٹر جنرل نیب کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ عدالت کو اس بات سے آگاہ کریں کہ اسحٰق ڈار کا بیان معافی دینے کے بعد ریکارڈ کیا گیا یا پہلے؟ نیب کی جانب سے عدالت عظمیٰ میں جمع کرائے گئے ریکارڈ میں بتایا گیا کہ اپریل 2000 میں اسحٰق ڈار کی جانب سے معافی کی درخواست دی گئی جسے چیئرمین نیب نے 21 اپریل کو منظور کرلیا، جس کے بعد 24 اپریل 2000 کو تحقیقاتی افسر نے بیان ریکارڈ کرنے کی درخواست دی اور 25 اپریل کو اسحاق ڈار کا اعترافی بیان مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ ہوا۔ Ishaq Dar Pc Isb Vo 02-09 اسحاق ڈار کے وکیل شاہد حامد کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ اور انٹراکورٹ میں اسحٰق ڈار کی نااہلی کی درخواستیں خارج ہوئیں جبکہ وزیراعظم نواز شریف اور دیگر کے خلاف دائر ریفرنسز خارج کرنے کا فیصلہ رپورٹ کیا جا چکا ہے۔ جسٹس آصف کھوسہ نے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا فیصلے میں ریفرنس خارج اور تفتیش نہ کرنے کا کہا گیا تھا؟ جس پر شاہد حامد نے عدالت کو بتایا کہ دوبارہ تفتیش کروانے کے معاملے پر 2 رکنی بنچ میں اختلاف تھا اس لیے معاملے کی سماعت ریفری جج نے کی۔ جسٹس آصف کھوسہ نے سوال کیا کہ منی لانڈرنگ کیس میں ریفری جج کو اپنی رائے پر فیصلہ دینا تھا؟جس پر شاہد حامد نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ریفری جج نے نیب کی دوبارہ تحقیقات کی درخواست مسترد کی تھی۔جسٹس گلزار کا اس موقع پر کہنا تھا کہ کیا اس عدالتی فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا؟شاہد حامد نے انہیں بتایا کہ یہ فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج نہیں کیا گیا اور عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کا وقت ختم ہو چکا۔ جسٹس آصف کھوسہ نے شاہد حامد کو ہدایت دی کہ وہ اپنے دلائل مکمل کرلیں، جس کے بعد پراسیکیوٹر جنرل نیب سے اس متعلق پوچھا جائے گا۔ Panama Case Sc Isb 25-01 جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار کا اعترافی بیان وعدہ معاف گواہ بننے کے بعد ریکارڈ ہوا۔ شاہد حامد نے عدالت کو بتایا کہ اسحاق ڈار پر منی لانڈرنگ کیس ختم ہوگیا ہے اور اب صرف اس الزام کی بنیاد پر انہیں نااہل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ 25 سال پرانا معاملہ ہے جسے 13 سے زائد ججز سن چکے ہیں، جس وقت ان کے مؤکل پر منی لانڈرنگ کا الزام تھا اس وقت وہ کسی عوامی عہدے کے مالک نہیں تھے۔شاہد حامد نے عدالت کو مزید بتایا کہ نیب کے ریکارڈ کے مطابق اسحٰق ڈار اب ملزم نہیں رہے، جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ وعدہ معاف گواہ بننے والے کی حفاظت کے لیے اسے تحویل میں رکھا جاتا ہے۔ شاہد حامد نے عدالت کو بتایا کہ لاہور ہائی کورٹ کے 5 ججز نے کہا کہ ایف آئی اے کو بیرونی اکاؤنٹس کی تحقیقات کا اختیار حاصل نہیں۔ جسٹس اعجاز افضل نے وکیل سے سوال کیا کہ کیا بیان ریکارڈ کرنے والا مجسٹریٹ احتساب عدالت میں پیش ہوا؟ جس پر شاہد حامد نے بتایا کہ اس وقت نیب قوانین کے تحت مجسٹریٹ کا احتساب عدالت میں پیش ہونا ضروری نہیں تھا۔ اسحٰق ڈار کے وکیل شاہد حامد کا یہ بھی کہنا تھا کہ وعدہ معاف گواہ بننے والے کا بیان حلفی اس کے خلاف استعمال نہیں ہوسکتا۔ 89063523_panama_index_draft2-680x383 جس پر جسٹس اعجاز افضل نے جواب دیا کہ وعدہ معاف گواہ بننے کے بعد بیان اسحاق ڈار نہیں البتہ وزیراعظم کے خلاف استعمال ہوسکتا ہے۔جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ وعدہ معاف گواہ بننے کے بعد اسحٰق ڈار کے خلاف نااہلی کا حکم جاری نہیں کیا جا سکتا۔شاہد حامد کا کہنا تھا کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 26 کے تحت اسحٰق ڈار کا دوبارہ ٹرائل نہیں کیا جاسکتا۔جس پر ججز کا کہنا تھا کہ یہاں ہم اسحاق ڈار کے اعترافی بیان پر قانون کے علاوہ غور نہیں کریں گے اور اسحاق ڈار کیس پر ڈبل جیوپرڈی کا اصول لاگو ہوگا۔عدالت کا مزید کہنا تھا کہ اسحٰق ڈار کو اس کیس میں معافی کے بعد سزا نہیں ہوئی اور شاہد حامد سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس نکتے پر دلائل دیں کہ ایک شخص کا 2 مرتبہ ٹرائل ہو سکتا ہے یا نہیں۔ شاہد حامد نے عدالت کو بتایا کہ مشرف دور میں رانا ثناء اللہ کا سر اور بھنویں منڈوا دی گئیں تھیں جبکہ انہوں نے کسی بینک یا مالیاتی ادارے کو ایک روپیہ بھی ادا نہیں کرنا تھا اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی مقدمہ درج تھا۔ سماعت کے دوران میاں شریف کی مبینہ ہدایت پر فلیٹس پانے والے پوتے حسین نواز عدالت کے روبرو دادا کی جائیداد کا حساب کتاب دینے سے انکاری رہے، اس موقع پر عدالت نے قرار دیا کہ حسین نواز اپنی پوزیشن واضح کرنے کیلئے آف شور کمپنیوں کا ریکارڈ سامنے لائیں۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ فلیٹس حسین نواز کے ہیں تو اس کی ملکیت کا قانونی جواز فراہم کرنا بھی انہی کی ذمہ داری ہے۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ یہ بھی ثابت کریں کہ نواز شریف کا فلیٹس سے کوئی تعلق نہیں۔ الزام ہے کہ حسین بے نامی دار اصل مالک نواز شریف ہیں۔ آف شور کمپنیوں کا ریکارڈ عدالت کے سامنے لائیں۔ سلمان اکرم کا کہنا تھا کہ میاں شریف کی ستر،اسی اور نوے کی دہائی کا حساب حسین نواز کیسے دیں۔ ججوں نے پوچھا کہ گلف سٹیل ملز کے لیے قرضہ کس سے لیا گیا؟ قرضہ کس چیز پر لیا گیا۔ اس کی وضاحت نہیں سب کچھ بارہ ملین درہم سے بنا ثابت کریں کہ دوبئی مل کی فروخت سے اتنی رقم ملی۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا  کہ طارق شفیع نے بارہ ملین درہم فہد بن جاسم کو نقد دیے۔ ججوں نے کہا کہ کیا رقم اونٹ کی پیٹھ پر رکھ کر دوبئی سے قطر لے جائی گئی۔ رقم ٹرانسفر کیلئے بینک چینل استعمال کیوں نہیں کیا۔ نیب نے اسحاق ڈار کی معافی سے متعلق ریکارڈ عدالت میں جمع کروایا۔ جسٹس کھوسہ نے استفسار کیا کہ اسحاق ڈار کو معافی اعترافی بیان پر دی گئی۔ کیا اعترافی بیان ختم ہوا تو معافی بھی ختم ہو جاتی ہے؟ کیا اعترافی بیان نواز شریف کے خلاف استعمال نہیں ہو سکتا؟ عدالت نے اسحاق ڈار کیس میں اپیل دائر نہ کرنے کے فیصلے کے منٹس طلب کر لئے۔ میاں شریف کی جائیداد کی تقسیم کی تفصیلات بند لفافے میں عدالت میں جمع کرا دی گئیں۔ SC PANAMA CASE HEARING WALK ISB 13-01 وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسن اور حسین نواز کے وکیل سلمان اکرم راجا نے عدالت کے سامنے اپنے دلائل میں کہا کہ ان کے کیس کے تین پہلو ہیں،اور وہ تینوں پہلوؤں پر دلائل دیں گے۔ سلمان اکرم راجا کے مطابق حسین نواز لندن فلیٹس کے بینیفیشل مالک ہیں،اور نواز شریف کا لندن فلیٹس سے تعلق نہیں۔ سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ الزام یہ ہے کہ حسین نواز بے نامی دار ہیں اور اصل مالک نواز شریف ہیں، جس پر جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ آپ کو ثابت کرنا ہوگا کہ جائیدادیں آپ کی ہیں اور نواز شریف لندن فلیٹس کے مالک نہیں۔ سلمان اکرم راجا نے عدالت کو بتایا کہ پیسہ پاکستان سے دبئی نہیں گیا اور اگر کسی کے پاس حقائق ہیں تو سامنے لائے، جسٹس عظمت نے حسین نواز کے وکیل کو ہدایت دی کہ وہ آہستہ آہستہ کیس کو آگے بڑھائیں اور ججز کے ذہن کو اس حوالے سے کلیئر کریں جس پر سلمان اکرم راجا نے عدالت کو بتایا کہ انہیں کوئی جلدی نہیں، اس موقع پر جسٹس کھوسہ نے سلمان اکرم کو کہا کہ جو کہانی آپ سنا رہے ہیں وہ پہلے بھی سنی جاچکی ہے، سلمان اکرم راجا نے عدالت کو بتایا کہ وہ صرف فیکٹری سے متعلق معاہدے پڑھ کت سنا رہے ہیں۔ جسٹس آصف کھوسہ نے حسین نواز کے وکیل سے پوچھا کہ تقریروں اور بیانات میں دبئی جدہ اور لندن کا ذکر تھا اور وزیراعظم نے خود کہا تھا کہ ثبوتوں کا انبار ہے ،سلمان اکرم کا کہنا تھا کہ عدالت میں معاملہ چار فلیٹوں کا ہے، جسٹس عظمت کے مطابق طارق شفیع کے پہلے بیان حلفی میں ذکر نہیں کہ فیکٹری واجبات کیسے ادا ہوئے جبکہ دوسرے بیان حلفی میں طارق شفیع نے بتایا تھا کہ واجبات اقساط میں قطری کو ادا کیے گئے، جسٹس عظمت نے سوال کیا کہ کیا اونٹوں پر لاد کر یہ رقم انہیں پہنچائی گئی تھی؟، جس پر سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ نقد رقم پر دنیا بھر میں کاروبار ہوتا ہے اور اس کا غلط مطلب نہ لیا جائے، جسٹس عظمت نے وکیل سے سوال کیا کہ جن سوالات کے جواب نہ آئیں تو انکا کیا کیا جائے؟ عدالتی ریمارکس پر حسین نواز کے وکیل سلمان اکرم کا کہنا تھا کہ مجھ سے حسن اور حسین نواز کے متعلق سوال کیا جائے، بعد ازاں کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی گئی۔ حسن اور حسین نواز کے وکیل کل اپنے دلائل کا دوبارہ آغاز کریں گے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف، جماعت اسلامی، شیخ رشید، مریم نواز کے وکلاء معزز عدالت کے سامنے اپنے دلائل مکمل کر چکے ہیں۔ سماء

JAMAT E ISLAMI

aitzaz ahsan

MARYAM NAWAZ

Panama leaks

hussain nawaz

Offshore Companies

London Flats

panama case

salman akram raja

Qatar letter

Tabool ads will show in this div