آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 میں ترامیم پر غور

Jan 25, 2017

PARLIAMENTARIANS ON APS ISB PKG Hamad 15-12

اسلام آباد : انتخابی اصلاحات کی پارلیمانی کمیٹی کی ذیلی کمیٹی نے آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 میں ترامیم پر غور شروع کردیا جبکہ کمیٹی کی رکن انوشہ رحمان کا کہنا ہے کہ سینیٹ انتخابات کے دوران ہارس ٹریڈنگ کو روکنے کیلئے کمیٹی نے مشاورت مکمل کرلی۔

انوشہ رحمان کا کہنا ہے کمیٹی اراکین نے اتفاق کیا ہے کہ سینیٹ ارکان کے انتخاب کیلئے الیکشن نہ کرایا جائے بلکہ تمام سیاسی جماعتیں متعلقہ اسمبلیوں میں اپنے ارکان کی تعداد کے لحاظ سے سینیٹ امیدواروں کی ترجیحی فہرست الیکشن کمیشن کو جمع کرائیں اور الیکشن کمیشن پرانے سینیٹرز کی مدت پوری ہونے کے بعد انتخاب کرانے کی بجائے سیاسی جماعتوں کی فراہم کردہ فہرستوں کے مطابق نئے سینیٹرز کا نوٹیفکیشن جاری کردے تاہم سینیٹرز کے متنخب ہونے کے اس نئے طریقہ کار پر ابھی سینیٹ سے مشاورت کرنا باقی ہے۔

ذیلی کمیٹی کا اجلاس بدھ کو کنوینئر زاہد حامد کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاﺅس میں منعقد ہوا، جس میں کمیٹی کے اراکین سیّد نوید قمر، انوشہ رحمان، ڈاکٹر شیریں مزاری، شفقت محمود، ڈاکٹر عارف علوی، سیکریٹری الیکشن کمیشن، سیکریٹری قانون سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کے بعد کمیٹی کی رکن وزیر مملکت انوشہ رحمان نے صحافیوں کو بتایا کہ ذیلی کمیٹی نے آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 میں ترامیم پر غور شروع کردیا ہے، اس حوالے سے تمام سیاسی جماعتیں اپنی اپنی تجاویز دے رہی ہیں، مشاورت کی جارہی ہے کہ آرٹیکل 62، 63 کو موجودہ شکل میں ہی رہنے دیا جائے یا اسے پرانی شکل میں بحال کیا جائے۔

انوشہ رحمان کا کہنا ہے کہ کمیٹی نے اتفاق کیا ہے کہ دوہری شہریت رکھنے والا شخص پارلیمنٹ کا رکن نہیں بن سکتا، کمیٹی میں الیکشن کے حوالے سے آئینی ترامیم، تارکین وطن کو ووٹ کا حق دینے اور خواتین کیلئے ووٹنگ کی کم از کم شرح مقرر کرنے کے حوالے سے مشاورت ابھی جاری ہے۔ اے پی پی

SENATE

parliamentarian

Legislation

Anusha Rehman

Article 62

Amendments

Tabool ads will show in this div