پانامہ کیس کی سماعت میں شگوفے

Jan 24, 2017
[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2016/01/Panama-Shagufay-Isb-Pkg-24-01.mp4"][/video]

SC PANAMA 1200 PKG 23-01 ALI

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت کے دوران جماعت اسلامی کے وکلا کے دلائل پر ججز کے فی البدیہہ جملوں نے عدالت کو زعفران زار بنائے رکھا۔

جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف نے ظفر علی شاہ کیس کا حوالہ دیا تو جسٹس شیخ عظمت نے فقرہ کس دیا۔ آپ نے اپنے مؤکل کو جتنا نقصان پہنچانا تھا پہنچا دیا،اب یہ کتاب بند کردیں۔

جسٹس کھوسہ نے تسلی دی کہ جج صاحب نے ہلکے پھلکے انداز میں بات کی ہے۔ توفیق آصف نے جواب دیاکہ ہلکی بات کی مجھے بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے۔ عدالت شاید آج میرے دلائل سننا ہی نہیں چاہتی۔ جس پر جج صاحب نے کہا کہ آپ چاہیں تو گیارہ سال دلائل دیں مگر ایک بات بار بار نہ کریں۔

زیرکفالت ہونے کی بات چھڑی تو معاون وکیل شیخ احسن الدین نے کہاکہ لغت کے مطابق دوسروں سے تائید یا سہارا لینے والا زیر کفالت ہوتا ہے۔ اس پر جسٹس کھوسہ کی رگ ظرافت پھڑک اٹھی۔ انھوں نے کہاکہ توفیق آصف نے بھی مقدمے میں آپ کا سہارا لیا ہے۔ کیا وہ بھی آپ کے زیر کفالت ہیں۔ ان ریمارکس پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے۔

شیخ احسن الدین نے قطری شہزادے کے خط کو ایک شعر میں بیان کیا اور کہاکہ

خط لکھیں گے گرچہ مطلب کچھ نہ ہو

ہم تو عاشق ہیں تمہارے نام کے

جسٹس شیخ عظمت نے اس پر بھی فوراً ریمارکس دیے۔ شیخ صاحب یہ شعر آپ کی عمر کے مطابق نہیں۔ سماء

Panama leaks

panama papers

jamat islami

panama case

Tabool ads will show in this div