ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستان

Jan 23, 2017
WASHINGTON, DC - JANUARY 20: (L-R) U.S. President Donald Trump takes the oath of office as his wife Melania Trump holds the bible and his son Barron Trump looks on, on the West Front of the U.S. Capitol on January 20, 2017 in Washington, DC. In today's inauguration ceremony Donald J. Trump becomes the 45th president of the United States.   Chip Somodevilla/Getty Images/AFP

جب پوری دنیا امریکی انتخابات میں ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن کو جتوا رہی تھی۔ ایسے وقت میں ریپبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت نے سب کو چونکا دیا۔ پورے امریکہ میں مظاہرے ہوئے۔ نومنتخب صدر کو انتہا پسند اور امریکی جمہوریت کیلئے خطرہ گردانا گیا۔مگر انتخابی نتائج خلافِ توقع آنے اور امریکہ میں ہونیوالے مظاہروں کے باوجود  نئے منتخب شدہ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کے صدرکا حلف اٹھا لیا۔

امریکہ کے پینتالیسویں صدر کی تقریب حلف برداری سے پہلے بھی مظاہرے کئے گئے۔ مگر امریکہ کی مضبوط جمہوریت پر ناتو انتخابی نتائج آنے کے بعد کوئی اثر ہوا اور نا ہی حلف برداری کی تقریب سے پہلے ہونے والے مظاہروں کا کوئی اثرہوا۔اب جبکہ امریکہ میں نئے صدر عہدہ سنبھال چکے ہیں تو دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان بھی ٹرمپ حکومت کے ساتھ تعلقات بڑھانے کا خواہاں ہے۔

People take a photo as City Hall is bathed lighted in pink after thousands of people marched to protest President Donald Trump and to show support for women's rights in San Francisco on January 21, 2017. Hundreds of thousands of protesters spearheaded by women's rights groups demonstrated across the US to send a defiant message to US President Donald Trump. / AFP PHOTO / Josh Edelson

دیگر ممالک کی طرح پاکستان کے بھی چند ایسے تنازعات ہیں۔ جن میں نئے منتخب ہونے والے امریکی صدر کا تعاون اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ریپبلکن پارٹی کے منتخب کردہ نائب صدر مائیک پینس کا ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ چاہیں گے کہ وہ دنیا کے ساتھ تعلقات بڑھائیں لیکن ایسا وہ امریکہ کی شرائط پر کریں گے۔امریکی  نائب صدر کے اس بیان سے ڈونلڈ ٹرمپ کی مستقبل میں ممکنہ سفارتی پالیسیوں کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان کوبھی خطے کے حالات اور دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ کو مدّ نظر رکھتے ہوئے نئی امریکی حکومت کے ساتھ تعلقات کو دوبارہ سے بہتربنانا ہوں گے۔

Demonstrators protest  near the White House in Washington, DC, for the Women's March on January 21, 2017. Hundreds of thousands of protesters spearheaded by women's rights groups demonstrated across the US to send a defiant message to US President Donald Trump. / AFP PHOTO / Andrew CABALLERO-REYNOLDS

افغانستان میں دہشتگردی کے خلاف لڑی جانیوالی مشترکہ جنگ میں حلیف ہونے کے باوجود خطے کے دیگر ممالک کی وجہ سے امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں دڑاریں پڑچکی ہیں۔افغانستان میں کمزور حکومت اور بھارت کی افغان علاقوں سے پاکستان میں دخل اندازی ایسے معاملات ہیں۔ جن پر پاکستان چاہے گا کہ نئی امریکی حکومت نوٹس لیتے ہوئے اقدامات کرے۔

سابق امریکی صدر براک اوبامہ کے دو بھارتی دوروں کے دوران امریکہ اور بھارت کے مابین ہونیوالے معاہدوں کی وجہ سے بھی پاکستان میں بہت بے چینی پائی جاتی ہے۔بھارت اور امریکہ کے درمیان ہونیوالے سول نیوکلیئر معاہدے کی وجہ سے خطے میں بگڑ جانے والا ایٹمی توازن، امریکہ کے پاکستان کے ساتھ ایٹمی معاہدہ ہونے کی صورت میں ہی متوازن ہوسکتا ہے، جس کیلئے پاکستانی حکومت نئے امریکی حکومت سے تعاون کی طلبگار ہے۔

اس کے علاوہ ہمسایہ ملک بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدہ تعلقات کو دیکھتے ہوئے پاکستان چاہے گا کہ امریکی صدر بھارت اور پاکستان کے درمیان منقطع مذاکرات کو دوبارہ سے شروع کروانے کیلئے بھارت پر زور ڈالیں۔پاکستان پرامید ہے کہ امریکہ کے نئے منتخب ہونیوالے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان،  بھارت  اور افغانستان کے درمیان ثالث کا کردار نبھاتے ہوئے باہمی تنازعات کو حل کروانے میں تعاون کریں گے۔ ناصرف بھارت سے بلکہ افغانستان سے بھی کشیدہ سفارتی تعلقات نئی امریکی حکومت کی دخل اندازی سے بہتر ہوسکتے ہیں۔

US President-elect Donald Trump speaks during a press conference January 11, 2017 at Trump Tower in New York. Trump held his first news conference in nearly six months Wednesday, amid explosive allegations over his ties to Russia, a little more than a week before his inauguration. / AFP PHOTO / TIMOTHY A. CLARY

پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی تنازع مسئلہ کشمیرسے متعلق نائب امریکی صدر مائیک پینس کہہ چکے ہیں کہ صدر ٹرمپ باخوبی جانتے ہیں کہ بھارت اور پاکستان دو ایٹمی طاقتیں ہیں۔ جب ان کی حکومت آئیگی تو وہ چاہیں گے کہ دونوں ممالک کے درمیان امن کو زیادہ بہترکرسکیں۔نائب صدر کے اس بیان کے تناظر میں پاکستان کی یہ کوشش ہوگی کہ دہائیوں پرانے مسئلہ کشمیر کو نئے امریکی صدر کی مدد سے حل کروایا جائے۔ جس کی وجہ سے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات آئے روز تناؤ کا شکار رہتے ہیں۔

US President Barack Obama speaks during a press conference in the Brady Press Briefing Room of the White House in Washington, DC, November 14, 2016. President-elect Donald Trump has vowed to move aggressively on a conservative agenda in filling Supreme Court vacancies, cracking down on immigration and cutting taxes, but also sought to reassure worried Americans they have nothing to fear from his presidency.  / AFP PHOTO / SAUL LOEB / “The erroneous mention[s] appearing in the metadata of this photo by SAUL LOEB has been modified in AFP systems in the following manner: [US President Barack Obama speaks during a press conference in the Brady Press Briefing Room of the White House in Washington, DC, November 14, 2016.] instead of [US President-elect Donald Trump's campaign manager Kellyanne Conway speaks to the press as she leaves from the Trump Tower in New York on November 14, 2016. ]. Please immediately remove the erroneous mention[s] from all your online services and delete it (them) from your servers. If you have been authorized by AFP to distribute it (them) to third parties, please ensure that the same actions are carried out by them. Failure to promptly comply with these instructions will entail liability on your part for any continued or post notification usage. Therefore we thank you very much for all your attention and prompt action. We are sorry for the inconvenience this notification may cause and remain at your disposal for any further information you may require.”

سابق صدر اوباما کے دوسرے دور میں متعدد بار پاکستان کو دی جانیوالی امداد کو مختلف شرائط سے مشروط کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ پاکستان کی یہ کوشش ہوگی کہ صدر ٹرمپ کی حکومت نئی شرائط لگائے بغیر امداد جاری رکھے اور امریکہ کی طرف سے پاکستان کو دئیے جانے والے ایف 16 طیاروں کی حوالگی کو بھی یقنی بنائے۔

دو ادوار تک ڈیموکریٹک صدر براک اوباماکی حکومت کے بعدرپبلکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں امریکی پالیسیز میں یقینی طور پر تبدیلی آئیگی اور جن کا اثرپاکستان پر بھی یقنی طور پر ہوگا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستانی حکومت نئی امریکی حکومت کے ساتھ سفارتی تعلقات کو کیسے بہتر بناتے ہوئے ان سے فائدہ اٹھاتی ہے۔

USA

AMERICA

POTUS

Tabool ads will show in this div