لاعلم خبری

6 window Collage

تحریر: شاہد کاظمی

پاکستانی دنیا کی واحد قوم ہیں جو کسی عام سے معاملے کو بھی متنازعہ بنانے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں، معاملہ عدالتی ہو یا انتظامی، اعلیٰ ترین تعیناتی کے حوالے سے بحث ہو یا پھر رازداری کا سرعام نیلام ہونا، ہر سطح پہ تنازعات کی بھرمار ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ پاکستان میں جب تک کسی بھی معاملے کو متنازعہ نہ بنا دیا جائے وہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکتا اور اب تو یہ محسوس ہونا شروع ہو گیا ہے کہ سیدھے سادھے معاملات میں بھی الجھاؤ پیدا کر کے کچھ ایسی بحث کو فروغ دیا جاتا کہ لگے جیسے اس کے علاوہ کچھ اہم رہا ہی نہیں۔ پانامہ ایشو ہو یا طیبہ تشدد کیس، انتخابی دھاندلی کا معاملہ ہو اختیارات کی تقسیم کا، اعلیٰ تعیناتیاں مقصود ہوں یا عہدوں سے سبکدوشی پاکستان میں ہر معاملے میں تنازعات کا سر ابھارنا عام سی بات ہو گئی ہے۔ بلکہ جس معاملے میں کوئی متنازعہ بات شامل نہ ہو لگتا ہو کچھ غلط ہو رہا ہے۔

SC Panama Case Isb Pkg 10-01

جنرل(ر) راحیل شریف صاحب باعزت طور پر ریٹائر ہوئے تو ہر خاص و عام نے ان کی جتنی تعریف کی اس پہ رشک ہونے لگا کہ پاکستان میں کم از کم کوئی تو ایسی شخصیت ہو گزری کہ سب جس کے معترف ہوئے(ہو گزرے یعنی عہدے سے باعزت رخصت ہوئے)۔ مگر یہ صرف خام خیالی اس لیے ثابت ہوئی کہ سعودی عرب کی سربراہی میں بننے والے اسلامی فوجی اتحاد کی سربراہی کے حوالے سے ان کا نام آنے کے بعد ان پر جس انداز سے تنقید کے نشتر برسائے گئے وہ کچھ ایسے تھے جیسے وہ پاکستان نہیں کسی دشمن ملک کے آرمی چیف ریٹائر ہوئے ہوں۔کسی ایک کی غیر ذمہ داری کی کیا مثال دیں وطن عزیز میں ایک عام گلی کے چوکیدار سے لے کر صاحبان اقتدار تک ہو کوئی غیر ذمہ داری کا عملی نمونہ ہے۔ ابھی بیل مونڈھے چڑھی ہی نہیں تھی کہ پاکستان کے صاحب دانشمند نے فوری ٹویٹ کر کے جیسے کوئی معرکہ سر کر لیا اور سونے پہ سہاگہ الیکڑانک میڈیا پہ وہ ایسے بلند و بانگ دعوے اور تاویلیں پیش کرنے لگے کہ جیسے ان کو سربراہ لگایا جا رہا ہو اس اتحاد کا۔ عاقبت نااندیش لوگوں کو ادارے، وزارتیں، اثاثے تو غیر ذمہ داری سے داؤ پہ لگاتے تو سنا تھا مگر ایک معزز اور باعزت پاکستانی کی شہرت کو نقصان پہنچانا پہلی دفعہ دیکھا اس لیے کہ اسی کی شان میں قصیدے وہ چند دن پہلے خود پڑھتے پائے گئے۔

socialfeed.info-happy-birthday-to-coas-general-raheel-sharif

میں کسی کی کمان میں کام نہیں کروں گا، یہ اتحاد کی کمان سنبھالنے کی پہلی شرط ہے جو سامنے آئی ۔ اگر وہ اس شرط پہ اتحاد کی کمان سنبھال لیں تو نہ جانے مروڑ کس پیٹ میں اور کیوں اٹھ رہے ہیں۔ ایران کو اس اتحاد کا حصہ بنایا جائے (یا بنایا جائے گا) ۔ مجھے حیرت ہے ان دوستوں پہ جو اس فیصلے کو فرقہ واریت کا رنگ دے رہے ہیں کہ اگر اس شرط پہ اتحاد سنبھالا جانا تھا تو پھر امت کے اتحاد کو داعی اس نقطے کو کیوں اجاگر نہیں کر پائے کہ اس ایک فیصلے سے فرقہ وارانہ بنیادوں پہ امت مسلمہ کی تقسیم ریزہ ریزہ ہو سکتی تھی۔ تیسری سب سے اہم شرط کہ مجھے مصالحت کروانے کا اختیار دیا جائے گا۔ اگر اس اختیارکے ساتھ جنرل صاحب اتحاد کی کمان سنبھالتے ہیں تو ذرا سوچیں کہ ملت اسلامیہ میں تمام باہمی مسائل حل کرنے میں کتنی مدد مل سکتی ہے۔

islamic alliance

جنرل صاحب کے اس عہدے پہ فائز ہونے سے سب سے زیادہ مسائل کا واویلا ایران کو کرنا چاہیے تھا۔ مگر حد ہے کہ ایران نے تو اس معاملے میں بہت محتاط ردعمل دیا مگر وطن عزیز کے گلی کوچوں میں موجود تجزیہ کاروں نے جنرل صاحب کی تعیناتی کے حوالے سے پاکستان اور ایران کے تعلقات داؤ پر لگ جانے کا اندیشہ ظاہر کر دیا۔ مجھے حیرانگی ان پہ نہیں جو تجزیہ کار ہیں، بلکہ تف ہے ان پر جو انہیں تجزیہ کار لکھتے اور پڑھتے ہیں۔ بیگانی شادی میں عبد اللہ دیوانہ کے مصداق ، اتنا واویلا تو عراق و شام نے نہیں کیا جہاں کاروائیوں کے لیے یہ اتحاد قائم ہوا تھا بلکہ وطن عزیز میں بسنے والے کچھ لاعلم مخبروں نے یہ اطلاعات دینا شروع کر دیں کہ دنیا میں پاکستان کے حوالے سے شکوک پیدا ہونے شروع ہو گئے ہیں۔

حیرانگی صرف اس بات کی ہے کہ کس طرح حکومتی سطح پر اس درجہ غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا گیا کہ جو تعیناتی پوری امت مسلمہ کے مفاد میں تھی اس کو ابتداء سے ہی متنازعہ بنا دیا گیا۔ اب جب یہ راگ الاپا جا رہا ہے کہ حکومت سے این او سی نہیں مانگا گیا ابھی تو پہلے سے علمیت جھاڑنے کی کیا ضرورت تھی کہ ہمیں پتاہے یہ ہو رہا ہے۔ اب جب مشیر خارجہ سے لے کر وزیر دفاع تک یہ بیانات داغ رہے ہیں تو ان کو اس وقت نمبر بڑھانے کی کیا ضرورت پیش آئی تھی جب ابھی دال میں کچھ تھا ہی نہیں۔ حکومتی نمائندوں پہ افسوس اس لیے بھی ہو رہا ہے کہ جنرل صاحب کے کمان سنبھالنے کو تو متنازعہ بنا دیا گیا مگر ان کی جانب سے جن شرائط پر کمان سنبھالنے میں رضامندی دکھائی گئی وہ شرائط کیوں سامنے نہیں لائی گئیں۔ وہ شرائط ہی تو ایسی ہیں کہ پوری امت میں سے فرقہ وارانہ تقسیم ختم ہو سکتی ہے۔ لیکن شائد ان شرائط کو اس لیے بھی مشتہر نہیں کیا جا رہا کہ ان سے کسی کا مفاد جو وابستہ نہیں ہے اور یہاں صرف ایسی باتیں ہیں شہرت کی بلندیوں تک پہنچتی ہیں جن میں کسی نہ کسی کا مفاد وابستہ ہوتا ہے۔

general raheel sharif

head of Islamic military alliance

Tabool ads will show in this div