انتخابی دھاندلی، وزیراعظم کا تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا اعلان

ویب ایڈیٹر

اسلام آباد : وزیراعظم نواز شریف نے انتخابی دھاندلیوں کے الزامات کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ کے ججز پر مشتمل کمیشن قائم کرنے کا اعلان کردیا، ان کا کہنا ہے کہ انتخابی اصلاحات مسلم لیگ ن کے منشور کا حصہ ہے، پاکستان کو معاشی و سیاسی لحاظ سے مضبوط کرنا ہمارا مقصد ہے، تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں۔

وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے قوم سے اپنے خطاب میں کہا کہ سیاسی استحکام سے ہی قومیں ترقی کرتی ہیں، ہمیں دیکھنا ہوگا کہ کون سی خرابیاں ہمیں ترقی کی منازل طے نہیں کرنے دے رہیں، عدلیہ پوری قوت کے ساتھ آئین اور جمہوریت کی پشت پر کھڑی ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ایک جماعت کے کسی ٹھوس ثبوت کے بغیر بے بنیاد الزامات کو بنیاد بناکر پورے جمہوری نظام کو چیلنج کیا جارہا ہے، بے یقینی کی فضاء پیدا کرکے ملکی معیشت، سیاسی استحکام اور عالمی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے، الزامات کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ آف پاکستان کا کمیشن قائم کیا جائے، چیف جسٹس سپریم کورٹ سے درخواست ہے کہ 3 جج صاحبان پر مشتمل کمیشن تشکیل دیں جو مکمل چھان بین کے بعد حتمی رائے دے، حکومتی اقدامات کے بعد کسی احتجاج کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔

نواز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستانی تاریخ میں پہلی بار جمہوری حکومت نے اپنی آئینی مدت پوری کی، عام انتخابات کے بعد ہر سطح پر عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کیا گیا، تعمیر سوچ کا نتیجہ ہے کہ تمام حکومتیں یکسوئی کے ساتھ کام کررہی ہیں، موجودہ دور میں روپے کی قدر اور معیشت میں بہتری، برآمدات میں اضافہ اور بیرونی سرمایہ کاری سمیت اہم کامیابیاں حاصل کیں۔

وزیراعظم نے بتایا کہ 10400 میگا واٹ بجلی کے نئے منصوبوں کا معاہدہ ہوچکا، 4500 میگا واٹ بجلی کی گنجائش والے پاکستان کے سب سے بڑے بھاشا ڈیم کی تعمیر کا آغاز اور داسو ڈیم کی بھی بنیاد رکھ دی گئی، کراچی تا لاہور موٹر وے کی تعمیر کرنے جارہے ہیں، خنجراب سے گوادر تک اقتصادی راہداری سے معاشی ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ سالوں کا کام مہینوں میں کرنے کا عزم کیا ہے، کچھ لوگ ایک بار پھر احتجاج کی سیاست پر نکل کھڑے ہوئے ہیں، عوام جاننا چاہتے ہیں کہ احتجاج کا کیا مقصد ہے؟، ہنگامہ اور فساد کی ایک وجہ بتائی جائے، کیا پاکستان کو ایک بار پھر دہشت گردی، بیروزگاری اور بدامنی کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں۔

نواز شریف نے گزشتہ حکومتوں کے اقدامات پر شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں سیاسی عمل سے دور کرنے کیلئے کئی غیر آئینی و غیر قانونی طریقے استعمال کئے گئے، ہم نے کبھی دھاندلی کے الزامات نہیں لگائے، 2013ء کے انتخابات متفقہ چیف الیکشن کمشنر کے تحت ہوئے، پہلی بار کمپیوٹرائزڈ کارڈ اور ووٹر لسٹیں استعمال کی گئیں، غیر ملکی مبصرین نے 2013ء کے انتخابات کو ملکی تاریخ کے شفاف ترین الیکشن قرار دیا۔

وہ کہتے ہیں کہ انتخابی اصلاحات مسلم لیگ ن کے منشور کا حصہ ہے، چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی کو پارلیمانی کمیٹی قائم کرنے کیلئے خط لکھا جس پر پارلیمانی جماعتوں کے 33 ارکان پر مشتمل کمیٹی نے کام شروع کردیا، حکومت ان کی سفارشات پر عمل کرے گی اور 2018ء کے انتخابات انہیں اصلاحات کے تحت ہوں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو مضبوط کرنا ہمارا مقصد ہے، تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں، آزادی اور جمہوریت کیلئے بڑی قربانیاں دی گئی ہیں، پارلیمنٹ 18 کروڑ عوام کی نمائندگی کرتی ہے، ملک میں نہ بادشاہت ہے اور نہ آمریت، ہر قسم کے مذاکرات اور بات چیت کیلئے تیار ہوں، میری کوئی انا نہیں جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں، پر امن احتجاج کے حق کا احترام کرتا ہوں، آئین و جمہوریت پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔

انہوں نے واضح کیا کہ کسی کو انارکی پھیلانے اور آئین سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جتھہ بندیوں کے ذریعے آئین اداروں کو یرغمال بنانے اور مذہب کی آڑ میں دوسروں کی گردنیں کاٹنے پر اکسانے، فتنہ و فساد کی اجازت نہیں دی جائے گی، پاکستان کو جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا جنگل نہیں بننے دیں گے۔

میاں نواز شریف نے میڈیا کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ موجودہ سیاسی ہلچل کے حوالے سے اپنے کردار کا ضرور جائزہ لے، عوامی فلاح و بہود اور ملکی ترقی و خوشحالی ہمارا واضح ایجنڈا ہے، نہیں چاہتے کہ کسی طرح کی بدمنی اور انتشار اس ایجنڈے پر اثر ڈالے۔ سماء

parade

تحقیقات

eid

tragic

paypal

species

etisalat

tobacco

تبولا

Tabool ads will show in this div

تبولا

Tabool ads will show in this div