لاجواب سروس کا زوال، وجوہات

 pia

باکمال لوگ، لاجواب سروس، یہ کسی دور میں ایشیاء کی کامیاب ترین ایئر لائنز میں شمار ہونیوالے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کا موٹو تھا اور یقیناً اس میں بہت حد تک سچائی بھی تھی، آئیے ہمارے ساتھ پرواز کیجیے(Come Fly with us)  کا نعرہ بھی اس کامیاب ایئر لائن کی کارکردگی، سہولیات اور سروس کے لحاظ سے لوگوں کو اپنی جانب کھینچتا تھا اور لوگ ملک سے باہر اس ایئر لائن سے سفر کرتے ہوئے یا اندرون ملک سفر پر اپنے پیاروں کو بڑے فخر سے بتایا کرتے تھے کہ ہم پی آئی ائے کی پرواز کے ذریعے آئے ہیں۔

travel-chaos-pia-staff-refuse-budge-1324343249

راقم کو 60ء اور 70ء کی دہائی کے کچھ اخباری تراشے میسر آئے جس میں قومی ایئر لائن کے ساتھ سفر کرنے کی ترغیب اور اس کی سہولیات کیلئے اشتہار بازی کی گئی تھی اور فخر ہوا کہ واقعی اس وقت لوگ اس ایئر لائن کی جانب کچھے چلے آتے تھے، وہ اعزاز سمجھتے تھے اس قومی ایئر لائن کی بہترین خدمات سے استفادہ کرنے میں۔

PIA Protest Isb Ex 29-12

پھر کیا ہوا؟، کیوں ہوا؟، کہ آج یہ ایئر لائن آخری ہچکیاں لے رہی ہے، حتیٰ کے جرمنی سے لائے گئے لاکھوں روپے ماہوار لینے والے افسران بھی کچھ نہیں کر پائے، کوئی اس کی باگ ڈور سنبھالنے کو تیار نہیں، چیئرمین کے بغیر ادارہ چل رہا ہے، حیرانگی اس بات سے ہوتی ہے کہ پی آئی اے سے حجم میں کئی درجہ کم اور معیار کے حوالے سے بھی مسابقت میں بہت دور فضائی کمپنیاں اپنے فضائی آپریشنز کامیاب بنارہی ہیں اور یہ ادارہ کیوں خسارے میں جارہا ہے۔

PIA KHASARA KHI PKG 09-02

Pia Ceo Talk London 12-07

سیاسی بھرتیاں اپنی جگہ مگر صرف ایک یہی وجہ نہیں اس ادارے کی تباہی کی بلکہ خلوص نیت کا شدید فقدان اور جھوٹ کی بھرمار ہے، جس کی وجہ سے مسافروں کا اعتماد اس ایئر لائن پر سے اٹھتا جا رہا ہے، ایمریٹس ایئر لائن جس نے پی آئی سے ادھار لے کر اپنا سفر شروع کیا تھا، وہ دنیا کی چوتھی بڑی ایئر لائن ہے اور ہم کسی درجے میں ہی نہیں آتے۔

Pia Action Agaibst Palpa Pkg Moiz 04-10

گزشتہ سال کے آخری مہینے کے آخری ہفتے میں راقم کو جو واقعات، رویہ، معاملات اسلام آباد جیسے اہم شہر کے ایئر پورٹ پر نظر آئے، انہوں نے بہت حد تک اس ادارے کی تباہی کی وجوہات کا احاطہ کیا، لیکن حیران ہوں کہ اتنی واضح وجوہات کے باوجود ان کے تدارک کیلئے کچھ نہیں کیا جارہا، کینیڈا سے پرواز براستہ اسلام آباد لاہور جانی تھی، (بقول احتجاجی مسافر کے) مگر اسلام ایئر پورٹ پر پہنچ کر انہیں بتایا گیا کہ پرواز کینسل کردی گئی ہے اور کوئی وجہ بھی نہیں بتائی گئی۔ مزید کہا گیا کہ آپ کو ادارہ ہوٹل میں رہائش دے گا اور اگلی فلائٹ کل شام 4 بجے تک میسر ہوپائے گی، ایک خاتون جو 24 سال بعد متحدہ عرب امارات سے واپس آئی تھیں اور اردو پر عبور بھی نہیں رکھتی تھیں (عربی مستقل زبان تھی) وہ آنسوؤں کے ساتھ نوحہ کناں تھیں، انہوں نے رحیم یار خان جانا تھا، چل بھی نہیں سکتی تھیں مگر اسلام پہنچ کر ان کو بتایا گیا کہ رحیم یار خان کیلئے رابطہ فلائٹ کینسل ہوگئی ہے اور انہیں بھی کل شام تک انتظار کرنا ہوگا۔

PIA Dharna

تصور کیجئے، آپ زبان نہ جانتے ہوں، وہیل چیئر پر ہوں، رات رکنا بھی ہو نہ مقامی سم کارڈ ہو، نہ رابطے کا کوئی ذریعہ تو آپ کا کیا حال ہوگا، کچھ دیر دھکم پیل ہوئی مسافر بالآخر راضی ہوئے کہ انہیں ان کی رقم ری فنڈ کردی جائے، وہ اپنے انتظام پر لاہور چلے جائیں گے، جو کہ سول ایوی ایشن کے معلوماتی بورڈ پر واضح لکھا تھا کہ اگر مسافروں کو اس طرح کی مشکل برداشت کرنا پڑی تو ایئر لائن ان کو ٹکٹ کے پیسے واپس کرے گی، مگر ایئر لائن انتظامیہ کا اصرار تھا کہ کل شام تک کیلئے ہوٹل میں رہائش دے دیتے ہیں۔

Pia Plane Crash Spot Abid Ali 2100 Havelian FTG 07-120

اسلام آباد سے جدہ جانے والی والی فلائٹ پی کے ۔ 741 کو رات 11 بجے راونہ ہونا تھا، مسافر 6 بجے سے انتظار میں تھے، پہلے وقت 12 بج کر 40 منٹ کا دیا گیا، پھر 3 بجے کا اور آخر میں فلائٹ کی روانگی صبح 6 بجے شیڈول کی گئی تاہم پرواز نے اُڑان صبح 7 بجے بھری، اندازہ لگائیے، تمام مسافروں کو جنہوں نے بورڈنگ کارڈ حاصل کرلئے تھے، انہیں راولپنڈی اسلام آباد کے ہوٹلز میں ٹھہرایا گیا اور ان کے آنے جانے کے اخراجات بھی قومی ایئر لائن کو برداشت کرنا پڑے۔ ایک ہی ہال میں دیگر نجی ایئر لائنز کے کاؤنٹر کے ساتھ قومی ایئر لائن کا کاؤنٹر تھا مگر دھکم پیل صرف قومی ایئر لائن کے کاؤنٹر پر تھی۔ باقی تمام کاؤنٹرز پر معمولات پُرسکون انداز میں چل رہے تھے۔

PIA FLIGHT BOEING 777 PKG 20-08 UMAIR

جو ایئر لائن دوسروں کیلئے نمونہ تھی، آج خود اس کے پاؤں اکھڑ رہے ہیں، ایئر پورٹ لابی میں ایک نئی ایئر لائن کا بورڈ جگمگا رہا تھا جو اس بات کا غماز تھا کہ اس شعبے میں سرمایہ کار پیسہ لگا رہے ہیں، ایک نقصان ہے تو قومی ادارے کو، ہوٹلوں میں رہائش کے اخراجات، فلائٹ منسوخ ہونے پر ہرجانوں کی ادائیگی، ٹکٹس کے پیسوں کی واپسی، اندرون ملک پروازوں میں خلل، مسافروں سے غلط بیانی، ان کو خوار کرنا، ایسے عوامل ہیں جو اس ادارے کو دن بدن تباہ کررہے ہیں، نہ جانے یہ کیسی منطق ہے کہ نجی ایئر لائنز تو اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہیں مگر قومی ایئر لائن کیلئے ہی حالات نامساعد کیوں ہیں، 60ء، 70ء، 80ء کی دہائیوں میں کیا اس ایئر لائن کو بناء فیول اڑایا جاتا تھا جو یہ منافع میں تھی یا آج فضاؤں میں ایسا عنصر ہے جو اس ایئر لائن کے جہازوں کو اڑنے نہیں دیتا، جہاں غیر ملکی فضائی کمپنیوں کے جہاز بآسانی پہنچ جاتے ہیں وہاں کیلئے قومی ایئر لائن کیلئے موسم کیوں خراب ہوجاتا ہے۔ ایمریٹس، قطر ایئر ویز، ترکش ایئرلائن اور دیگر ایئر لائن پاکستانی ایئر پورٹ سے ہی اپنا فضائی آپریشن منافع سے جاری رکھے ہوئے ہیں تو نقصان قومی ایئر لائن کو کیوں؟، مسئلہ صرف خلوص کا ہے، ورنہ کل بھی یہ ایئر لائن بہترین تھی آج بھی بن سکتی ہے، مگر مفادات، نیت، سنجیدگی کا ناپید ہونا اس کو آگے نہیں بڑھنے دے رہے۔

airports

Flights Delayed

flight schedule

Pakistan International Air Lines

Distrubance

Passengers Problems

Tabool ads will show in this div