مصباح الحق اور ٹرک کی بتی

Jan 17, 2017

misbah-ul-haq-pakistan-salute-lords_3746759

نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے خلاف ہونیوالی ٹیسٹ سیریز میں کلین سویپ کے بعد مصباح کی کپتانی پر تنقیدی تیر برسانے والے مطالبہ کررہے ہیں کہ مصباح کو حالیہ دو سیریز میں بدترین شکست کے بعد اب تو ریٹائر ہوجانا چاہیئے۔آسٹریلیا سے دوسرا ٹیسٹ ہارنے کے بعد مصباح نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اگر وہ بیٹنگ میں پرفارمنس نہیں دے سکتے تو ان کی جگہ کسی اور بیٹسمین کو ٹیم میں شامل ہونا چاہیے۔لیکن تیسرے ٹیسٹ میں ایک اور بدترین شکست کے بعد مصباح نے ایسا پینترا بدلہ کے مصباح نے آخری پریس کانفرنس میں سب کو پھر سے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا۔ جس کی منزل مصباح کی ریٹائرمنٹ ہے۔

حالیہ ٹیسٹ سیریز کے بعد اس میں کوئی شک نہیں کہ مصباح کو ریٹائرمنٹ کا اعلان کردینا چاہیئے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا مصباح کی ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستانی کرکٹ ٹیم عوام اور تنقید کرنے والوں کی خواہشات کے مطابق نتائج دے سکے گی؟۔کیا مصباح کی ریٹائرمنٹ سے پاکستانی بیٹنگ اور بالنگ پرفارم کرنا شروع کردیگی؟۔

Misbah-Ul-Haq-15

مصباح نے 2001 میں ڈیبیو کے بعد سے اب تک 17 سالوں میں 72 ٹیسٹ، 162 ون ڈیز اور 39 ٹی ٹونٹی میچز کھیلے۔  جن میں سے 53 ٹیسٹ میچزمیں مصباح نے کپتانی کی اور پاکستان کو 24 میچز میں فتح اور 18 میچز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔مصباح نے 2010 کے انگلینڈ دورے کے بعد کپتانی سنبھالی، جب چند پاکستانی پلیئرز اسپاٹ فکسنگ میں ملوث پائے گئے اور پاکستان کو انگلش میڈیا میں آڑے ہاتھوں لیا گیا۔ 2012 میں اسی انگلینڈ کو مصباح الیون نے عرب امارات میں ہونیوالی ہوم سیریز میں تین صفر سے ہرایا۔ جس کے بعد ناصرف انگلش میڈیا کو سانپ سونگھ گیا بلکہ انگلش کمنٹیٹرز کو بھی ناچاہتے مصباح کی کپتانی کی تعریفیں کرنا پڑیں۔

مصباح نا صرف پاکستان کو میچ جتاتے تھے۔ بلکہ مصباح اپنی کپتانی کے ذریعے حریف ٹیم کو چاروں شانے چِت کرکے شکست دیتے۔ مصباح نے 42 سال کی عمر میں انگلینڈ کے خلاف سینچری کر کے ثابت کردیا کہ مصباح کی عمر بھی مصباح کے حوصلے کے سامنے ہار گئی۔ مصباح کا پاکستانی ٹیم کو دنیا کی نمبر ون ٹیم ہونے کا اعزاز دلوانا  ایک ایسا کارنامہ ہے جوکہ لگتا ہے کہ پاکستان مستقبل قریب میں تو دوبارہ سے حاصل کرتا دکھائی نہیں دیتا۔لیکن ایسی بہت سی وجوہات بھی ہیں۔ جس کی وجہ سے مصباح پر کی جانے والی تنقید حق بجانب تھی۔

MISBAH UL HAQ NAT 04-01

مصباح ہمیشہ سیریز ٹو سیریز کا کپتان رہے۔ اگر دیکھا جائے تو مصباح کی حکمت عملی صرف اور صرف چلنے والی سیریز سے متعلق ہوتی ہے۔ مصباح کبھی نہیں سوچتے کہ عرب امارات کی سیریز کےبعدنیوزی لینڈ اورآسٹریلیا کے دورے بھی ہیں۔ جن کو مد نظر رکھتے ہوئے ہوم سیریز میں کھلاڑیوں کو آزمانا چاہیئے۔ مصباح ایک خاص ٹیم اور حکمت عملی کے کپتان ہیں۔

اس کے علاوہ مصباح مانیں یا نا مانیں مصباح 42 سال کی عمر میں آف اسپنر کو باؤنڈری سے باہر نہیں پھینک سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ آسٹریلیا کے خلاف دو بار مصباح مڈ وکٹ باؤنڈری پر آؤٹ ہوئے۔

Pakistan cricket captain Misbah-ul-Haq (R) receives a ICC Test Championship mace from ICC Chief Executive David Richardson in Lahore on September 21, 2016. Pakistan achieved the number one ranking in the Test Championship table after the Test match series drawn 2-2, between England and Pakistan at the Oval in London on August 14, 2016. / AFP PHOTO / ARIF ALI

مصباح کی ایک خرابی یہ بھی ہےکہ مصباح نے سپر اسٹارز نہیں بنائے،جیسےکہ عمران خان پاکستان کو وسیم اکرم اور وقار یونس دے گئے۔ مصباح کی بدقسمتی بھی رہی کہ اجمل اور محمد حفیظ جوکہ مصباح کی کپتانی میں سپر اسٹارز بن کرسامنے آئے اور جن کی وجہ سے مصباح نے انگلینڈ کو تین صفر سے ہرایا،ان کے بالنگ ایکشن پرپابندی لگ گئی۔

مصباح میں ایک اور خامی یہ ہےکہ مصباح کی پہلی کوشش میچ کا دفاع ہوتی تھی۔ جس کی وجہ سے میچ شروع ہوتے ساتھ ہی پاکستانی حکمت عملی ٹیسٹ میچ کو ڈرا کرنے کی ہوتی تھی اور میچ کو ڈرا کرواتے کرواتے پاکستان میچ ہارجاتا۔

misbah-pushups-600

اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ جب مصباح اپنی تینتالیسویں سالگرہ منانے والے ہیں، اس لئے مصباح کو کرکٹ کو خیر باد کہتے ہوئے رخصت ہوجانا چاہیے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ مصباح کے ٹیم میں ہونے سے دل کو جو تسلی ہوتی ہے،مصباح کے جانے سے وہ تسلی بھی ختم ہوجائیگی اور ہم پاکستانی شیدائی پھر کھلاڑیوں کی کارکردگی سے زیادہ اپنے ارمانوں پر میچ جیتنے کی کوشش کریں گے۔

Test Captain

Tabool ads will show in this div