شحیط کی شہادت اور مہذب نما دنیا

e7123909-68ae-4442-96a2-6cdff9a83aed_16x9_788x442 تہذیب محبت ہے، عشق ہے، عقل ہے۔ تہذیب انسان کی حیات کا بہترین اسلوب ہے۔ تہذیب سے ہی انسانی معاشرے کی نمو ہے، آبیاری ہے، بقاء ہے، اور احیاء ہے۔ انسانوں کا سب سے مستحکم رشتہ تہذیب سے ہے۔ یہ سرحدوں، زبانوں، ثقافتوں، نسلوں، خاندانوں، اوررنگوں سے ماوراء ہے۔ انسانی تہذیب کا رنگ کائنات کا رنگ ہے، یہ فطرت سے ہم آہنگ ہے۔ تہذیب، جواس رنگ سے عاری ہو، انسانی تہذیب نہیں ہے، محض مہذب نما ہے، نام نہاد ہے۔   Syria_UN013175_2016 سولہ ماہ کے معصوم شہید محمد شحیط کی ایک تصویرکی تمہید میں تہذیب کی تعریف کیوں؟ یہ سوال ان گنت سسکتے سوالوں سے پہلے سامنے آکھڑا ہوا ہے۔ خدارا یہ تہذیب کس بلا کا نام ہے؟ انسانی تہذیب کسے کہتے ہیں؟ یہ معصوم کیوں دنیا سے منہ موڑ گیا؟ اوریوں منہ موڑگیا، کہ انسانی تہذیب کے علمبردارمنہ دکھانے لائق نہ رہے۔ سچ ہے، مہذب نما مجرم دنیا کی منافقت اورمظالم عالمی المیہ بن چکا ہے۔ روہنگیا خاندان کے معصوم بچے کی شہادت عظیم شہادت ہے۔ یہ شہادت ہے اس امرکی کہ بحیرہ روم کنارے ٹھہرجانے والامنظر تنہا نہیں، ایلان کُردی تنہا نہیں، انسانی تہذیب کے یہ معصوم امکانات نیل وفرات سے دریائے ناف اور حلب و موصل کی گلیوں سے کشمیر کی وادیوں تک، ہرجگہ مٹائے جارہے ہیں۔ اسلامی تہذیب کے امکانات پر مہذب نما جاہلیت بھرپوربے حسی اور سفاکی سے حملہ آور ہے۔ مسلمان دنیا کے بڑے بڑے فرزند بھی معصوم شہادتوں پربار گناہ سے بوجھل ہیں، گفتار کی خود فریبیوں میں گرفتارہیں۔ اس مضمون کی مانند لاکھوں الفاظ و احساسات یہاں سے وہاں بے کس و بے بس وبے اثرہورہے ہیں۔ _91166502_mediaitem91166498 ایک دریا ہے، دریائے ناف، یہ برما اوربنگلہ دیش کےدرمیان بہتا ہے۔ یہ روہنگیا خاندانوں کوکشتیوں پربنگلہ دیش کی سرحدوں تک لیجاتا ہے۔ کتنے ہی زندہ اجسام اس سفرمیں موت سے جاملے ہیں۔ چاردسمبرکی صبح بھی برما کی مظلوم مسلمان اقلیت کا ایک خاندان ریاستی دہشتگردی سے بچ بچاکردریا تک پہنچا۔ ننھے محمد شحیط کے والدین کشتی مین سوارہوئے، اچانک پشت سے برما کے فوجی نمودار ہوئے، اندھا دھند فائر کھول دیے۔ بہت سے لوگ وہیں گرپڑے، بہت سارے کشتی پرچڑھ دوڑے، کشتی بوجھ نہ سہار سکی۔ زندگی سے بھرپورناؤ ڈوب گئی۔ محمد شحیط، ماں، تین سال کا بڑا بھائی، اورچچا شہید ہوگئے۔ والد ظفرعالم تیرتا ہوا بنگالی مچھیروں کے ہاتھ جالگا۔ مچھیروں نے اس کی جان بچالی۔ رخائن کا ایلان کردی محمد شحیط دنیا سے منہ موڑنے کیلئے ساحل پرآلگا۔ ظفرعالم نے بیٹے کی تصویردیکھ کر کہا کہ کاش وہ بھی مرہی جاتا۔ ظفر عالم بتاتا ہے کہ برمی فوج نے اس کے دادا دادی کو زندہ جلادیا تھا، ان کے گاؤں میں اگ لگادی تھی، وہ پھربنگلہ دیش ہجرت پرمجبورہوئے، اوردریا میں سب ختم ہوگئے۔   d51917a7-448b-4f46-bee3-90d08977a82b ظفرعالم بتاتا ہے کہ محمد شحیط بہت محبت کرنے والابچہ تھا، گاؤں بھرکا پیارا تھا۔ جنوبی بنگلہ دیش کی سرحد پرایک سائبان تلے ظفر عالم گزری زندگی کی یاد میں زندگی بسرکررہا ہے۔ یہاں بھی زندگی کسمپرسی میں ہے، بس کوئی جان لینے نہیں آتا۔ میانمار کی دہشتگرد حکومت محمد شحیط کی المناک کہانی مسترد کرتی ہے۔ جمہوریت کی ملکہ آنگ سان سوچی دہشتگردوں کی پشت پناہ اور ہمنوا بن کرسامنے آتی ہے۔   4248_17 نوبیل انعام یافتہ آنگ سان سوچی تہذیب مغرب کی جاہلیت کا بدترین نمونہ ہے۔ جمہوری ڈرامہ کی چیمپئن خاتون خودنمائی اور امریکہ کی درآمد شدہ جمہوریت کی خاطرطویل قید وبند سے گزری۔ ایک دنیا کو مداح بنالیا۔ مگر روہنگیا مسلمانوں پرمطالم کی سچائیاں سچ سامنے لے آئیں۔ آنگ سان سوچی کا سوانگ دم توڑگیا۔ مصلحتوں اورمنافقتوں کے نقاب الٹ گئے۔ مغرب کی دورنگی سمجھنے کیلئے آنگ سان سوچی کا کردارموزوں مثال ہے۔ بالکل اسی طرح بدھسٹ نسل پرست دہشتگردوں کا کردار وہی ہے، جومغرب کی طفیلی داعش کا ہے، اوردیگرقاتل مشینریزکا ہے۔   130314224531-85-iraq-war-horizontal-large-gallery تنہا ترکی ہے، جس نے روہنگیا مسلمانوں کی خاطرخون جلایا، آنسوبہائے، اور جہاں تک ممکن ہوسکا آنسو پونچھے۔ تنہا ترکی مگرکیا کچھ کرسکتا ہے؟ شام و عراق کے مظلوموں کی مدد مشکل ترین امتحان سے دوچار کرچکی ہے۔ غرض سمجھنے کی سادہ سی بات یہ ہے، کہ ایلان کردی اور محمد شحیط انسانی تہذیب کے وہ امکانات ہیں، جن پراسلامی تہذیب کی زندگی کا انحصار ہے۔ ان امکانات کا تحفظ ہی مہذب نما دنیا پرسے بارگناہ کا بوجھ اتارسکتا ہے، منافقت ومظالم مٹاسکتا ہے۔ یہ معصوم امکانات جتنے روشن ہوں گے، اتنا ہی روشن انسانوں کی دنیا کا مستقبل ہوگا۔

MUSLIMS

MINOR BOY

SAMAA Blog

Tabool ads will show in this div