پاناما لیکس،ڈیکلریشن اور نااہلی ایک ساتھ نہیں ہو سکتی

nawaz-sharif1

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2016/01/Sc-Panama-Case-Isb-Pkg-13-01.mp4"][/video]

اسلام آباد : وزیراعظم نواز شریف کے وکیل مخدوم علی خان کا کہنا ہے کہ نااہلی کے لیے پہلے ڈیکلریشن ہونا ضروری ہے، ڈیکلریشن اور نااہلی ایک ساتھ نہیں ہو سکتی ہے، بعد ازاں کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کردی گئی ہے۔ پاناما لیکس کیس کی سماعت سپریم کورٹ آف پاکستان میں ہوئی، جسٹس آصف سعید خواجہ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی، آج ہونے والی سماعت میں وزیراعظم کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کیخلاف آرٹیکل 62 کے تحت نااہلی کے لیے عدالتی ڈکلیئریشن ضروری ہے۔ IK On Panama Sot 06-01 وزیراعظم کے وکیل مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ عدالت ٹھوس شواہد کے بغیر وزیر اعظم کو نا اہل قرار نہیں دے سکتی، سپریم کورٹ آئین کے آرٹیکل62 ایف کو ڈراؤنا خواب کہہ چکی ہے، یہ فیصلہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے تحریر کیا تھا، فیصلے میں سپریم کورٹ کےسات رکنی بینچ نے یہ بھی قرار دیاتھا کہ صادق اور امین کی آئینی شق ابہام کا نتیجہ ہے، سپریم کورٹ قراردے چکی ہے کہ کسی بیان کی بنیاد پر نا اہل قرار دینے کے لیے پس منظر اور پیش منظر دیکھنا لازم ہے۔ مزید دلائل میں مخدوم علی خان نے کہا کہ آئین کے ایک ایسے آٓرٹیکل کو جسے عدالت ڈراونا خواب قرار دے چکی ہے کیا اس کی بنیاد پر منتخب وزیر اعظم کونا اہل قرار دیا جاسکتا ہے؟ وزیراعظم کو نا اہل قرار دینے کے لئے آرٹیکل 62 کے تحت نااہلی سے پہلے اس کا عدالتی حکم ضروری ہوتا ہے، ڈکلیئریشن یا عدالتی فیصلہ اور نا اہلی ایک ساتھ نہیں ہو سکتے، وزیراعظم کے قومی اسمبلی سے خطاب کو ماضی میں بھی چیلنج کیا گیا۔ SC Panama Case Isb Pkg 10-01 جس پر جسٹس عظمت کا کہنا تھا کہ غالباً یہ وہ ہی خطاب ہے، جو وزیراعظم نے دھرنے کے دوران کیا تھا۔ جس پر مخدوم علی خان نے کہا کہ اس وقت بھی وزیراعظم پر سچ نہ بولنے کا الزام عائد کیا گیا تھا، اسپیکر نے ڈکلیئریشن کے بغیر ریفرنس مسترد کر دیا تھا، لاہور ہائی کورٹ نے اسپیکر کے فیصلے کو قانون کے مطابق قرار دیا تھا، جب کہ سپریم کورٹ نے بھی لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا تھا، سابق صدر مشرف کی نااہلی بھی عدالتی فیصلوں کی روشنی میں ہوئی، آرٹیکل 62 ون ایف کے اطلاق کے بھی ضابطے موجود ہیں۔ _89063523_panama_index_draft2 جس پر جسٹس اعجاز نے ریمارکس دیتے ہوئے  اور ریکارڈ ٹھیک کرتے ہوئے کہا کہ سابق صدر پرویز مشرف کیس میں ڈکلیئریشن سپریم کورٹ نے دیا تھا۔ بعد ازاں کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کردی گئی ہے۔ سماء

IMRAN KHAN

MARYAM NAWAZ

Panama leaks

PTI vs PMLN

Tabool ads will show in this div