مذاکراتی کمیٹیاں کل سے کام شروع کردیں گی، چوہدری نثار

ویب ایڈیٹر

اسلام آباد : وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ عمران خان کی جانب سے سول نافرمانی کا سن کا دکھ اور حیرت ہوئی، پاکستان بنانا ری پبلک نہیں، عمران خان یہاں جنگل کا قانون نافذ کرنا چاہتے ہیں، دونوں پارٹیوں نے عوام کا جینا حرام کردیا، تحریک انصاف سربراہ سے کہتا ہوں عوام کی زندگی آسان کردیں، پی ٹی آئی اور پی اے ٹی کے آئینی و قانونی مطالبات ماننے کو تیار ہیں، مذاکرات کیلئے سیاسی جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل 2 کمیٹیاں تشکیل دیدیں، کل سے کام شروع ہوجائے گا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ حکومت نے جمہوری سوچ کا مظاہرہ کیا، دونوں جماعتوں کو سیکیورٹی دی گئی، احتجاج کیلئے فری ہینڈ دیا کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی۔

وہ کہتے ہیں کہ لاہور ہائیکورٹ فیصلے کے بعد دھرنا روکا جاسکتا تھا، دہشتگردوں کیخلاف ملک میں اہم جنگ لڑی جارہی ہے، دونوں پارٹیاں ہر شام قوم کو بخار میں مبتلا کردیتی ہیں، دھرنے والوں نے ریڈ زون کو تماشہ بنالیا، اسلام آباد میں درجنوں سفارتخانے موجود ہیں، ملک بنانا ری پبلک نہیں، کیا یہ جمہوریت ہے 2 پُرتشدد گروہ آئیں اور استعفٰی مانگ لیں۔

چوہدری نثار نے کہا کہ ملک میں اس طرح کی سیاست نہیں ہونی چاہئے، عمران خان کی تقریر سن کر دکھ ہوا، ریاستی ادارے اہم ہیں، سول نافرمانی کا سن کر حیرت ہوئی، یہ  حکومت کیخلاف کم ریاست کیخلاف زیادہ ہے، سول نافرمانی کا اعلان کیا آئین اور قانون کے مطابق ہے؟۔

وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ دھرنا دینے والی دونوں پارٹیوں نے عوام کا جینا حرام کردیا، عمران خان سے درخواست ہے کہ عوام کی زندگی آسان کردیں، وہ جنگل کا قانون لاگو کرنا چاہتے ہیں، سڑکوں پر ہی فیصلے ہونے ہیں تو الیکشن کی کیا ضرورت؟، پارلیمانی جماعتیں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے ساتھ نہیں کھڑیں۔

انہوں نے بتایا کہ مطالبات پر بات چیت کیلئے اسلام آباد میں دھرنا دینے والی دونوں جماعتوں سے مذاکرات کیلئے الگ الگ کمیٹیاں بنانے کا فیصلہ کرلیا گیا، جس میں ن لیگ سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے نمائندے شامل ہوں گے۔ سماء

شروع

judge

Benazir

Tabool ads will show in this div