بیٹیاں ہی تو ہیں ناں

54814eb60de9c

***تحریر : سید امجد حسین بخاری***

مجھے بیٹیاں پسند ہیں، خدا کی رحمت ، گھر کا سکون ، چہچہاتی بہاریں انہی کے دم سے ہوتی ہیں۔ والد کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور والد کی روح کی تسکین انہی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ مگر معاشرے میں ان بیٹیوں کو نہ تو کبھی جائز مقام ملا نہ ہی وہ پیار جس کی وہ حق دار ہیں۔ مغرب نے اگر عورت کو آزاد کے نام پر سر بازار کھڑا کر دیا تو مشرقی معاشرہ عزت کے نام پر اسے تہہ تیغ کر رہا ہے۔ Pakistani-human-rights-activists-marched-during-International-Women اسی بیٹی کے نام پر کچھ لوگ آزادی کا راگ الاپ رہے ہیں تو بعض مذہب کا چورن بیچ رہے ہیں۔ میرے سامنے تین بیٹیوں کے سراپے گردش کر رہے ہیں۔ ایک کا تعلق پنجاب کے دور افتادہ ضلع سے ہے اور جسے انسان کے نعرے بلند کرتے عزت ماب جج اور ان کی اہلیہ محترمہ نے جھاڑو نہ ملنے کی وجہ سے تشدد کا نشانہ بنایا۔ معصوم ہاتھ جن کے ہاتھوں میں قلم ہونا چاہئے تھا جلا کر رکھ دئیے، جس چہرے پر مسکراتا بچپن ہونا چاہئے تھا اسی چہرے کوعدل کے محافظوں نے جلا دیا ۔ اس معصوم کلی کی آزمائشیں ہیں کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ 54a13fed46313 عدالت میں طیبہ کے والدین کی جانب سے راضی نامہ پیش کیا گیا مگر جب اس کے خلاف آواز بلند ہوئی تو معصوم بیٹی کے مزید ورثا پیدا ہونا شروع ہوگئے۔ اب بیٹی انصاف کے لئے تڑپ رہی ہے جبکہ اسے اپنے حقیقی والدین کے لئے بھی ایک لمبی جنگ لڑنا پڑ سکتی ہے۔ ایک اور بیٹی کا چہرہ میرے سامنے کچھ دھندلا دھندلا سا، انصاف کا متلاشی، خوابوں کی تعبیر کی جستجو میں مگن، جی ہاں پنجاب یونیورسٹی کے سپورٹس ہاسٹل میں پنکھے سے لٹکی لاش۔یہ سپورٹس کی بنیاد پر یونیورسٹی میں داخلہ لینے آئی۔ اٹک شہر سے تعلق ہے۔ یہ یونیورسٹی ہاسٹل میں اپنی کزن کے ہمراہ رہائش پذیر تھی۔ لاش کی خبریں میڈیا پر آئیں۔ Tayyaba Kahan Gai Isb Pkg 05-01 چند سوالات بلند ہوئے مگر پھر اس بیٹی کے والدین آئے ، یونیورسٹی اور پولیس کی جانب سے پریس ریلیز جاری ہوئی کہ والدین نہ تو لاش کی پوسٹ مارٹم چاہتے ہیں اور نہ ہی کارروائی۔ کس کے سامنے والدین نے یہ بیان دیا اور کیوں دیا۔معاملے کو خود کشی کا رنگ دے کر یونیورسٹی انتظامیہ اور پولیس نے جان چھڑوا لی مگر سپورٹس ڈیپارٹمنٹ کی سابقہ کارکردگی اور عائشہ کی کزن کے جائےوقوعہ سے فرار پر کسی نے دھیان نہیں دیا۔ پنکھے سے لٹکتی لاش تاحال سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی ہے۔ مگر اس لاش کے سوالوں کے جواب میرے پاس پہلے تھے اور نہ ہی مجھے بھی امید ہے کہ اس کا جواب میسر ہوگا۔ Naila Rind Upd 0800 Pkg Moiz 05-01 ابھی گزشتہ دنوں سندھ یونیورسٹی کی ایک طالبہ کی لاش ایک پنڈولم کی طرح میرے خیالوں میں گردش کر رہی ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ اور پولیس نے پنجاب یونیورسٹی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے معاملے کو دبانے کی کوشش کی۔مگر شاید وہ پنجاب یونیورسٹی کے سابق وی سی مجاہد کامران جیسے کھلاڑی نہیں ہیں جو معاملہ کو دبانے میں ماہر اور شاطر دماغ کے حامل ہیں۔مجھے یہ لاش سوال کر رہی ہے کہ، چھٹی کے ہوتے ہوئے طالبات کیوں رہائش پذیر تھیں؟ اگر نائلہ کی ہاسٹل میں رہنا مجبوری تھی تو اسے اکیلے کمرے میں کیوں رہنے دیا گیا؟ دیگر طالبات کے ساتھ اکٹھا کمرہ کیوں نہ دیا گیا؟ اس کا کمرہ چونتیس تھا مگر لاش کمرہ نمبر چھتیس سے کیسے ملی؟ 324805_81697514

یہ ساری باتیں اپنی جگہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں گے یا نہیں ؟ لیکن انصاف اس معاشرے میں ملتا دکھائی نہیں دے رہا۔ بس ایک گزارش ہے کہ رب کی رحمتوں پر یوں ظلم نہ کریں۔ عائشہ ، طیبہ اور نائلہ رند سب بیٹیاں ہی تو ہیں،میری بیٹیاں ، آپ کی بیٹیاں اس معاشرے کی بیٹیاں۔ بس اپنے آپ کردار کو سنواریں۔ ظلم ہوتا دیکھ کر آنکھیں بند نہ کریں۔ آگے بڑھیں اور بیٹیوں کے سروں پر شفقت کے ہاتھ رکھ لیں۔ سماء

women

DOMESTIC VIOLENCE

rape cases

Tayyaba torture case

assault cases

Tabool ads will show in this div