منی بجٹ آج سینیٹ میں پیش ہوگا

Nov 30, -0001

اسٹاف رپورٹ
اسلام آباد: سینیٹ میں آج چالیس ارب روپے سے زائد ٹیکس کے دو بل پیش کئے جائیں گے۔ جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں کمی کے معاملے پر خزانہ اور پیٹرولیم کی وزارتوں میں اختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔

سینیٹ کے بدھ کو ہونے والے اجلاس میں وزیرخزانہ منی بجٹ پیش کریں گے جس میں پیٹرولیم مصنوعات ترمیمی بل دوہزارگیارہ اور گیس ڈویلپمنٹ سرچارج بل دو ہزار گیارہ شامل ہیں۔

قومی اسمبلی اجلاس کے آخری روز حکومت ایجنڈے کے بغیر مجوزہ بل اختتامی مراحل میں پیش کر چکی ہے۔ اس روز ارکان کو نقول تک فراہم نہیں کی گئیں۔

سی این جی پر پانچ روپے فی کلو اور ایل پی جی پرایک سو بیس ڈالر فی میٹرک ٹن لیوی ٹیکس لگایا جائے گا۔

کھاد کارخانوں کو فراہم کی جانے والی گیس اسی روپے فی ایم ایم بی ٹی یو، آئی پی پیز اور کیپٹیو پاورز کیلئے گیس پر بھی ستر روپے سر چارج عائد کیا جائے گا۔

یکم نومبر سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پانچ اعشاریہ چھ آٹھ روپے فی لیٹر تک کمی کا بھی امکان ہے۔

عالمی مارکیٹ میں نرخوں میں کمی کے سبب ملک میں پیٹرول چار اعشاریہ پانچ آٹھ روپے، ہائی آکٹین پانچ اعشاریہ چھ آٹھ، لائٹ ڈیزل ایک اعشاریہ نو پانچ، مٹی کا تیل ایک اعشاریہ دو ایک اور جیٹ فیول دو اعشاریہ سات نو روپے فی لیٹر سستا ہونے کا امکان ہے۔

ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت برقرار رہنے کا امکان ہے۔

وزارت خزانہ قیمتیں برقرار رکھ کر لیوی بڑھانے پر اصرار کر رہی ہے۔ وزارت خزانہ حکام کے مطابق وفاقی حکومت نرخ برقرار رکھ کر چار اعشاریہ ایک دو ارب روپے ریونیو حاصل کرسکے گی۔

میں

آج

bail

Tabool ads will show in this div