زرداری کی آمد اور پاکستان کھپے

Zardari New Plan Isb pkg A پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کی خود ساختہ جلاوطنی کے اٹھارہ ماہ بعد کراچی میں ایک بار پھر پاکستان کھپے کا نعرہ لگا۔ جس کے بعد لگ رہا ہے کہ واقع ہی پاکستانیوں کے کھپنے (پنجابی والے) کے دن آگئے ہیں۔ Nawaz+Sharif+Asif+Ali+Zardari+Opposition+Leaders+dYkiizrcMpPl سابق صدر آصف علی زرداری ایسے موقع پر واپس آئیں ہیں۔ جب سپریم کورٹ میں چلنے والے پینامہ کیس میں بوجہ تبدیلی چیف جسٹس اور موسم سرما کی چھٹیاں وقفہ ہے۔ جس کی وجہ سے پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کی زہریلے جملوں کی فائرنگ بھی تھمی ہوئی ہے۔ b5 ویسے تو پچھلے کچھ عرصے سے فرزند محترمہ بینظیر بھٹو، بلاول بھٹو زرداری حکومت اور تحریک انصاف پر برستے رہتے ہیں اور خاص کر حکومت کو 27 دسمبر سے شروع ہونیوالے لانگ مارچ سے ڈراتے رہتے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے حکومت پیپلز پارٹی کے پیش کردہ چار مطالبات کو سنجیدہ نہیں لے رہی۔ جس کی وجہ سے لگتا ہے کہ سابق صدر خود اس احتجاج میں جان ڈالنے کیلئے پاکستان تشریف لائیں ہیں۔ b4 27 دسمبر کو ہونیوالی شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی سولہویں برسی پر پیپلز پارٹی حکومت کے خلاف احتجاج کا اعلان کرچکی ہے اور اس تاریخ کے چار دن پہلے سابق صدر کی پاکستان آمد یقیناً اہمیت رکھتی ہے۔ b3 میڈیا میں آنیوالی اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم سابق صدر کی پاکستان آمد پر خوش ہیں اور اس کی وجہ شایہ یہ ہے کہ وزیر اعظم کو امید ہے کہ جنوری کے پہلے ہفتے میں جوکاروائی سپریم کورٹ میں دوبارہ سے شروع ہونے جارہی ہے۔ سابق صدر آصف علی زرداری اس میں شریف خاندان کی مدد کریں گے۔ b2 آصف علی زرداری کی واپسی سے متعلق یہ قیاس آرائیاں بھی کی جارہی ہیں کہ چونکہ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف مدّت ملازمت ختم ہوجانے کی وجہ سے اب آرمی چیف نہیں رہے۔ اس لئے وہ خود ساختہ جلا وطنی ختم کرکے واپس آگئے ہیں۔علاوہ ازیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ سابق صدر نے 17 جون 2015 کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ایک تقریر کے دوران اسٹیبلشمنٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ "پریشان ناکیا جائے، ورنہ اینٹ سے اینٹ بجا دی جائیگی"۔ اس جوشیلے اور انتقامی بیان کے بعد سابق صدر نامعلوم وجوہات کی وجہ سے 25 جون کو دبئی روانہ ہوگئے۔ جس کے تقریباً 18 ماہ بعد وہ 23 دسمبر کو کراچی واپس آئے ہیں۔ b1 سابق صدر کی واپسی کی وجہ یقیناً 2018 کے انتخابات بھی ہوسکتے ہیں۔ جن کی تیاری کیلئے سابق صدر اپنی نگرانی میں تیاریاں کروانا چاہتے ہیں۔ اسی اثنا میں پیپلز پارٹی نے پنجاب کے صدر اور جنرل سیکریٹری کو بھی تبدیل کیا ہے۔ موجودہ سیاسی حالات اور 2013 کے انتخابات میں اگر پاکستان پیپلز پارٹی کی کارکردگی تو دیکھا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ ماضی کی سب سے مشہور نظریاتی جماعت کو دوبارہ سے کھڑا ہونے کیلئے کافی محنت کرنا پڑیگی۔ سابق صدر جو کہ سیاست میں مفاہمت اور جوڑ توڑ کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ انھیں وفاق میں حکومت بنانے کیلئے پنجاب پر خاص توجہ دینا ہوگی اور اس کی وجہ یہ کہ 2013 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی پنجاب میں قومی اسمبلی کی صرف 3 اور صوبائی اسمبلی کی 8 سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہوئی تھی۔ جبکہ محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ہونیوالے انتخابات میں پیپلز پارٹی کو پنجاب میں قومی اسمبلی کی 62 اور صوبائی اسمبلی کی 106 سیٹوں پر کامیاب ہوئی تھی۔   موجودہ سیاسی حالات میں یہ فیکٹر بھی اہم ہے کہ 2013 کے انتخابات میں فرزند بینظیر بلاول بھٹو سیاست میں سرگرم نہیں تھے۔ جبکہ 2008 کے انتخابات سے پہلے محترمہ کی شہادت کی وجہ سے پیپلز پارٹی ہمدردی کا ووٹ لیتے ہوئے حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی تھی۔ لہزا اس بار اگر بلاول بھٹو اپنے والد آصف علی زرداری کی رہنمائی میں پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم چلاتے ہیں تو ممکنہ طور پر پیپلز پارٹی کیلئے انتخابات کے نتائج 2013 کی نسبت قدرے بہتر ہونگے۔ اس کے علاوہ 2018 کے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف بھی 5 سالوں تک احتجاجوں، دھرنوں کی سیاست اور خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومت کی کارکردگی کی وجہ مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکے گی۔ جس کی وجہ سے ممکنہ طور پر ماضی کی طرح اصل مقابلہ پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان ہوگا۔ سماء

Politics

BILAWAL

ZARDARI

IMRAN KHAN

ASIF ZARDARI

sama blog

return

Tabool ads will show in this div