سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ایف آئی آر نامعلوم مقام پر درج کرلی گئی

ویب ایڈیٹر:


لاہور : سانحہ  ماڈل ٹاؤن کا مقدمہ  لاہور کے  تھانے فیصل ٹاؤن میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ مقدمے میں وزیراعظم، وزیراعلیٰ سمیت 21 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے حکم کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے سانحہ ماڈل ٹائون کا مقدمہ درج کے لئے اعلیٰ پولیس حکام کو ہدایت دی تھی، ایف آئی آر میں قتل، دہشت گردی، اقدام قتل اور املاک کو نقصان پہنچانے کی دفعات بھی شامل ہیں، وکیل پی اے ٹی کا کہنا ہے کہ سرکاری طور پر مقدمہ درج ہونے کا بتایا گیا ہے، کچھ دیر میں ہمیں کاپی مل جائے گی۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن کا مقدمہ جواد احمد کی مدعیت میں تھانہ فیصل ٹاؤن میں درج کیا گیا  ہے، لاہور پولیس نے اندراج مقدمہ کی درخواست پر عمل درآمد کے لئے ایس ایچ او فیصل ٹاون کو حکم دیا جس میں کہا گیا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق ماڈل ٹاؤن سانحہ کا مقدمہ درج کیا جائے۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مقدمے کا نمبر 693/14 ہے جب کہ مقدمے میں دفعہ 302, 307, 148, 149, 334 اور 109 شامل ہیں۔ دوسری جانب انسدا دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی پولیس کی مدعیت میں درج ہونے والی ایف آئی آر میں نامزد ملزموں کی گرفتاری کا حکم دیدیا۔ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے روبرو تھانہ فیصل ٹاؤن کے تفتیشی افسر نے موقف اختیار کیا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی پولیس کی مدعیت میں درج ہونے والی ایف آئی آر میں نامزد ملزم سابق ایس ایچ او شادمان عاصم شیخ کے علاوہ ایلیٹ فورس کےمحمد دلاور، نثار احمد،  بابر اور عبید شامل ہیں۔

تفتیش میں یہ قصور وار پائے گئے ہیں لہذا ان کی گرفتاری کے لئے وارنٹ جاری کئے جائیں، عدالت نے ان ملزموں کے وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے پانج ستمبر کو انہیں گرفتار کرکے پیش کرنے کاحکم دیدیا ہے۔

 

وکیل پی اے ٹی منصور آفریدی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری طور پر مقدمہ درج ہونے کا بتایا گیا ہے، کچھ دیر میں ہمیں ایف آئی آر کی کاپی مل جائے گی، افواہیں پھیلانے سے گریز کیا جائے۔

 

صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ  کاپی ملنے کے بعد دیکھیں گے کہ قانونی تقاضے پورے ہوئے ہیں یا نہیں، امید ہے معاملات حل ہوجائیں گے۔ سماء

کی

پر

protests

karzai

Tabool ads will show in this div