سپریم کورٹ نے رینٹل پاور پروجیکٹس کی تفصیل طلب کر لی

اسٹاف رپورٹر


اسلام آباد: سپریم کورٹ نے وزارت پانی اور بجلی سے رینٹل پاور پروجیکٹس کی تفصیل طلب کر لی۔۔۔ فی یونٹ نرخ اور قومی گرڈ اسٹیشن میں ان منصوبوں سے حاصل ہونے والی بجلی کے بارے میں بھی آگاہ کرنے کی ہدایت کردی گئی۔


عدالت عظمی کے تین رکنی بینچ نے چیف جسٹس افتخار چودھری کی سربراہی میں رینٹل پاور پراجیکٹ کیس کی سماعت کرتے ہوئے وزارت پانی و بجلی سے تفصیل طلب کی۔


 وفاقی وزیر فیصل صالح حیات نے اپنے بیان میں کہا کہ رینٹل پاور پروجیکٹس میں پیپرا قواعد کی بھی خلاف ورزی کی گئی۔۔۔ پارلیمنٹ میں بات نہیں سنی گئی اس لیے عدالت میں آنا پڑا۔


 ایل این جی کیس میں عدالت نے قرار دیا کہ قواعد کے خلاف منصوبے منسوخ تصور ہوں گے۔۔۔ مسلم لیگ نون کے رہنما خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ صرف 3 رینٹل پاور پروجیکٹس بجلی فراہم کر سکے اور ان سے صرف 267 میگاواٹ بجلی حاصل ہوئی جو 42 روپے فی یونٹ ہوگی۔


 فیصل صالح حیات نے کہا کہ آئی پی پیز کی موجودگی میں رینٹل پاور پروجیکٹس کی ضرورت نہیں تھی اور صرف مال بنانے کے لیے یہ پروجیکٹس شروع کیے گئے۔


 چیف جسٹس نے وفاقی وزیر سے استفسار کیا کہ وہ کابینہ کے رکن کے طور پر کرپشن کے خاتمے کے لیے کام کیوں نہیں کرتے۔ اعظم سواتی نے وزارت کی پروا کیے بغیر ساتھی وزیر کی مبینہ کرپشن کے خلاف آواز اٹھائی۔ اعظم سواتی کو وزارت سے ہاتھ دھونا پڑے لیکن وہ کرپشن کی بات کرنے سے نہیں رکے۔


 فیصل صالح حیات نے اپنے دلائل میں کہا کہ شوکت ترین نے بطور وزیر خزانہ ان پروجیکٹس پر اعتراض کیا تھا اور رینٹل پاور پروجیکٹس کو پیشگی ادائیگی عالمی بینک نے بھی غلط قرار دی تھی لیکن پیپرا کے ساتھ ساتھ نیپرا نے بھی اس کرپشن پر آنکھیں بند رکھیں۔


 عدالت نے پراجیکٹس کے لیے پیشگی رقم، استعداد اور آپریشن کی تفصیل طلب کی ہے۔۔۔ اور سماعت کل تک کیلئے ملتوی کر دی۔ سماٴ

کی

نے

کر

طلب

decade

fans

prank

reject

defeats

Tabool ads will show in this div