تن پہ کپڑے نہ پاؤں میں جوتے،بے یارومددگارمتاثرین امداد کے منتظر

اسٹاف رپورٹ

کراچی: سندھ میں بارشیں تو رک گئی ہیں مگر متاثرین کی مشکلات کا سیلاب ابھی تھم نہیں سکا ہے۔

کئی امدادی کیمپوں میں متاثرین کھانے کیلئے ترس رہے ہیں اور بااثر زمینداروں کی جانب سے نہروں میں پانی چھوڑے جانے سے بھی عوام کی مشکلات بڑھ رہی ہیں۔ مختلف شہروں میں گیسٹرو نے مزید پانچ افراد کی جان لے لی ہے۔

تن پہ کپڑے نہ پاؤں میں جوتے بدین کی جھونپڑیوں میں پناہ گزین نہ تو خانہ بدوش ہیں اور نہ ہی بھکاری بلکہ سیلاب کے مارے وہ لوگ ہیں جو رات کو خوشحال سوئے تھے لیکن صبح آنکھ کھلنے پر ان کا سب کچھ سیلاب میں بہہ چکا تھا۔

صورتحال اب یہ ہے کہ دن میں کھانے کو ملتا ہے تو رات کو بھوکے پیٹ سونا پڑتا ہے۔ بھلا بھوک سے بلکتے بچوں کو کون سمجھائے کہ  وہ زندگی کی بھیک مانگ رہے ہیں۔

بارش اور سیلاب سے جہاں اور کئی مصیبتیں آئیں وہیں بیماریوں نے بھی متاثرین کو گھیر لیا لیکن جہاں تندرستوں کی خبر گیری کرنے والا کوئی نہیں وہاں بیماروں کو کون پوچھے۔ بدین کا تو سول اسپتال بھی پانی میں ڈوب گیا ہے۔ مریض کہتے ہیں کہ دوا تک نہیں مل رہی ۔

نوشہرو فیروز میں سیلاب کی مصیبت تو تھی ہی زمیندار بھی مشکل گھڑی میں غریبوں کے لئے آفت بن گئے ہیں جہاں وہ زمینیں بچانے کے لئے سیلابی پانی نہروں میں ڈال رہے ہیں۔ جس سے کئی گوٹھ ڈوبنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ دیہاتی کہتے ہیں کہ وہ راتیں جاگ کر گزار رہے ہیں۔


یہ کسی جزیرے کا منظر نہیں بلکہ یہ سندھ کا ایک بڑا شہر میرپورخاص ہے۔ جہاں موٹر گاڑیوں نے کام چھوڑ دیا تو گدھا گاڑیاں ہی کام آئیں۔ یہاں کا سول اسپتال بھی پانی میں ڈوبا ہوا ہے اور شہری کہتے ہیں کہ نوٹس لینے والا کوئی نہیں۔

بے نظیر آباد میں بھی ہزاروں گھر گر چکے ہیں اور لوگ بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ متاثرین نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ان کی بحالی کے لئے اقدامات کئے جائیں تاکہ وہ از سر نو زندگی کا آغاز کر سکیں۔ سماء

میں

کے

9/11

offers

assam

israeli

planes

targets

Attack

Tabool ads will show in this div