کوئی فریادمیرے دل میں دبی ہوجیسے

TANVEER ASLIVE ON TRAFFICE KHI 22-11

گذشتہ ہفتے ایک ادبی محفل میں جانے کا اتفاق ہوا۔ تقریب کا آغازشام چار بجے شروع ہونا تھا اورہماری کوشش تھی کہ ہم وقتِ مقررہ پرلازمی پہنچ جائیں لیکن کراچی کی شاہراہوں کی صورتحال سے کون واقف نہیں ہے،ایک عجیب گہماگہمی،ایک عجیب بے ہنگم صورتحال ،جہاں دیکھو ٹریفک کی یلغار،جدھردیکھو،ہر چھوٹی بڑی شاہراہ پر ٹریفک کا اجتماع۔

ہم آٹو رکشہ میں سوار اِس کبھی نہ ختم ہونے والے دھرنے میں شامل تھے اورجاوید ہاشمی کی طرح بڑی بے صبری سے اِس دھرنے سے نکلنے کی تدبیریں لڑارہے تھےلیکن کوئی تدبیر نہ بن پارہی تھی ۔ابھی ہم شور کرتی گاڑیوں کے رش میں پھنسے اضطرابی کیفیت میں مبتلا تھے کہ ہم نے دیکھا ایک شخص جس کے ہاتھ میں نائلون کے دھاگے سے بنا ایک پنجرہ نماتھیلاتھا جس میں پانچ چھ چڑیا قید تھیں، وہ شخص رش میں موجود ایک کار کے قریب آیا اور کار کے مالک سے پنجرے میں موجود چڑیوں کےبارےکچھ بولنےلگا،جس پرکار کے مالک نے ایک سو روپے کا نوٹ اُس پنجرے والے کو دیا اور پنجرے میں موجود تمام چڑیوں کو آزاد کرنے کو کہا۔ اُس شخص نے فوراً سو کا نوٹ اپنی جیب میں ڈالا اور اُس نائلون کے تار سے بنے پنجرے میں موجود اُن تمام چڑیوں کو آزاد کردیا ۔ہم آزادی حاصل کرنے والی چڑیوں کو اُڑتا دیکھ کرمسرور ہونے لگے اور یقینا دوسری جانب ثوابِ دارین حاصل کرنے والے کار کے مالک بھی یہ سب دیکھ کر مسحورہوئے ہونگے اور خود کو کافی ہلکا محسوس کررہے ہونگے۔ صرف ایک سو کے نوٹ سے اپنے لئے جنت میں جانے کیا کیا نہ بناڈالاہوگا۔ ہم اُن اُڑتی چڑیوں کو دیکھتے رہے۔ باغور دیکھنے پر پتا چلا وہ ٹھیک سے اُڑ نہیں پارہی ہیں۔ وہ اُڑتی اُرتی شاہراہوں کے درمیان لگے سبزے کے ایک نچلی ٹہنی پر بیٹھ گئیں۔ شاید وہ زیادہ اوپر اڑ نہیں پارہی تھیں ،کچھ ہی دیر بعدکیا دیکھتے ہیں کہ وہ پنجرے والا شخص دوبارہ اُن چڑیوں کے قریب آیا اور ایک مخصوص آوازکے ساتھ سیٹی بجاتے ہوئے اُن چڑیوں کوپھر سے پکڑنے کی کوشش کرنے لگا ۔وہ اُن چڑیوں کو دوبارہ پکڑ سکا یا نہیں اور کسی اور موصوف کو ثوابِ دارین حاصل کرنے کا موقع فراہم کرسکا یا نہیں، یہ ہم نہیں بتا سکتے کیونکہ ٹریفک دھرنا کافی آگے نکل چکا تھا۔ابھی کار کے مالک پوری طرح مسحور ہونے بھی نہ پائے تھے کہ ایک بوڑھی عورت اُس کار والے کے پاس آئی دھوپ گرمی سے جھلسے ہاتھوں کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنی مفلسی کی فریاد سنانے لگی۔ مفلس عورت کی فریاد سن کر ثوابِ دارین حاصل کرنے والے کار کے مالک نے بوڑھی عورت کے ہاتھ میں پانچ کا سکہ تھمادیا جسے خاموشی سے لیکر وہ بوڑھی عورت سکے کو اُلٹ پلٹ کر دیکھتے ہوئے آگے چلتی بنی۔

Birds Park Isb Pkg 21-08

ہم یہ بات آج تک نہ سمجھ پائے کہ چڑیوں کا دانہ زیادہ مہنگا تھا یا اُس بوڑھی عورت کے پیٹ کی آگ بجھانے والی روٹی زیادہ مہنگی تھی یاپھرچڑیوں کی وہ آزادی جو کہ درحقیقت ایک فریب تھی؟تِل مانِک بڑھتا سسکتا کھسکتا ٹریفک کا یہ اجتماع ایک دردِسر بننے لگا تھا۔ ٹریفک کے شور کے ساتھ اچانک انسانی شور بھی سنائی دینے لگا۔ شور کی آواز آنے پر ہم نے آٹو رکشہ سے اپنی گردن کو باہر نکالا تو پتا لگا کہ چورنگی پر گاڑیاں ایک دوسرے سے متصادم ہیں اور سیاست دانوں کی طرح پہلے میں پہلے میں پر بضد ہیں جبکہ بے چارہ ٹریفک سارجنٹ پاکستانی عوام کی طرح ملے گا ملے گا سب کو موقع ملے گا کی رَٹ لگائے عجیب کشمکش میں مبتلا نظر آرہا تھا۔ جلدبازی اور ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کے لئے نااہلوں نے سڑک کو بری طرح جام کر رکھا تھا۔

7936-TrafficrawalpindiAghaMehrozx-1315823392-315-640x480 ٹریفک جام کی سب سے بڑی وجہ ٹریفک قوانین پر عمل نہ کرنا ہی ہے۔ ہمیں یہ بات آج تک سمجھ نہیں آئی کہ لوگ گاڑی چلاتے وقت ٹریفک قوانین کا احترام کیوں نہیں کرتے ۔آخر کیوں اپنا نقصان آپ کرتے ہیں۔ ہم پوچھتے ہیں آخر کیا چلا جائے گا اگر رولز کو فالو کرتے ہوئے ڈرائیو کریں۔ ٹریفک قوانین کا احترام کرنے سے آپ خود کوبہت بڑے نقصان سے بچاسکتے ہیں ۔ صرف چند منٹ بچانے کے لئے غلط ڈرائیو کرتے ہوئے گھنٹوں کا انتظار خود بھی کرتے ہیں اور دوسروں کے قیمتی وقت کے ضائع کا باعث بنتے ہیں۔یہ بھول جاتے ہیں کہ پانچ دس منٹ کی جلدبازی صدیوں کی تاخیر میں بدل سکتی ہے۔ خاص کر آج کے منچلے نوجوان جو انتہائی کم عقلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سڑکوں پر اپنی موت کو دعوت دیتے ہیں،ایسے نوجوانوں کے والدین کو سوچنا چاہیئے کہ وہ اپنی اولادوں کو اس جہالت گردی سے روکیں اور انھیں صحیح معاشرتی اقدار سمجھائیں۔ اگر آج ہم اِن چیدہ چیدہ اصولوں کو اپنانا شروع کردیں اورمعاشرےکی بگڑتی اقداروں کوسنوارنا شروع کردیں،آج سے یہ عہد کرلیں کہ اب ہم نے ایک پڑھے لکھے مہذب لوگوں کی طرح اپنی گاڑی کو ڈرائیو کرنا ہے،ٹریفک قوانین کی پابندی کرنی ہے۔ سگنلزکو فالو کرنا ہے،اپنے گھروں سے بے شک پانچ دس منٹ پہلے نکل جائیں لیکن سڑکوں پر شاہراہوں پر ہم نے کسی سگنلزکونہیں توڑنا،کسی گاڑی کواوورٹیک نہیں کرنا۔ اگر ہم واقعی ایسا کرنے میں کامیاب ہوگئے تو یقینا ہم اپنی نسلوں کو ایک مہذب معاشرہ دینے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

traffic jam

charity

birds release

Tabool ads will show in this div