وزیراعظم مشکل میں پڑ گئے؛ عدالت نے مزید سوال اٹھا دیئے

Sc Panama London Flats Isb Pkg 05-12

اسلام آباد: بی ایم ڈبلیو کا کے بعد عدالے نے زمین  اور گھر سے متعلق  تذکرہ بھی چھیڑ دیا۔ عدالت نے لیگی وکیل سے استفسار کر دیا کہ وزیراعظم نے مریم نواز کیلئے زمین کب خریدی؟ اراضی کی رقم والد کو کب ادا کی؟ مریم نواز کے گھر کا ایڈریس کیا ہے؟

جسٹس شیخ عظمت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ زیر کفالت ہونے کا معاملہ بھی ابھی حل نہیں ہوا۔

سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت کے دوران ، عدالت نے کہا کہ  دونوں فریق دستاویزات پر انحصار کر رہے ہیں ۔۔ جائزہ لینے کیلئے ممکن ہے ۔۔ کمیشن بنانا پڑے ۔۔ شواہد ریکارڈ کرنا ہمارا کام نہیں ۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس میں کہا ہے کہ قطر میں سرمایہ کاری کا کوئی ریکارڈ نہیں ۔۔۔ وزیراعظم کی کسی تقریر میں بھی قطر کا ذکر نہیں تھا ۔۔ جس پر نواز شریف کے وکیل نے دلیل دی کہ تقریر عدالتی ریکارڈ نہیں بلکہ سیاسی تھی ۔

جسٹس شیخ عظمت نے کہا ہمارے سامنے جو کیس ہے اس کا فیصلہ ہم کریں گے، آپ کے کیس میں منی ٹریل دبئی سے جدہ اور لندن جاتی ہے۔

کیس سے متعلق میڈیا میں ہونے والی گفتگو کے حوالے سے جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا تمام باتوں کا جواب عدالت میں ہی دینا چاہئے ۔ جبکہ عدالت میں دلائل کم اور میڈیا میں زیادہ دیئے جاتے ہیں۔

،جسٹس شیخ عظمت نے کہا پریس میں دیکھ کر لگتا ہے کہ کسی اور کیس پر بات ہو رہی ہے۔  میڈیا میں جو کیس ہے اس کا فیصلہ میڈیا خود کرے۔

جسٹس اعجاز الاحسن کہتے ہیں وزیراعظم کی کسی تقریر میں قطر کا ذکر نہیں تھا۔  مشکل بات یہ ہے قطر میں سرمایہ کاری کا کوئی ریکارڈ نہیں ۔جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ قسطوں کی ادائیگی کیلئے رقم کہاں سے آئی۔

جواب دیتے ہوئے وزیراعظم کے وکیل سلمان بٹ نے کہا وزیراعظم کی تقریر عدالتی ریکارڈ نہیں بلکہ سیاسی تھی ۔ اور انکی کسی تقریر میں کوئی تضاد نہیں ۔

انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح وزیراعظم سے متعلق بات کی جا رہی ہے وہ درست نہیں ۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا نواز شریف ہمارے بھی وزیراعظم ہیں اور قابل احترام ہیں۔ مگر پاناما کیس میں انکو جواب دینا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ راجہ پرویز اشرف کو بھی کہا تھا الزامات ثابت ہونے تک آپ قابل احترام ہیں۔

جسٹس امیر ہانی نے کہا اب آپ وزیراعظم کی تقریر کو سیاسی قرار دے رہے ہیں۔  جسٹس کھوسہ کہتے ہیں آپ کہنا چاہتے ہیں ریکارڈ سے متعلق وزیراعظم کی بات غلط تھی۔جواب دیتے ہوئے سلمان بٹ نے کہا کہ قطری خاندان کے ساتھ معاملہ کیسے طے اور شروع ہوا معلوم نہیں ۔جسٹس کھوسہ نے کہا عوام کے سامنے یہ کیوں کہا گیا کہ تمام ریکارڈ موجود ہے اور سامنے لایا جائے گا۔ سماء

 

MARYAM NAWAZ

Panama leaks

panama papers

London Flats

Panamagate

Panamagate scandal

Tabool ads will show in this div