پولیس کاتحریک انصاف کےکارکنوں کوقیدی وین میں ڈالنابھاری پڑگیا

ویب ایڈیٹر:


اسلام آباد :   عدالت نے پاکستان تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے100 کارکنوں کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا ہے، جب کہ دوسری جانب تحریک انصاف کے کارکنوں نے قیدیوں کی وین کو حصار میں لے کر جیل جانے سے روک دیا، تاہم ایک وین پولیس مشتعل کارکنوں کے حصار سے نکالنے میں کامیابی ہوگئی۔

عدالتی احاطہ یا مچھلی بازار :
ایف ایٹ کچہری کے باہر اور احاطے میں اس وقت دما دم مست قلندر دیکھنے میں آیا، جب  ایف ایٹ کچہری کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے 500 سے زائد کارکنوں کو عدالت میں پیش کیا گیا، کارکنوں کو گویا عدالت میں کیا پیش کیا گیا، یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح ہر طرف پھیل گئی اور مشتعل کارکنوں کی بڑی تعداد عدالت کے احاطے اور باہر پہنچ گئی۔

ایف ایٹ کچہری میں تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے گرفتار کارکنوں کے خلاف سنوائی کا آغاز ہوا، اور عدالت نے گرفتار تحریک انصاف اور پی اے ٹی کے50ارکان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا، جب کہ دوسری جانب بیس ہزار روپے جمع نہ کراسکنے والے کارکنوں کی ضمانت بھی نہیں ہوسکی۔

قیدی وین اور پولیس کا کارکنوں سے تصادم:
پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کو عدالتی حکم کے بعد جب جیل منقتل کرنے کا وقت آیا اور قیدی گاڑیوں میں سوار کرکے لے جایا جا رہا تھا کہ مشتعل کارکنوں کی بڑی تعداد نے قیدیوں کی وین کو عدالت سے باہر جانے سے روک دیا۔ وین میں کارکنوں نے شدید نعرے بازی اور ہنگامہ آرائی کی۔ کچہری میں امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کے خدشہ پر پولیس کی اضافی نفری طلب کر لی گئی ہے۔

تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے کارکنوں‌ نے قیدی وین کا گھیراؤ کرلیا اور قیدی وین کے ٹائروں‌ کی ہوا نکال دی، اس موقع پر مشتعل اور جذباتی کارکنوں‌ نے نعرے لگاتے ہوئے کہا کہ وہ کسی صورت قیدی وین کو کچہری سے باہر نہیں‌ جانے دیں‌ گے۔

کارکن بے ہوش:
پولیس اور مشتعل کارکنوں کی دھکم پیل میں ایک اہلکے اعصاب کا کارکن گھمبیر ہوتی صورت حال دیکھ کر بے ہوش ہوگیا، اسی دوران تحریک انصاف کے کارکن قیدیوں کی گاڑیوں پر چڑھ گئے، جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجا گیا شخص پولیس کی گاڑی میں بے ہوش ہوا، جس کے بعد بے ہوش کارکن کو پولیس وین سے باہر نکال لیا گیا۔

موقع پر موجود پی ٹی آئی قیادت:
عدالتی احاطے اور باہر ہونے والے ممکنہ تصادم کے موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عارف علوی بھی موقع پر پہنچ گئے، اس موقع پر عارف علوی کارکنوں کی ابتر حالت دیکھ کر انتہائی جذباتی ہوگئے۔
میڈیا سے گفت گو میں عارف علوی کا کہنا تھا کہ کارکنوں کو غیر قانونی طور پر جیل بھیجا جا رہا ہے، تحریک انصاف کے ساتھ ناروا سلوک کیا جا رہا ہے، جب تک مجسٹریٹ نہیں آتے گاڑیوں کو جانے نہیں دینگے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف دھرنے سے پیچھے نہیں ہٹے گی، کارکن بسوں کو اڈیالہ جیل نہیں جانے دیں۔

پولیس والے وین لیکرفرار:
کشیدہ صورت حال کے تناظر میں آئی جی اسلام آباد بھی موقع پر پہنچ گئے اور تحریک انصاف کی قیادت اور کارکنوں کو دفعہ 144 کے نفاذ کا یاد دلایا اور کارکنوں اور قیادت کو عدالت کے اندر اور باہر سے چلے جانے کا کہا،تاہم پولیس کے جوان بھی کسی سے کم نہ نکلے اور کسی نہ کسی طرح کارکنوں کے سخت حصار سے ایک قیدی وین کو آزاد کرانے اور نکالنے میں کامیاب ہوگئے، مگر یہ دیکھنے والا منظر لوگ سالوں سال نہیں بھولیں گے، جب قیدی وین کو کارکنوں کے حصار سے نکالتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما عندلیب اور دیگر اراکین وین کے پیچھے لٹک گئے اور اسی حالت میں وین جیل روانہ ہوگئی۔

آئی جی اسلام آباد کی شعلہ بیانی:
اس موقع پر آئی جی اسلام آباد بغیر کنڈاسے کے مولا جٹ بن گئے، میڈیا سے گفت گو میں آئی جی اسلام آباد طاہر عالم بھرپور جذبات اور اشتعال میں آگئے اور کہنے لگے کہ کچہری میں مظاہرہ کرنے والے فوری منتشر ہوجائیں، منتشر نہ ہونے والے کارکنوں کو گرفتار کرلیا جائے گا، آئی جی کا کہنا تھا کہ دفعہ144کے تحت 5 سے زائد افراد کا اجتماع ممنوع ہے۔

طاہر عالم نے کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کے کام میں رکاوٹ ڈالنا خلاف قانون ہے،تاہم دوران گفتگو اس وقت دلچسپ صورت حال دیکھنے میں آئی جب صحافیوں کے سوال پوچھنے پر آئی جی اسلام آباد کو غصہ آگیا، آئی جی نے کہا کہ ہدایت جاری کردی ہے میڈیا پر ہاتھ نہ اٹھایا جائے، گرفتار افراد نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کی ہے۔

آئی جی طاہر عالم نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کی کارکنان نے کار سرکار میں مداخلت کی، ہم اپنا فرض ادا کر رہے ہیں، سیاست سے تعلق نہیں، چاہتے ہیں طاقت کا استعمال نہ ہو، ایک موقع پر تو آئی جی صاحب مکمل آپے سے باہر ہوگئے اور صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے غصے میں ڈھاڑتے ہوئے بولے کہ "آپ چپ کریں"۔

اعظم سواتی:
کچھ دیر بعد تحریک انصاف کے رہنما اعظم سواتی پر موقع پر پہنچ گئے، میڈیا سے بات چیت میں اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ کارکنوں کو گاڑیوں سے اتار کر گرفتار کیا گیا، کارکنوں کو غیر قانونی طور پر گرفتار کیا گیا۔
اعظم سواتی قانونی کی حکمرانی نہیں بلکہ تشدد کیا جا رہا ہے، کچہری سے کسی صورت نہیں جائیں گے، کارکنوں کو بھوکا پیاسہ رکھا جا رہا ہے۔میڈیا سے گفت گو کو کچھ دیر نہ گزری تھی کہ پولیس کے تازہ دم اہلکار عظم سواتی کو اپنا مہمان بنانے آگئے اور حراست میں لے کر چلے گئے۔

صوبائی دارالحکومت میں ممکنہ کشیدگی کے پیش نظر پمز اسپتال میں ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔ سماء

میں

coup

Tabool ads will show in this div