نیوکلیئرسپلائیرزگروپ میں بھارتی شمولیت سےخطےکوخطرہ ہوگا

Sartaj Aziz Speech Isb 15-11 اسلام آباد : سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ پاکستان جنوبی ایشیاءکو درپیش تذویراتی توازن کے خطرات سے لاتعلق نہیں، کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کے معمول پر آنے میں بڑی رکاوٹ ہے، ان کا کہنا تھا کہ نیو کلیئر سپلائیرز گروپ میں بھارت کی شمولیت سے خطے میں طاقت کا توازن متاثر ہوگا۔ جنوبی ایشیاءمیں امن و تعاون سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب میں سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ پاکستان جنوبی ایشیاءکو درپیش تذویراتی توازن کے خطرات سے لا تعلق نہیں،کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کے معمول پر آنے میں بڑی رکاوٹ ہے، ہتھیاروں کی فراہمی کے نظام نے خطے میں موجود روایتی صلاحیتوں کو وسیع کردیا ہے،جس کا دنیا کو مکملادراک نہیں۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ بھارت خطے میں اسلحے کی دوڑ کو فروغ دے رہا ہے تاہم پاکستان خطے میں امن و استحکام کیلئے کم سے کم نیو کلیئر ڈیٹرنس برقرار رکھے گا، نیو کلیئر سپلائیرز گروپ میں بھارت کی شمولیت سے خطے میں طاقت کا توازن متاثر ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان علاقائی سالمیت اور خود مختاری کیلئے باہمی عزت و احترام کی بنیاد پر امن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے تاہم خطے میں درپیش تذویراتی خطرات سے لا تعلق نہیں رہے گا، ملکوں کے مابین باہمی تنازعات ترقی و استحکام میں رکاوٹ ہیں جس نے گزشتہ ایک دہائی سے عالمی امن کو شدید متاثر کیا ہے۔ مشیر خارجہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسی پالیسیوں اور سرگرمیوں سے گریز کریں جس سے جنوبی ایشیاءمیں تذویراتی استحکام کو خطرات لا حق ہوں۔انہوں نے کہا کہ ہتھیاروں کی فراہمی کے نظام نے جنوبی ایشیاءمیں موجود روایتی صلاحیتوں کو وسیع کر دیا ہے جس کا دنیا کو مکمل ادراک نہیں۔مشیر خارجہ نے کہا کہ بھارت خطے میں اسلحے کی دوڑ کو فروغ دے رہا ہے تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کیلئے کم سئے کم نیو کلیئر ڈیٹرنس برقرار رکھے گا۔ سرتاج عزیز نے واضح کیا کہ بھارت کی این ایس جی میں شمولیت سے خطے میںطاقت کا توازن بگڑ جائے گا۔انہوں نے کہا کہ این ایس جی کی رکینیت کیلئے پاکستان غیر امتیازی اور میرٹ کی بنیاد پر اپروچ پر زور دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی سرگرمیاں خطے کی ایک ارب آبادی کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔بھارت پاکستان میں دہشت گرد اور تخریبی کارروائیاں کرنے میں ملوث ہے۔انہوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرل پر سیز فائر کی خلاف ورزیوں کے علاوہ بھارت پاکستان کیساتھ سرحدوں پر بھاری ہتھیاربھی استعمال کر رہا ہے۔سرتاج عزیز نے کہا کہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کے معمول پر آنے میں بڑی رکاوٹ ہے۔ انہون نے کہا کہ بھارت کشمیر پر پاکستان کیساتھ مذاکرات سے انکار کر رہا ہے اور مقبوضہ وادی میں بیگناہ کشمیریوں کیخلاف ریاستی دہشت گردی اور جارحیت کا بازار گرم کر رکھا ہے۔انہوں نے کہا بھارت کیساتھ جب بھی مذاکرات ہوئے کشمیر کا مسلہ ایجنڈے میں سرفہرست ہو گا۔انہوں نے کہا بھارت کے غیر زمہ دارانہ روئیے کی وجہ سے سارک سربراہ کانفرنس کو معطل کر نا پڑا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں 70ہزار سے زائد جونوں کی قربانیاں دی ہیں، پاکستان افغانستان میں امن کیلئے سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے۔ سماء

sartaj aziz

Nuclear Supplier Group

Tabool ads will show in this div