ہر مقدمے کودہشتگردی کا رنگ دینے کی کوشش ہوتی ہے،چیف جسٹس

اسٹاف رپورٹ

کراچی: سپریم کورٹ میں کراچی از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کراچی میں لسانی یا سنی شیعہ فسادات نہیں ہو رہے ہیں۔ ہمیں ایسی باتیں کرنی چاہیئے جس سے ملک اور قوم مضبوط ہو۔

سپریم کورٹ رجسٹری میں سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ کراچی میں  شیعہ سنی فسادات نہیں ہورہے۔ ایسی بات کرنی چاہئے جس سے قوم و ملک مضبوط ہو۔
چیف جسٹس نے کہا کہ وہ خود پنجابی ہیں لیکن انھیں مختلف زبانیں بولنے پر فخر ہے۔ فورسز اپنا کام کر رہی ہیں اور حالات میں کچھ نہ کچھ بہتری آ جائے گی۔
سندھ ہائی کورٹ بار کے صدر انور منصور خان نے کہا کہ کراچی کو مختلف زبانیں بولنے والوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ گواہوں کو تحفظ فراہم کرنے کا مسلسل کہا جارہا ہے لیکن اس پر عملدرآمد نہیں ہورہا۔ بھارت میں گواہوں کا تحفظ پہلی ترجیح ہے۔

ہر مقدمے کو دہشت گردی کا رنگ دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بھتہ خوری کو بھی دہشت گردی کے مقدمات سے ملانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ کراچی کی ایک جماعت آئین کے آرٹیکل سترہ کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔

انہوں نے ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ آپ کو اس سیاسی جماعت کا علم ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ  گزشتہ سال کراچی میں تیرہ سو دس افراد کو قتل کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ آئی جی سندھ کو پتہ ہے کہ پوليس ميں چالیس فی صد بھرتياں سياسی بنيادی پر ہوئی ہیں تو يہ حکومت کو کيوں نہيں معلوم ؟۔ آئی جی کہتے ہيں کہ وہ کسی سپاہی کا تبادلہ بھی نہيں کرسکتے۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ عدالت کو ايک وکيل نے دی۔  حکومت نے کيوں فراہم نہيں کی۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ  وزير داخلہ کہتا ہے کہ اگر عدالت اجازت دے تو ٹارگٹ کلرز کے نام بتادیں گے اورلوگ حيران ہوجائيں گے۔ وزير داخلہ کے بيان کے بعد مقدمے کی سماعت کی گنجائش نہيں بنتی، بشرطیکہ حکومت اپنا کام عدالت کے کہنے کے بجائے خود کرلے۔

وفاق کے وکیل بابر اعوان نے بیان میں کہا کہ حکومت ناکام نہیں ہوئی، عدالت میں بار بار حکومت سے متعلق غلط تاثر دیا جا رہا ہے۔ سابق حکومت کے نو برس میں سولہ ہزار ایکڑ سرکاری اراضی پر قبضے ہوئے،
جسٹس سرمد جلال عثمانی نے بابر اعوان سےاستفسار کیا کہ کیا آپ کو یہ قبضے چھڑانے کے لیے مزید نو سال درکار ہوں گے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ انتیس برس میں کتنی حکومتیں ختم کی گئیں،بابر اعوان نےجواب دیا کہ کئی حکومتوں کو مقررہ وقت مکمل کرنے کی اجازت ہی نہیں دی گئی، آپ حکومت کو کریڈٹ دیں کہ وہ حقائق نہیں چھپا رہی، بلکہ بتا رہی ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل سندھ عبدالفتح ملک نےبتایا کہ مفرور ملزمان کی گرفتاری میں وقت لگ رہا ہے البتہ انہیں جلد گرفتار کر لیا جائے گا، چیف جسٹس نے معلوم کیا کہ نادرامیں کب سے مجرموں کا ریکارڈ جمع ہوناشروع ہواہے، بابر اعوان نے بتایا کہ یہ ریکارڈ جمع کرنے کی شروعات موجودہ حکومت نے کی ہے۔ سماء

کی

کا

Saudi Arabia

indonesia

ferry

express

Tabool ads will show in this div