سپریم کورٹ میں رینٹل پاور پروجیکٹس سے متعلق کیس کی سماعت

اسٹاف رپورٹ
اسلام آباد : سپریم کورٹ میں رینٹل پاور پروجیکٹس کیس کی سماعت جاری ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ہیں کہ کراچی میں بتیس فیصد بجلی چوری ہوتی ہے اور ادائیگی بل بھرنے والوں کو کرنا پڑتی ہے۔

چیف جسٹس کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت نے ہنگاموں کے بعد لوڈ شیڈنگ ختم کرادی۔ بتایا جائے بجلی کہاں سے آئی، ذمہ داروں کو اس بات کا جواب دینا ہو گا۔

سپریم کورٹ میں رینٹل پاور پروجیکٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار چوہدری کا کہنا تھا کہ کارکے کے وکیل یہ بات تسلیم کر چکے ہیں کہ انہیں کابینہ کی منظوری سے پہلے ایڈوانس ادائیگی کر دی گئی تھی۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ جن منصوبوں نے مقررہ تاریخ پر کام  شروع نہیں کیا۔ انہیں بند کیوں نہیں کیا گیا۔ اشتہارات میں مشینری کی عمر سے متعلق کوئی شرط نہیں دی گئی۔ یہ پیپرا قواعد کی خلاف ورزی ہے جس پر وزارت پانی و بجلی کے وکیل خواجہ طارق رحیم نے کہا کہ مشینری کے لیے صرف بجلی کی مطلوبہ پیداوار کی شرط تھی جن پروجیکٹس نے طے شدہ پیداوار نہیں دی ان پر جرمانے عائد کیے گئے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ  جرمانے وصول کرنا منصوبوں کا مقصد نہیں تھا۔ عدالت عظمٰی بے قاعدگیوں کی نشاندہی کرے گی، کرپشن کی تحقیقات متعلقہ اداروں کا کام ہے۔

خواجہ طارق رحیم نے موقف اختیار کیا کہ کسی ایک منصوبے میں بھی پیپرا قواعد کی خلاف ورزی نہیں ہوئی ۔ کار کے رینٹل پاور کمپنی کو دیئے گئے پروجیکٹ کے لیے ملکی اور عالمی میڈیا میں اشتہار دیا گیا تھا۔ تمام رینٹل پروجیکٹس کے ٹھیکے کابینہ کی منظوری سے دیئے گئے۔ سماء

میں

کی

سے

کیس

fans

prank

reject

Tabool ads will show in this div