سندھ کا تاریخی شہر برہمن آباد

adeel 1 ویسے تو سندھ میں بہت سے قدیم شہر موجود ہیں جن کے آثار آج بھی نظر آتے ہیں لیکن ان قدیم شہروں کی حالت زار اس حد تک ابتر ہوچکی ہے کہ یہ جگہیں پہچاننے میں بھی نہیں آتیں۔ انہی میں سے ایک جگہ برہمن آباد ہے جس کو آج کل "منصورہ" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ برہمن آباد شہر تقریبا 8 میل (13 کلومیٹر) شہداد پور کے جنوب مشرق میں واقع ضلع سانگھڑ میں واقع ہے جبکہ حیدر آباد شہر سے تقریبا 69 کلو میٹر فاصلے پر موجود ہے۔ برہمن آباد شہر کی تاریخ کے متعلق مختلف حوالے دیے جاتے ہیں جس میں سے ایک روایت کے مطابق محمد بن قاسم نے 711 عیسوی میں برہمن آباد کو فتح کرکے اس جگہ کا نام المنصورہ رکھا اسکے بعد سن 1026 میں محمود غزنوی جب سومنات کو فتح کرکے واپسی جارہا تھا تو اس کو بتایا گیا کہ یہاں فاطمیوں کی حکومت ہے لہذا محمود غزنوی نے حملہ کرکے اس جگہ کو مسمار کردیا اور آگ لگادی۔ بہرحال اس کی تفصیل میں ہم جائے بغیر برہمن آباد شہر کو اس کی چند تصاویر سے سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ adeel 2 برہمن آباد شہر کو جب فتح کیا گیا تو یہاں ایک قلعہ تعمیر کیا گیا۔ اس قلعے کے احاطے میں ایک اذان گاہ بھی بنائی گئی جس کو تصویر میں باقاعدہ دیکھا جا سکتا ہے۔ اس قلعے کی دیواریں بلکل ختم ہوچکی یا پھر مٹی میں دفن ہوگئی ہیں لیکن اسکے آثار تاحال باقی ہیں۔ بعض روایات میں اس اذان گاہ کو "واچ ٹاور" کہا جاتا ہے۔ adeel 3 برہمن آباد شہر کی بربادی کے بعد آنے والے کسی حکمران نے بھی اس قدیم شہر پر توجہ نہ دی اور وقت گزرنے کے ساتھ یہاں کی مقامی آبادی نے اس کو اپنے مقاصد کے لئے ہی استعمال کیا اور آج یہ قدیم شہر قبرستان کا ایک منظر پیش کرتی نظر آتی ہے۔ adeel4 مقامی آبادی کی جانب سے نہ صرف اس جگہ کو قبرستان کے طور پر استعمال کیا جانے لگا ہے بلکہ لوگوں نے اپنے گھر تعمیر کرنے کےلئے قلعے کی اینٹوں کا ہی استعمال کیا ہے۔ adeel5 برہمن آباد کے مقامی افراد کی جانب سے اس جگہ کو اب ایک قبرستان کے طور پر ہی استعمال کیا جاتا ہے اور یہاں قلعے کے اطراف میں کافی قبریں بنائی جاچکی ہیں جس کے باعث یہ تاریخی مقام اپنی حیثیت مسلسل کھو رہا ہے۔ adeel6 مقامی افراد کے مطابق برہمن آباد قلعے کے احاطے میں ایک پانی کا کنواں بھی موجود تھا جو وقت گزرنے کے ساتھ مٹی سے بھر چکا ہے اور اس کی چار دیواری بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ کچھ سال قبل اس کنواں والی جگہ سے سونے کی دو مورتیاں بھی ملی تھیں جو کہ مرد اور عورت کی تھی۔ adeel7 تصویر میں نظر آنے والا یہ مزار قلعے کے وسط میں ہی موجود ہے اور بیشتر قبریں اس مزار کے اطراف میں ہی بنائی گئی ہیں۔ adeel8 قلعے کے وسط میں موجود اس مزار میں مرزا غلام محمد نامی بزرگ کی قبر ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ بزرگ برہمن آباد کی تباہی کے وقت موجود تهے اور اسی دوران ان کا انتقال ہوا۔ بہرحال اس مزار کے متعلق بھی مختلف روایات موجود ہیں۔ adeel9 ایک اور روایت کے مطابق قلعے کی بربادی کے وقت یہ مزار یہاں موجود نہیں تھا اور نہ ہی بزرگ کی قبر تھی، بلکہ بعد کے آنے والے لوگوں میں کسی کے خواب میں مرزا غلام محمد نامی بزرگ آئے جس کے بعد یہاں ان کی قبر اور مزار تعمیر کروایا گیا۔ adeel10 بہرحال ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت وقت اس جگہ پر خصوصی توجہ دیکر برہمن آباد شہر موجودہ منصورہ کی باقیات کو بچانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کرے، ورنہ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ یہ جگہ مکمل قبرستان بن جائے گی۔ سماء

OLDEST

OLD

architecture

tradation

historical place

Barhamnabad

City of events

Mud houses

Tabool ads will show in this div