کالمز / بلاگ

سی پیک کےحقائق عوام کومعلوم ہونےچاہیئے

PAK CHINA CPEC

پاک چین اقتصادی راہداری کا خواب شرمندہ تعبیر ہونا ہر پاکستانی کےلیے خوشی کی خبر ہے ۔ اقتصادی راہداری کے حوالے سے ملک میں کافی عرصے سے بحث چل رہی ہے ۔ کوئی اس پر اعتراضات اٹھارہا ہے تو کوئی اس کے فوائد گنوا رہا ہے ۔ اس شور شرابے میں سی پیک سے متعلق حقیقی معلومات عام پاکستانی تک اس طرح نہیں پہنچ سکیں جس طرح پہنچانی چاہیے تھیں۔

یہ بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ چین پاکستان اکنامک کوریڈور کے علاوہ چینی حکومت خطے میں پانچ اور کوریڈور بھی بنارہی ہے ۔ ان کوریڈورز میں (1) چین سینٹرل ایشیاء،ایسٹ ایشیاء اکنامک کوریڈور ، (2) چین منگولیا اکنامک کوریڈور ، (3)چین انڈو چائنا پیننسیولااکنامک کوریڈور،(4) چین بنگلہ دیش انڈیا میان مارکوریڈوراور (5) نیو ایروایشیاء لینڈبرج کوریڈورشامل ہیں۔ یہ کوریڈورز زیادہ ترانفراسٹکچر سے متعلق ہیں جبکہ چین پاکستان اکنامک کوریڈور میں توانائی کے منصوبے اس کوریڈور کو دیگر کوریڈورز سے منفرد بناتے ہیں ۔

gawadar

ماہرین کے مطابق گوادر پورٹ بھی قدرت کی طرف سے پاکستان کےلیے ایک تحفہ ہے جس کا چین کو بخوبی ادراک ہے ۔ ماہرین کے مطابق ایرانی بندرگاہ چاہ بہار کی 12 برتھوں کے مقابلے میں گوادر کی گہرے سمندر کی بندرگاہ کی مکمل ہونے پر 120 برتھیں ہوں گی ۔ یہ بندرگاہ کیلی فورنیا میں دنیا کی سب سے بڑی پورٹ سے بھی تقریباً 2 گنا بڑی ہوگی ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گوادر کی بندرگاہ سے افریقہ ، ایشیا اور یورپ کے 90 ممالک سے تجارت ممکن ہوجائے گی ۔

جس قافلے کو افتتاحی تقریب کے موقع پر گوادر سے روانہ کیا گیا وہ تقریباً ڈیڑھ سو زائد کنٹینر پر مشتمل تھا اور اسے مشرقی وسطیٰ اور افریقی ممالک کی جانب بھجوایا گیا ہے ۔ چین کے کنٹینروں کا یہ قافلہ یکم نومبر کو پاکستان میں داخل ہوا ۔ چھ نومبر کو بلوچستان کے ضلع ژوب میں داخل ہوا ۔ پھر اقتصادی راہداری کے مجوزہ مغربی روٹ کے مختلف علاقوں کوئٹہ ، قلات، سوراب ، پنجگور اور کیچ سے ہوتے ہوئے گوادر پہنچا ۔ اس قافلے کو بحری جہاز کے ذریعے 13 نومبر کو روانہ کیا گیا اور افتتاحی تقریب میں وزیراعظم اور آرمی چیف کے ساتھ وزیراعلیٰ بلوچستان اور وفاقی وزار موجود تھے ۔

پاکستان میں اکنامک کوریڈور کے مشرقی اور مغربی روٹس پر بھی خیبر پختونخوا اور وفاق کے درمیان خوب گرما گرمی دیکھنے میں آئی ۔ اس معاملے پر بھی حقائق عام لوگوں تک نہیں پہنچے اور عوام اب بھی مشرقی اور مغربی روٹ کے حوالے سے کنفیوژن کا شکار ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ چین پاکستان اکنامک کوریڈور کے معاہدے سے پہلے 2013 ء میں دونوں ممالک نے جوائنٹ کوآرڈینیشن کمیٹیاں بنائیں جنہوں نے اس منصوبے کو عملی شکل دی ۔ بدقسمتی سے پاکستان کے جوائنٹ کوآرڈیینیشن کمیٹی میں چین کے برعکس تمام صوبوں کی نمائندگی نہیں تھی اور اس فورم پر صرف مشرقی روٹ کی ہی تجویز دی گئی جو منظور کرلی گئی ۔

1083421-cpecreuters-1460462542-288-640x480

اب بھی سرکاری دستاویزات میں صرف ایک روٹ ( مشرقی) کا ذکر موجود ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ بعد میں مغربی علاقوں کو بھی اس روٹ سے منسلک کیا جائے گا ۔ وزیراعظم کی زیرصدارت ہونے والے دوسری آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیے میں بھی مشرقی روٹ کی تعمیر اور بعد میں اسے مغربی علاقوں سے منسلک کرنے کی شق شامل تھی ۔ بہرحال یہ روٹ جس علاقے سے بھی گزرے ، فائدہ پاکستان کا ہی ہے اور جلد یا بدیر دیگر علاقے بھی اقتصادی راہداری سے ضرور مستفید ہوں گے ۔ وفاقی حکومت کو کھلے الفاظ میں سب کچھ خیبر پختونخوا اور سندھ کے وزرائے اعلیٰ کو بتانا چاہیے اور ان کے تحفظات کا ہرممکن حد تک ازالہ کرنا چاہیے ۔

وفاقی حکومت کی  یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ چین پاکستان اکنامک کوریڈور سے متعلق تمام حقائق سیاسی مصلحتوں کو نظرانداز کرکے عوام کے سامنے لائے ۔ پلاننگ ایںڈ ڈویلپمنٹ کی وزارت کی ویب سائیٹ پر محترم احسن اقبال کے وعدے کے مطابق منصوبے کی تمام معلومات جزیئات کے ساتھ موجود ہونی چاہیئں ، ہر پاکستانی تمام حقائق سے مکمل طور پر آگاہ کرنا ضروری ہے کیونکہ حکومت کی جانب سے عام آدمی کو اعتماد میں لیا جائے گا تو وہ بھی اپنے بہتر مستقبل کےلیے انفرادی سطح پر اس منصوبے کا محافظ بن جائے گا ورنہ غلط فہمیاں پیدا ہوتی رہیں گی جس کا نتیجہ سیاسی عدم استحکام کی صورت میں نکلے گا ۔

 

CHINA

GAWADAR

PAK CHINA ECONOMIC CORRIDOR

Tabool ads will show in this div