وائٹ ہاؤس کی دوڑ

white house

امریکہ گیا تو بڑے شوق سے تھا کہ سپر پاور کے انتخابات کی کوریج کرونگا اور لوگوں کو بتاؤنگا کہ وائٹ ہاؤس کا اگلا مکین کون ہوگا۔ طیارہ ابھی امریکی فضائی حدود میں داخل بھی نہیں ہوا تھا کہ دل میں خیالات آ رہے تھے کہ ائیرپورٹ پر ہی ریپبلکن اور ڈیموکریٹ کے سیاسی مہم والے بینرز خوش آمدید کہیں گےاورریلیوں اور جلسے جلسوں کا خوب بازار گرم ہوگا لیکن ائیر پورٹ پر ایسی کوئی سرگرمی دکھائی نہیں دی۔ دل کو سمجھایا کہ ائیرپورٹ تو حساس جگہ ہے یہاں سیاسی بینروں کی پابندی ہوگی۔آگے چلو تو خوب سیاسی رونق میلا دیکھنے کو ملے گا۔

امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی پہنچا۔ معروف بازاروں، گلیوں اور سڑکوں پرگھوما لیکن کہیں کوئی سیاسی بینر، قد آور پوسٹر اور ریلیاں نظر نہیں آئیں۔ایک مرتبہ پھردل کو سمجھایا کہ یہ ایک سپر پاور کا دارالحکومت ہے، یہاں پر بھی پابندی ہے۔ شاید دیگر شہروں کے چوک چوراہوں میں خوب سیاسی محافل جمی ہوئی ہونگی ۔ لہذا بس پکڑی اور سیدھا نیویارک چلا آیا جہاں ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹ امیدوار ہیلری کلنٹن کے سیاسی مرکزی دفاتر ہیں۔ وہاں پہنچا تو شدید مایوسی ہوئی کہ کہیں کوئی سیاسی بینر، کوئی کارنر میٹنگ، کوئی جلسے جلوسوں کا بازار گرم نہیں دیکھا۔ لوگوں کو اپنے روز مرہ کے معمولات میں کچھ ایسا مصروف پایا کہ جیسے کچھ نہیں ہونے والا۔ ایک مرتبہ پھر دل کو تسلی دی کہ نیویارک، امریکہ کا تجارتی دارالحکومت ہے،یہاں لوگ اپنے کام کاج میں زیادہ مصروف رہتے ہیں اور صرف ڈالر بناتے ہیں۔ ذرا دیگر شہر چلو تو ہر جگہ سیاست ہی سیاست نظر آئے گی۔ یہ سوچ کر بفیلو، رچ مونڈ، میری لینڈ، ورجینیا اور شینٹلی کا دورہ کیا۔

USA

لیکن وہاں پر بھی کوئی سیاسی طوفان نہیں دیکھنے کو ملا۔ ہاں البتہ جو لوگ ریپبلکن سے لگاؤرکھتےتھےانہوں نے اپنے گھر کے باہر اپنے امیدوار کی چھوٹی سی تصویر لگا رکھی تھی اور جو لوگ ڈیموکریٹس کوپسند کرتے تھے انہوں نے اپنے گھر کے باہر اپنے امیدوار کی فوٹو لگائی ہوئی تھی۔ چند ایک جہگوں پر کھمبوں پر امیدواروں کی چھوٹے سائز کی تصاویر بھی دیکھنے کو ملیں۔ الیکشن والے دن بھی کوئی عام تعطیل نہیں تھی ہاں البتہ اسکولوں میں چھٹی تھی کیونکہ وہاں پولنگ اسٹیشن بنائے گئے تھے۔ لوگ اپنے معمولات کے دوران یا فارغ ہو کر پولنگ اسٹیشن کا دورہ کرتے اپنے امیدوار کو ووٹ ڈالتے اور اپنی راہ لیتے۔

USA1

پھر دل نے مجھے سمجھایا کہ یہ کوئی تیسری دنیا کا ملک نہیں جہاں سیاسی بدتمیزی کا طوفان برپا ہو، جہاں الیکشن والے دن فائرنگ، دنگا فساد اور لڑائی جھگڑے کے واقعات رونما ہوں۔ جہاں ووٹرزکوگھروں سے لانے کے لیے ٹرانسپورٹ کا بندوبست کیا گیا ہو۔جہاں آوے آوے کے نعرے لگیں، جہاں ایک دوسرے پر ذاتی  رکیک حملے کیے جائیں۔ یہ امریکہ ہے، سپر پاور ہے، پڑھے لکھے لوگ بستے ہیں اور سلجھے ہوئے انداز میں ووٹ ڈالتے ہیں۔ امریکی صدارتی انتخاب کے نتیجے میں ریپبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ ایک تاریخی انتخابی مہم کے بعد ہونے والے صدارتی انتخاب میں اپنی مخالف امیدوار ہلیری کلنٹن کو شکست دے کر ملک کے 45ویں صدر منتخب ہوگئے ہیں اور وائٹ ہاؤس میں آئندہ چار برس کے لیے اپنی جگہ پکی کرلی ہے۔

ٹرمپ نے 28 ریاستوں میں کامیابی حاصل کی جن میں پینسلوینیا اور وسکونسن جیسی ریاستیں بھی ہیں جہاں سے بالترتیب 1988 اور 1984 سے کوئی رپبلکن امیدوار نہیں جیتا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے صرف اپنی سیاسی حریف ہلیری کلنٹن اور ڈیموکریٹ ہی کو شکست نہیں دی بلکہ تمام اندازوں، تخمینوں اور پیشن گوئیوں کو بھی مات دے دی ہے۔

AMERICA

Election 2016

Tabool ads will show in this div