انتخابات جیتنے کا صحیح طریقہ

Nov 11, 2016
image1 امریکی انتخابات کے نتائج آنے کے بعد یہ واضح ہوگیا کہ کوئی لیڈر تقریروں اور ٹی وی مباحثوں میں بیٹھ کر جتنے مرضی جیت کے دعوے کرلے۔ جیتا وہی ہے۔ جسے عوام انتخابات میں ووٹ دیتے ہیں۔ image2 عوام اگر یہ سوچ لیں کہ کسی کو وزیراعظم یا صدر منتخب کرنا ہے تو پھر میڈیا جتنا مرضی اپنا خبری منجن بیچ لے اور حادثاتی تجزیہ کار جیسے مرضی تبصریں کرلیں۔ الیکشن والے دن ووٹرز میڈیا اور میڈیا پر بیٹھے ٹائیاں لگائے تجزیہ کاروں کو اپنے ووٹوں کے ذریعے منہ توڑ جواب دیتے ہیں۔ جس کا ثبوت امریکی انتخابات کی نتائج ہیں۔ image3 اگر دیکھا جائے تو پاکستان اور امریکہ میں طرزِ حکمرانی "جمہوریت" مشترک ہے۔ لیکن دونوں جمہوریتوں میں اتنا ہی فرق ہے جتنا ڈونلڈ ٹرم اور ہیلری کلنٹن کی شخصیتوں میں۔ اس کے علاوہ دونوں کے طریقہ انتخاب میں یہ فرق بھی بہت نمایاں ہے کہ امریکہ میں انتخابات میں شکست سمیٹنے والا، جیت جانے والے کو مبارک ضرور دیتا ہے۔ لیکن پاکستان میں ابھی انتخابی نتائج مکمل ہوئے نہیں ہوتے اور ہارنے والے دھاندلی اور احتجاج کا سلسلہ شروع کردیتے ہیں۔ جوکہ کئی سالوں تک جاری رہتا ہے۔ image4 امریکی نظام کی ایک خوبصورتی یہ بھی ہے کہ الیکشنز ختم ہونے کے بعد تمام فریقین امریکہ کی بہتری کے لئے مشترکہ لائحہ عمل اپناتے ہیں۔ جبکہ پاکستان کی70 سالہ تاریخ میں کبھی بھی کسی سیاسی جماعت نے ہار کے بعد حکومت بنانے والی جماعت کی حوصلہ افضائی نہیں کی۔ ہمیشہ حکومتی پالیسیوں پر اعتراز اور احتجاج ہی کیا ہے۔ image5 امریکی انتخابی نتائج نے جمہوریت میں حاصل ووٹرز کی طاقت کو ایک بار پھر سے باور کروایا اور امریکی ووٹرز نے پوری دنیا کو پیغام دیا ہے کہ عوامی سروے جومرضی آئیں۔ میڈیا جو مرضی حالات پیش کرے۔ انتخابات میں جیت اس کا مقدر بنتی ہے۔ جسے لوگ ووٹ دیتے ہیں۔ چاہے وہ اخلاقی طور پر کرپٹ ہو، چاہے وہ عورتوں کی تزلیل کرتا ہو۔ چاہے اس نے کتنی ہی شادیاں کی ہوں اور چاہے وہ کسی خاص میڈیا گروپ کے خلاف ہو۔ امریکی جمہوریت سے ایک اور سبق صبر اور حوصلے کا ملتا ہے۔ کوئی بھی صدر جیسی مرضی غلطیاں کرلے اور کسی بھی صدر کی پالیسیوں سے ملک کو جتنا مرضی مالی نقصان ہوجائے۔ عوام اپنے چنے گئے صدر کو چار سال تک آزماتے ہیں اور اگلے انتخابات میں صدر کی جماعت کو کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ ڈالتے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکی صدور پاکستانی وزیراعظموں کی طرح کرپٹ اور مفاد پرست نہیں ہوتے۔ پاکستان میں خوش قسمتی سے جمہوریت کا پہیہ چلے ابھی آٹھ سال ہی ہوئے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستانی تاریخ کا پہلا جمہوری دور اقتدار مکمل  ہوتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کی سابق حکومت پر مبینہ کرپشن کے الزامات لگے۔ جس کی وجہ سے پانچ سال ایوانِ صدر میں گزارنے والے سابق صدر آصف علی زرداری اب پاکستان آنے سے بھی کتراتے ہیں ۔ صرف پیپلز پارٹی ہی نہیں بلکہ موجودہ برسر اقتدار جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کی کرپشن کے چرچے بھی آئے روز سامنے آتے رہتے ہیں۔ لیکن حکومت میں ہونے کی وجہ سے کوئی کاروائی نہیں ہوپاتی۔ لہزا اگر یہ کہا جائے کہ موجودہ حکومت کی کرپشن، حکومت جانے کے بعد سامنے آئے گی تو غلط نہیں ہوگا۔ جوکہ پاکستانی تاریخ میں ایک روائت ہے۔ پاکستان تحریک انصاف بھی خیبر پختونخوا میں برسر اقتدار ہے اور عمران خان کو بقیہ سیاستدانوں سے ایک خاصیت منفرد کرتی ہے۔ وہ عمران خان کا کرپٹ ناہونا ہے۔ لیکن اگر حکومت ختم ہونے کے بعد تحریک اںصاف کے رہنما بھی کرپشن میں ملوّث پائے جاتے ہیں تو پھر عمران خان بھی سیاست کے حمام میں دیگر ننگوں کی لائن میں پائے جائیں گے۔ پاکستانی سیاستدان امریکی جمہوریت سے کچھ سیکھیں یا نا سیکھیں۔ مگر امریکی انتخابات میں شکست کا سامنا کرنے والی جماعت ڈیموکریٹ اور اس کی صدارتی امیدوار سے کھیل ہار کربھی دکھایا جانے والا حوصلہ ضرور سیکھنا چاہیئے۔ کیونکہ جمہوریت کی فتح، کسی بھی جماعت کا اقتدار ختم ہونے پر نئی جماعت کا جمہوری دور اقتدار شروع ہونے میں ہی ہے۔ احتجاج اور مطالبات صرف ملک کے لئے نہیں بلکہ جمہوریت کے لئے بھی خطرہ ہے۔

Politics

IMRAN KHAN

USA

Media Group

Tabool ads will show in this div