سپریم کورٹ میں رینٹل پروجیکٹس کیس کی سماعت

Nov 30, -0001

اسٹاف رپورٹ

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے آج بھی رینٹل پاور پروجیکٹس کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ذمہ داروں کے خلاف فراڈ کا کیس بنتا ہے کیا کوئی کارروائی کی گئی، جس پر نیپرا کے وکیل کا کہنا تھا کہ تمام بے قاعدگیوں کے خلاف احکامات جاری کیے لیکن کوئی حکم نہیں مانا گیا۔

چیف جسٹس، افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

نیپرا کے وکیل، نجم الحسن کاظمی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ رینٹل پاور پروجیکٹس کے معاملے میں من مانی کی گئی، ینگ جن نامی کمپنی کا معاملہ نیپرا کے پاس آیا ہی نہیں۔ ٹیرف کی منظوری کے بغیر ہی اسے پیشگی رقم ادا کر دی گئی۔

اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ٹیرف کی درخواست نہ دینے والی کمپنی کو رقم دینے کا کیا جواز ہے۔

نیپرا کے وکیل نے مزید کہا کہ نیپرا نے اس طرح کا ٹھیکہ دینے سے منع کیا تھا، گلف کے علاوہ کسی رینٹل کمپنی نے معاہدے کے مطابق کام نہیں کیا۔ رینٹل کمپنیوں کو پیشگی ڈالرز میں ادا کی گئی رقم کی واپسی روپوں میں ہوئی، اس حوالے سے پہنچنے والا نقصان اربوں روپے کا ہو سکتا ہے۔ سماء

میں

کی

کیس

fans

reject

Tabool ads will show in this div