اسلام آباد میں دفعہ 144 یکم اکتوبر تک معطل، پولیس سے جواب طلب

Nov 30, -0001

اسٹاف رپورٹ

اسلام آباد : اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا ہے کہ بادی النظر میں ڈی چوک پر دھرنا غیرقانونی ہے، اسلام آباد میں دفعہ 144 کا نفاذ یکم اکتوبر تک معطل، تحریک انصاف اور عوامی تحریک کو دھرنے میں بچوں کی شرکت روکنے کا حکم دے دیا، عدالت نے وفاقی پولیس سے طاقت کے استعمال پر جواب طلب کر لیا۔ 

اسلام آباد میں دفعہ 144 کے نفاذ کے کیس کی سماعت کے دوران جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا عدالت کے عبوری حکم پر عملدرآمد ہورہا ہے، اس پر تحریک انصاف کے اسد عمر نے بتایا کہ عمل ہورہا ہے، مگر ایک رات کچھ گرفتاریاں ہوئی تھیں۔

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ بادی النظر میں ڈی چوک پر دیا گیا دھرنا غیر قانونی ہے، ڈی سی کے مطابق انہوں نے دھرنے کی اجازت نہیں دی، اخراجات سیاسی جماعت برداشت کرے گی، دھرنا قانونی ہوا تو اخراجات حکومت پر عائد کئے جائیں گے۔

فاضل جج نے مزید کہا کہ اس کیس کا فیصلہ کرنا ہوگا تاکہ مستقبل کیلئے مثال قائم ہوسکے، سیاسی سوالات کیلئے تحریک انصاف پارلیمنٹ جائے، ہم قانونی معاملات دیکھیں گے، عدالت اس کا بھی جائزہ لے گی کہ یہ پُرامن احتجاج ہے یا نہیں، احتجاج میں ایک بھی ڈنڈا شامل ہو تو وہ پُرامن نہیں رہتا، انسانی حقوق کی بات ہوگی تو پھر لاؤڈ اسپیکر ایکٹ بھی موجود ہے، ان کے حقوق بھی دیکھنا ہوں گے جو آپ کے لاؤڈ اسپیکر سے متاثر ہورہے ہیں۔

عدالت نے اسلام آباد پولیس سے جواب طلب کیا ہے کہ بتایا جائے کہ 40 روز کے دوران کس قانون کے تحت طاقت کا استعمال کیا، درخواست کی سماعت یکم اکتوبر کو ہوگی۔ سماء

طلب

Tabool ads will show in this div