شیرکاشکار،تیرسےیابلےسے

Nov 08, 2016

Imran Speech OT Shot Lhr 01

عمران خان کے اسلام آباد کو بند کرنے کا اعلان آخر کار سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد یوم تشکر مناکر پورا ہوا۔ عدالتی حکم کے بعد پانامہ لیکس کی تحقیقات کے لئے سپریم کورٹ میں دائر کردہ درخواستوں کی سماعت پیر کو ہوئی  جس میں وزیر اعظم کے بچوں نے اپنا جواب پیش کردیا۔

حالیہ دنوں میں پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال میں حیران کن طور پر پاکستان تحریک انصاف کا ساتھ کسی بھی حزب اختلاف کی جماعت نے نہیں دیا۔ صرف شیخ رشید ہی تھے جو عوامی مسلم لیگ کی پوری جماعت اپنے کندھوں پر اٹھائے پنڈی کی گلیوں میں حکومت کے خلاف اِن ایکشن تھے۔

عمران خان کے اسلام آباد کو بند کرنے اور عدالت کی طرف سے تحقیقاتی کمیشن بنانے کے فیصلے کے بعد یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ یہ وزیر اعظم اور شریف خاندان کے خلاف تحقیقات شروع کروانے کا سہرا عمران خان کے سر سجھتا ہے۔ جس کے بعد یہ کہنا بھی غلط نہیں ہوگا کہ باقی تمام اپوزیشن جماعتیں،  ہاتھ پر ہاتھ دھریں رہ گئیں۔پانامہ لیکس کی تحقیقات کے لئے مشترکہ اپوزیشن سر جوڑ کر بھی بیٹھی۔ جس کے بعد حکومتی نمائندوں کے ساتھ مل کر 6 رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی۔ مگر تحقیقات کے لئے مشترکہ ٹی او آرز پر اتفاق نہیں ہوسکا اور اپوزیشن کی جماعتوں کے درمیان ہونے والا وقتی نکاح، ٹوٹ گیا۔

Bilawal On Panama Sot  04-11

سپریم کورٹ میں سماعت شروع ہونے اور وزیراعظم کا جواب جمع کروانے کے بعد بلاول بھٹو نے جذباتی تقریر کرتے ہوئے کہا کہ شیر کا شکار بلے سے نہیں بلکہ تیر سے ہوگا۔ اس کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے سندھ میں جلسے بھی کئے جارہے ہیں۔ جس میں حکومت کو خوب تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ ایسے احتجاج اور جلسوں کا کیا فائدہ؟۔ حکومت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اور پانامہ لیکس کی تحقیقات کی شروعات کروانے کی ساری ذمہ داری تو عمران خان لے گیا۔

اس کے علاوہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو نے 17 اکتوبر کو کارساز سانحہ میں شہید ہونے والوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات  نہ مانے تو پیپلز پارٹی 27 دسمبر سے حکومت کے خلاف لانگ مارچ کریگی۔بلاول بھٹو کے پیش کردہ مطالبات کے مطابق حکومت فوری طور پر وزیر خارجہ تعینات کرے۔ پاک چائنہ کوریڈور کے حوالے سے چاروں صوبوں کے لئے مساوی فوائد سے متعلق سابق صدر کے دور میں پیش کئے جانے والی ریزلوشن پر عمل کیا جائے اور پانامہ لیکس سے متعلق پیپلز پارٹی کا پیش کردہ بل کو منظور کیا جائے۔

ماضی کی سب سے بڑی جماعت کے آج یہ حالات ہیں کہ اکثریتی عوام کو یہ علم ہی نہیں کہ ان کے شریک چیئرمین نے کسی لانگ مارچ کا اعلان کررکھا ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر ایسے حالات میں جبکہ عمران خان پانامہ لیکس کا ڈنڈا ہاتھ میں تھامے حکومت کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ بلاول بھٹو، عمران خان کا ساتھ دینے کی بجائے وزیر خارجہ کی تعیناتی اور پاک چائنہ اکنامک کوریڈور کا رونا رو رہیں ہیں۔

Bilawal 1st Stop SOT 03-11

ٹھیک ہے کہ پیپلز پارٹی نے پانامہ لیکس کی تحقیقات کے لئے بل جمع کروایا۔ مگر ایسے بل کا کیا فائدہ جس کی تشہیر میڈیا میں ہی نا کیجائے۔ کیا ہی بہتر ہوتا کہ بلاول بھٹو باقی بچ جانے والی پیپلز پارٹی کے ہمراہ  وقتی طور پر عمران خان کے ساتھ حکومت کے خلاف احتجاج کرتے اور اس کارِ خیر میں پیپلز پارٹی کا حصّہ بھی ڈالتے۔ مگر بدقسمتی سے ذوالفقار علی بھٹو کے نواسے اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے اکلوتے صاحبزادے بلاول بھٹو، خزاں کے موسم میں موسمِ بہار کے پودے لگا رہے ہیں۔

پانامہ لیکس کی تحقیقات سے متعلق عدالتی فیصلے کے بعد تحقیقاتی کمیشن کا فیصلہ اگر حکومت کے خلاف آتا ہے تو یقیناً اسے عمران خان اور تحریک انصاف کی بہت بڑی جیت تصور کیا جائیگا۔ جس کا فائدہ یقیناً آٓنے والے انتخابات میں تحریک انصاف کو ہوگا اور یہ بھی ممکن ہے کہ اگلے انتخابات میں پیپلز پارٹی سندھ میں بھی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ لہذا بلاول بھٹو کو چاہیئے کہ وہ سیاسی تھیٹر میں چلنے والے ڈرامے کو سمجھیں اور حالات کے مطابق اس ڈرامے میں پیپلز پارٹی کے سربراہ ہونے کا کردار نبھائیں۔

IMRAN KHAN

PML N

BILAWAL BHUTTO

Panama leaks

panama papers

Tabool ads will show in this div