تبدیلی یا انقلاب کے نام پر بحران پیدا کرنا درست نہیں، سپریم کورٹ

اسٹاف رپورٹ

اسلام آباد : سپریم کورٹ میں ممکنہ ماورائے آئین اقدام کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی، جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے ہیں کہ تبدیلی یا انقلاب کے نام پر بحران پیدا کرنا درست نہیں۔

کیس کی سماعت کے دوران جسٹس ثاقب نثار نے عوامی تحریک کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے ابھی ان کے احتجاج کے حق پر قدغن نہیں لگائی، دھرنا وہاں لے جائیں جہاں کسی کے حقوق متاثر نہ ہوں، تبدیلی یا انقلاب کے نام پر بحران پیدا کرنا درست نہیں۔

تحریک انصاف کے وکیل احمد اویس نے دلائل دیتے ہوئے کہا غربت کی لکیر سے نیچے رہنے والے 11 کروڑ عوام کے کیا کوئی حقوق نہیں، اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کچھ لوگوں کے حقوق کی پامالی، کیا دوسروں کے حقوق پامال کرنے کا جواز بن سکتی ہے؟۔

جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ اگر یہ بنچ کہہ دے کہ دھرنے حقوق پامال کررہے ہیں تو یہ قانون ہوگا، پیپلز پارٹی کے وکیل اعتزازاحسن نے کہا دھرنا خود بخود ختم ہورہا ہے، عدالت اس کے بارے میں حکم جاری کرنے سے گریز کرے۔ 

عدالت آئندہ پیشی پر وفاق کی متفرق درخواست کی سماعت کرے گی، جس میں دھرنے سے متعلق حقائق کا جائزہ لینے کی استدعا کی گئی ہے جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ اور سیشن کورٹ کے بعض احکامات کو بھی نمایاں کیا گیا ہے، عدالت نے ہدایت کی کہ اٹارنی جنرل دھرنے اور احتجاج کی ویڈیو مہیا کریں۔  سماء

D-Chowk

parliament

western

نام

physics

Tabool ads will show in this div