انقلابی چلاکپتان کی چال

Oct 26, 2016

imran-khan-tahir-ul-qadri

آخر کار شیخ رشید، ڈاکٹر علامہ طاہرالقادری اور عمران خان کو رشتہ احتجاج میں منسلک کرانے میں کامیاب ہوگئے۔ جس کے بعد 2 نومبر کو پاکستان عوامی تحریک اور پاکستان تحریک انصاف، عوامی مسلم لیگ کے ورکرز کے ہمراہ دارالحکومت اسلام آباد کو بند کرنے نکلیں گے۔پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے بذریعہ شیخ رشید متعدد بار علامہ طاہرالقادری کو دھرنے میں شریک کرنے کے لئے کوشیشیں کی گئیں مگر علامہ طاہرالقادری کی شرط تھی کہ جب تک عمران خان خود انھیں دھرنے میں شرکت کی دعوت دیتے، وہ راضی نہیں ہونگے۔ لہذاعلامہ طاہرالقادری مشرقی انقلابیوں کی طرح عمران خان کے اسرار کی تاب نا لاتے ہوئے راضی ہو گئے۔

دو نومبر سے پہلے 28 اکتوبر کو دفاع پاکستان کونسل بھی اسلام آباد میں جلسہ کرنے والی ہے۔ جو اسلام آباد کو بند کرنے کے لئے عمران خان کا ساتھ دینے کا عندیہ بھی دے چکی ہے۔ اس کے علاوہ اسلام آباد کی متنازع لال مسجد کے مولانا عبدالعزیز بھی حکومت کے خلاف احتجاج میں عمران خان کے احتجاج کا حصّہبنے کو تیار ہیں۔لہذا اب تک کی پیشرفت کے مطابق عمران خان کو 3 اقسام کے مذہبی گروہوں کی حمایت حاصل ہوچکی ہے۔

Pti Wicket Down 2400 Psh Pkg 15-10

تحریک انصاف کے جیالے اور جیالیاں پُر امن احتجاج اور تحریکی نغموں پر ڈانس تو کرسکتے ہیں۔ مگر پولیس اور دیگر قانون نافز کرنے والوں کی لاٹھیوں اور آنسو گیس کا سامنا نہیں۔ جس کی صلاحیت مدارس کے طلبا اور روحانی مریدین میں ہوتی ہے۔اب تک کے حالات کے مطابق حکومت کے لئے اس احتجاج سے مسائل میں اضافہ ہوتا دکھائی دےرہا ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سےپانامہ لیکس سے متعلق شریف خاندان کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے یکم نومبر کو پیش ہونے کا کہا ہے مگر اس کے باوجود بھی عمران خان اسلام آباد کو بند کرنےپربضد ہیں۔

مشکلات میں پھنسی حکومت عمران خان کو احتجاج سے روکنے کی تمام تر کوششوں میں ناکام ہونے کے بعد اب دیگر اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لے کر حکومت بچانے کی کوششوں میں ہے۔ مگر بدقسمتی سے کوئی بھی اپوزیشن جماعت حکومت کے ساتھ پانامہ لیکس معاملات پر ساتھ دینے سے انکاری ہے۔ 126 دنوں کے دھرنے کے دوران پیپلز پارٹی سمیت دیگر اپوزیشن جماعتیں حکومت کے ساتھ کھڑی تھیں۔ مگر اس بار حکومت کو ان اپوزیشن جماعتوں کی کمی شدت سے محسوس ہورہی ہے۔

pm-army-chief-off-for-peshawar-1418724333-1872

یہ بھی ممکن ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف 2 نومبر سے پہلے نئے آرمی چیف کا اعلان کردیں۔ مگر موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے نہیں لگتا کہ اس اعلان کا کوئی اثر عمران خان کے اسلام آباد کو بند کرنے کے اعلان پر ہوگا۔ بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ وزیراعظم کے سپہ سلار کا چناؤ عمران خان کی توقعات کے خلاف ہو اور اس کی وجہ سے بھی عمران خان اپنا غصّہ حکومت پر نکالیں۔عمران خان کے خطرناک ارادوں کا اندازہ ان کے اس بیان سے لگایا جاسکتا ہے کہ اگر کسی تیسری قوت نے مداخلت کی اور جمہوریت پٹری سے اتری، تو وزیرِ اعظم نواز شریف اس کے ذمہ دار ہوں گے۔

چیئرمین تحریک انصاف کے اس بیان کے کیا مضمرات ہوسکتے ہیں۔ اس کا اندازہ حکومت کو باخوبی ہے۔ اس کے باوجود حکومت کی طرف سے ابھی تک عمران خان کے ساتھ مزاکرات کی کوئی سنجیدہ کوششیں نظر نہیں آئی۔ حکومتی نمائندوں کی جانب سے دعوے تو کئے جارہے ہیں کہ حکومت تحریک انصاف کو اسلام آباد بند کرنے نہیں دیگی۔ مگر حکومت عمران خان کو روکے گی کیسے، طاقت سے یا مزاکرات سے۔ اس کا کچھ پتا نہیں۔

دوسری طرف عمران خان اور ان کے اتحادیوں کی حرکات سے لگ رہا ہے کہ 2 نومبر کو اسلام آباد کو بذریعہ احتجاج مفلوج کردیا جائےگا۔ سرکاری کاروبارِ زندگی بوجہ احتجاج اور روک ٹوک چلنے سے قاصر ہوجائیگا۔ اسلام آباد کی سڑکوں پر تحریکیوں کا راج ہوگا اور حکومت کبوتر کی طرح بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کئے رکھے گی۔

 Photo-of-Prime-minister-House-Islamabad

ایسے حالات میں اگر حکومت سرکاری مشینری کا استعمال کرتے ہوئے طاقت کا استعمال کرتی ہے تو یقیناً حالات قابو سے باہر ہوسکتے ہیں۔ جس کی طرف عمران خان اپنے بیان میں عندیہ دے چکے ہیں۔ممکن ہے کہ حالات کو قابو سے باہر ہوتا دیکھ کر تیسری قوت مداخلت کرنے پر مجبور ہوجائے۔ جوکہ یقیناً جمہوریت کے لئے خطرہ ہوگا۔ مگر اس کے ذمہ دار صرف عمران خان نہیں ہونگے۔ بلکہ حکومت بھی پانامہ لیکس کی شفاف تحقیقات ناکروانے کی وجہ سے برابر کی قصور وار ہوگی۔

IMRAN KHAN

Tabool ads will show in this div