سپریم کورٹ کے جج جسٹس اقبال حمید الرحمان مستعفیٰ

358008_97218464 اسلاآباد : سپریم کورٹ کے جج جسٹس اقبال حمید الرحمان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ۔ سما کے مطابق سپریم کورٹ کے جج جسٹس اقبال حمید الرحمان نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا،  جسٹس اقبال حمید الرحمان نے ذاتی وجوہات کی بناء پر استعفیٰ دیا۔ ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کے جج جسٹس اقبال حمید الرحمان نے ہاتھ سے لکھا گیا استعفیٰ صدر مملکت ممنون حسین کو بھجوادیا ہے۔ جسٹس اقبال حمید الرحمان نے ہاتھ سے لکھے گئے استعفے میں مستعفیٰ ہونے کی وجوہات بیان نہیں کی۔ 2016-10-24-PHOTO-00000703-317x480 استعفے میں انہوں نے تحریر کیا ہے کہ وہ آئین اسلامی جمہوریہ پاکستان 1973ء کے آرٹیکل 206 ایک کے تحت 23 اکتوبر کو اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہو رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جسٹس اقبال حمید الرحمان کے استعفیٰ کی ممکنہ وجہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ملازمین کی تقرریاں بھی ہوسکتی ہیں۔ پی سی او: واضح رہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں جسٹس اقبال حمید الرحمان نے پی سی او کے تحت حلف لینے سے انکار کر دیا تھا اور اصولوں پر ڈٹے رہے تھے۔ حلف اٹھانے سے انکار پر انہیں عہدے سے معزول کردیا گیاتھا۔ تاہم سولہ مارچ  سال2000 کو معزول ججوں کے ساتھ  انہیں بھی عہدے پر بحال کردیا گیا تھا اور صرف تین سے چار سال کے قلیل عرصہ میں وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے پہلے چیف جسٹس مقرر ہوئے۔   کس کس بینجز کا حصہ رہے: ۔۔۔۔۔۔۔اس سے قبل آسیہ بی بی کیخلاف توہین رسالت کیس کی سماعت کرنے والے بیچ میں بھی جسٹس اقبال حمید شامل تھے، تاہم کچھ روز قبل ہی انہوں نے توہین عدالت کیس کی سماعت سے انکار کردیا، جسٹس اقبال حمید کا کہنا تھا کہ وہ اس سے قبل مقتول گورنر سلمان تاثیر کا کیس سن چکے ہیں ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔جسٹس حمید الرحمان سپریم کورٹ ٓاف پاکستان کی جانب سے قائم اس دو رکنی بینچ کا حصہ بھی تھے جو پنجاب میں بچوں کے اغوا سے متعلق قائم کیا گیا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔جسٹس اقبال حمید الرحمان نے  سال 2009 میں پنجاب کے علاقے گوجرہ میں عیسائیوں کی آبادی پر ہونے والے حملہ کی عدالتی تحقیقات بھی کیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔جسٹس اقبال حمید عدالتی حکم پر بننے والے متنازعہ اسکینڈل میمو گیٹ کیس کمیشن کے رکن بھی تھے، وہ اس وقت بطور اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کے فرائض انجام دے رہے تھے۔   واضح رہے کہ جسٹس اقبال حمید الرحمان نے 25 فروری 2013ء کو اُس وقت کے صدر مملکت آصف علی زرداری سے اپنے عہدے کا حلف لیا تھا۔ جسٹس اقبال حمید الرحمان اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بھی رہ چکے ہیں۔ جسٹس اقبال حمید نے چار سال میں جج سے چیف جسٹس کا سفر طے کیا۔   پس منظر: جسٹس اقبال حمید الرحمان پچیس ستمبر انیس سو چھپن کو مشرقی پاکستان کے شہر ڈھاکہ میں پیدا ہوئے لیکن انیس سو ساٹھ میں اپنے والد جسٹس حمودالرحمان کی سپریم کورٹ میں تقرری ہونے پر مغربی پاکستان شہر لاہور منتقل ہوگئے ۔ جسٹس اقبال حمید الرحمان نے ابتدائی تعلیم کے بعد لاہور سے ہی قانون ڈگری حاصل کی اور انیس سو اکیاسی میں وکالت شروع کی۔   تیس اکتوبر دو ہزار چھ میں جسٹس اقبال حمید الرحمان کو لاہور ہائی کورٹ کا ایڈیشنل جج مقرر کیا گیا ۔جسٹس اقبال الرحمان ہائی کورٹ کے جج کے علاوہ الیکشن کمیشن کے رکن کی حیثیت سے بھی فرائض انجام دیئے۔   یہاں یہ بات بھی وابل ذکر ہے کہ جسٹس اقبال حمید 1971 کی پاک بھارت جنگ پر بننے والے عدالتی کمشن کے سربراہ جسٹس حمودالرحمان کے صاحبزادے ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے پہلے چیف جسٹس اقبال حمید الرحمان پاکستان کے دوسرے چیف جسٹس ہیں جن کے والد بھی چیف جسٹس کے عہدے پرفائز رہ چکے ہیں۔ سما

SUPREME COURT OF PAKISTAN

RESIGNATION

Aasia bibi

Justice Iqbal Hameedur Rehman

Asia BiBi

Memo Gate

Tabool ads will show in this div