آمریت، انتہاء پسندی، غربت، جہالت کیخلاف جہاد کیلئے تیار ہیں، بلاول بھٹو

ویب ایڈیٹر

کراچی : بلاول بھٹو زرداری کہتے ہیں کہ آمریت، انتہاء پسندی، غربت اور جہالت کیخلاف جہاد کیلئے تیار ہیں، ملک میں 2 سوچیں رہیں، بھٹو ازم کے جیالے اور آمریت کے پجاری، جمہوریت ہماری سیاست ہے، شہادت ہماری منزل، ملک کو خانہ جنگی سے بچانے کی واحد راہ بھٹو ازم ہے، جمہوری وزیراعظم کو پھانسی دی جاتی ہے، سن لو! پھانسی اور دھماکوں سے ڈرنے والے نہیں، بندوق کے ذریعے نظریہ مسلط کرنیوالوں کیخلاف ہیں، پی ٹی آئی لاہور کی ایم کیو ایم بننا چاہتی ہے، ایک طرف ووٹ کی طاقت والے ہیں، دوسری طرف امپائر کی انگلی کی طرف ناچنے والے ہیں۔ سماء

کراچی میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ شہید بھٹو نے بابائے قوم قائد اعظم کا خواب پورا کیا، بے نظیر بھٹو نے آمر کے منہ سے جمہوریت چھینی، قائداعظم سے شہید جمہوریت تک سب کا ایک مقصد ہے، عوام کو ان کا حق دیا جائے۔

وہ کہتے ہیں کہ ملک میں 2 سوچیں رہیں، بھٹو ازم اور آمریت کے پجاری، جمہوریت ہماری سیاست ہے، شہادت ہماری منزل، ہمارا خون پانی کی طرح بہایا گیا، جمہوری وزیراعظم کو پھانسی دی جاتی ہے، سن لو! پھانسی اور دھماکوں سے ڈرنے والے نہیں، ہماری ڈکشنری میں ڈرنے کا لفظ ہی نہیں، بندوق کے ذریعے نظریہ مسلط کرنے والوں کیخلاف ہیں، بھٹو ازم ملک کی سلامتی کا ضامن ہے، پیپلز پارٹی نہیں ہوگی تو روشنی کا قافلہ گھر کا راستہ بھول جائے گا۔

بلاول نے کہا کہ ایک طرف ووٹ کی طاقت والے دوسری طرف امپائر کی انگلی کی طرف ناچنے والے ہیں، پورے ملک میں اسکرپٹ کا شور مچا ہوا ہے، جعلی اسکرپٹ کا مقصد کٹھ پتلی وزیراعظم کے ذریعے نظام درہم برہم کرنا تھا، کٹھ پتلی خان کو اپوزیشن لیڈر بنانے کا اسکرپٹ لکھا گیا، جیالوں نے تمام منصوبے ناکام بنادیئے، دشمنوں کا ارادہ عراق اور شام کی طرح سول وار کا تھا، ملک کو خانہ جنگی سے بچانے کی واحد راہ بھٹو ازم ہے۔

بلاول نے ذوالفقار، بے نظیر اور آصف زرداری کیلئے نعرے لگائے، ان کا کہنا تھا کہ مانگ رہا ہے ہر انسان، روٹی، کپڑا اور مکان، بے نظیر آئے گی، روزگار لائے گی، بی بی کا بیٹا آئے گا روزگار لائے گا۔

پی پی پی چیئرمین کہتے ہیں کہ بیرئیرز ہٹانے کے چکر میں 14 لوگ شہید کئے گئے، وزیراعلیٰ پنجاب مارتے بھی ہو اور رونے بھی نہیں دیتے، شہباز شریف اور کٹھ پتلیو! آپ سب قصور وار ہو، آپ کی وجہ سے چینی سربراہ کا دورہ ملتوی ہوا، عوام شو بازی اسکیم کو گڈ گورننس نہیں مانتے، گڈ گورننس عوام کی خدمت سے آتی ہے، سندھ میں ہمارے کام آپ کو نظر نہیں آتے؟، ہم نےعوام کو باعزت روزگار دیا۔

وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ امریکی صدر نے مودی سے ملاقات بھی کی اور ساتھ کھانا بھی کھایا، ہمارا شیر امریکا میں کشکول بھرنے گیا اور بھیگی بلی بن کر بن کر بائیڈن کی پیالی سے دودھ پی کر واپس آگیا، بھارت نے جتنا پیسہ مریخ پر راکٹ بھیجنے پر لگایا اس سے زیادہ ن لیگ حکومت نے جنگلا بس پر۔

بلاول کا کہنا ہے کہ کراچی میں فساد پھیلانے کی سازش کی جارہی ہے، شہر قائد میں سندھی، اردو، بلوچی، پشتو بولنے والے ہیں، کراچی کو دیکھتا ہوں تو ہر کوئی ظلم کا شکوہ کرتا ہے، کراچی میں لاہور سے 2 گنا زیادہ آبادی، پولیس آدھی ہے، کراچی کو امن کا گہوارہ بنانا چاہتے ہیں، وزیراعظم صاحب ہمیں حق دو، کراچی کیلئے ایمرجنسی پیکیج دیا جائے۔

وہ کہتے ہیں کہ کراچی میں مافیاز موجود ہیں، بہادر افسروں کو شہید کیا گیا، سندھ حکومت کو سبوتاژ کرنا بند کیا جائے، مجھے عدالت سے شکایت ہے، دہشت گردوں کو چھوڑ دیتے ہو اور ہمارے ہاتھ باندھتے ہو، دہشت گردوں سے ڈرتے ہو تو استعفیٰ دے کر گھر بیٹھ جاؤ۔

سابق وزیراعظم کے صاحبزادے نے کہا کہ پی ٹی آئی لاہور کی ایم کیو ایم بننا چاہتی ہے، ملک بھر میں آج دھاندلی کا شور ہے، جانتے ہیں کراچی میں پیپلزپارٹی کیخلاف دھاندلی ہوتی ہے، شفاف انتخابات سے کراچی والوں کو آزادی ملے گی، ایسا ہوا تو شہر قائد میں بسنت کا سماں ہوگا، سندھ پورے پاکستان کو بجلی فراہم کرسکتا ہے۔

بلاول کا کہنا ہے کہ ہم پاکستان کی تقدیر بدل سکتے ہیں، وزیراعظم صاحب! مل کر پاکستان کی تقدیر بدلتے ہیں، الطاف حسین صاحب! آپ بھی ہمارے ساتھ مل کر کام کریں، ہم عوام کی خدمت کرنے سے نہیں رکیں گے، وزیراعلیٰ سندھ سرکاری ملازمتوں کی درخواستیں اور ٹینڈرز آن لائن جمع کریں، بیورو کریسی کو اپنا انداز بدلنا ہوگا، شفافیت لانا ہوگی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیراعظم صاحب! عوام کے پیسے کا حساب دیں، وہ پیسہ جو آپ کے میٹر چیٹر نے سرکلر ڈیٹ کے نام پر بانٹا، بھٹو ازم کی وجہ سے بلوچستان میں حقیقی انقلاب آرہا ہے، سوئی کے لوگوں کو کئی دہائیوں بعد گیس ملی، بلوچستان والوں کیلئے بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

پیپلزپارٹی کے نوجوان چیئرمین کہتے ہیں کہ کشمیر کا نام لیا تو بھارت نے پروپیگنڈہ شروع کردیا، ہماری ویب سائٹ ہیک کی گئی، بھارت جانتا ہے بھٹو ازم کو دنیا مانتی ہے، بھٹو بولتا ہے تو پھر ان کے پاس جواب نہیں ہوتا، جب کشمیر کی بات کرتا ہوں تو کوئی غلط نہ سمجھے، میں بھی امن کی تلاش میں ہوں، کشمیر کا مسئلہ کشمیریوں کی مرضی کے مطابق حل ہونا چاہئے۔

بلاول نے شہید فوجیوں کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ ضرب عضب آپریشن میں ہم کامیاب ہوں گے، عظیم ہیں وہ بیٹے جو پاکستان کیلئے قربان ہوئے، کچھ لوگ اس وقت فوج کی پیٹھ میں چھرے گھونپتے ہیں، بزدلو! دہشت گردوں کی بولنگ کو فیس کرو، ڈر لگتا ہے؟ تو آئی ڈی پیز سے ملاقات ہی کرلو۔

سابق صدر کے بیٹے کا کہنا ہے کہ آپ تو 90 دن میں نیا پاکستان بنانے نکلے تھے، نیا پاکستان کیا بناتے نیا خیبرپختونخوا بھی آپ سے نہ بن سکا، حکومت سندھ دہشت گردوں سے لڑرہی ہے، جنوبی پنجاب دہشت گردوں کا گڑھ بن چکا ہے، وزیراعظم صاحب، لوگوں میں فرق پیدا کیا جائے تو زندگی مشکل ہوتی ہے، پنجاب میں ہرطرف گلوبٹ نظر آتے ہیں۔

انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب بھی تنقید کی اور کہا کہ شہباز شریف! آپ سے لاہور نہیں چل رہا صوبہ کیا چلے گا؟، آپ میں ضیاء ازم گھس گیا ہے، بھٹو ازم اپنائیں، بلاول نے نعرہ لگایا کہ جاگ پنجاب جاگ، پاکستان جل رہا ہے، یوم تاسیس کا کنونشن بلاول ہاؤس لاہور میں ہوگا، کارکنان آئیں اور بتائیں ہم کیا کریں؟، آپ کی خواہشوں کے مطابق پالیسی بنائیں گے۔

پی پی چیئرمین کہتے ہیں کہ سیاست کے دو طریقے ہیں، ایک مفاہمتی دوسرا تصادم،بھٹو کے عدالتی قتل پر قانون کا راستہ اختیار کیا، کٹھ پتلیوں کی طرح کسی ادارے پر حملہ نہیں کیا۔ سماء

Blast

battle

rahul

Tabool ads will show in this div