سعودی شہزادے کو سزائے موت، آخری لمحات کی کہانی

JEDDAH, SAUDIA ARABIA - OCTOBER 13: German Foreign Minister Frank-Walter Steinmeier (not pictured) meets Saudi Crown Prince and defense minister Salman bin Abdulaziz al-Saud in Jeddah on October 13, 2014 in Jeddah, Saudi-Arabia.(Photo by Thomas Imo/Photothek via Getty Images)*** Local Caption *** Salman bin Abdulaziz al-Saud

جدہ : مقتول کے اہل خانہ نے شاہی خاندان کی جانب سے تمام پیشکشیں مسترد کردیں، سعودی شہزادے کو سزائے موت سے قبل پیش آنیوالے آخری لمحات کی کہانی منظر عام پر آگئی۔

سعودی شہزادے کو شہری عادل ال محمدین کے قتل کے جرم میں سزائے موت دے دی گئی تھی، سزا پر عملدرآمد سے قبل مقتول کے اہل خانہ نے شاہی خاندان کی جانب سے لاکھوں ڈالرز قصاص کی پیشکش مسترد کردی تھی۔

عرب میڈیا کے مطابق امام مسجد صفاء محمد المسلوخی نے بتایا کہ سعودی شہزادے ترکی بن سعود بن ترکی ال کبیر کی جانب سے مقتول عادل ال محمدین کے اہل خانہ کو لاکھوں ڈالر قصاص دینے کی پیشکش کی گئی تاہم انہوں نے پیشکش ٹھکراتے ہوئے انصاف کا تقاضہ کیا۔

تفصیلات جانیے : قتل کی سزا، سعودی شہزادے کا سر قلم کردیا گیا

شہزادے کو سزائے موت کے بعد سعودی عرب میں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی، شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں واضح کیا ہے کہ شہری کسی بھی طرح کی زیادتی اور نا انصافی پر شاہی خاندان کے فرد کیخلاف عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں۔

کرپشن کے خاتمے کیلئے برسر پیکار سعودی حکام سے خطاب میں انہوں نے کہا تھا کہ شہری بلا خوف و خطر شاہی خاندان کے کسی بھی فرد کی زیادتی یا نا انصافی پر عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں۔ سماء

Saudi Arab

SAUDI KING

Tabool ads will show in this div