متحدہ نے سندھ حکومت سے علیحدگی کا اعلان کردیا

ویب ایڈیٹر

کراچی : متحدہ قومی موومنٹ نے سندھ حکومت سے علیحدگی کا اعلان کردیا، الطاف حسین نے فیصلے کی توثیق کردی، خالد مقبول صدیقی کہتے ہیں کہ نفرت اور تعصب کی سیاست کرنی ہوتی تو پیپلزپارٹی نے 100 سال کا سامان مہیا کردیا تھا، ہمیں کارکنوں کی لاشوں کے تحفے دیئے گئے، لفظ مہاجر کو گالی کہا گیا، قائد کیخلاف نازیبا الفاظ استعمال کئے گئے، بلاول کی تقریر کے بعد ساتھ چلنے کا کوئی جواز نہیں رہ گیا۔

متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے پاکستان اور لندن کے مشترکہ اجلاس میں سندھ حکومت سے علیحدگی کا فیصلہ کیا، قائد تحریک الطاف حسین نے بھی فیصلے کی توثیق کردی۔

رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کو بدترین آپریشن کا سامنا کرنا پڑا تھا، ہزاروں لاشوں کے تحفے دیئے گئے، آپریشن کے نام پر ماورائے عدالت قتل ہوئے، نفرت کی سیاست کرنا ہوتی تو پیپلز پارٹی 100 برس کا سامان دے چکی تھی، قوم کے سینے شعلے سے بھرے ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے قائد نے پاکستان کیلئے محبت کا سفر جاری رکھا، حیدرآباد میں 300 مہاجروں کو گولیاں ماری گئیں، قائد تحریک نے نفرت کے بجائے محبت کا پیغام دیا، ہم اپنے حصے کی قربانی دے چکے، شہری اور دیہی عوام میں خلیج پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، سندھی وزیراعظم کو وزیراعظم بننے کیلئے ہمارے ووٹ کی ضرورت پڑی تو الطاف حسین نے انہیں وزیراعظم ہاؤس تک پہنچایا۔

خالد مقبول کہتے ہیں کہ محبت کے پیغام کے بدلے میں ہمیں ناانصافیاں ملیں، 2008ء میں زرداری نائن زیرو آئے تو مایوس نہیں کیا، قائد کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی گئی، مہاجر لفظ کو گالی دی گئی، بات قائد پر آجائے تو پھر سمجھوتہ نہیں ہوتا، بلاول کی تقریر کے بعد کوئی وجہ نہیں رہ گئی کہ ساتھ چلیں۔

انہوں نے کہا کہ اردو، سندھی، بلوچی، پشتو اور پنجابی بولنے والے سندھی یہاں موجود ہیں، سب کا متفقہ فیصلہ ہے کہ پیپلزپارٹی کا ساتھ دینے کا مطلب جمہوریت کو نقصان پہنچانا اور ان کے ہاتھ مضبوط کرنے کا مطلب پاکستان کو کمزور کرنا ہے۔

ڈپٹی کنوینر ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ جاگیردارانہ نظام میں انصاف کی کوئی توقع نہیں، بھرتیاں سندھی شہری علاقوں سے نہیں ہوتیں، سرکاری اداروں میں شہری بھرتی نہیں کئے جاتے، نفرتوں کی وجہ سے سندھ 2 طرح کا ہوگیا، سندھ ون لٹانے والا، سندھ ٹو کمانے والا ہے، سندھ ون نفرتوں کا سوداگر اور سندھ ٹو محبتیں بانٹ رہا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ حیدرآباد میں یونیورسٹی کی راہیں روکی جارہی ہیں تاکہ ہمارے بچے تعلیم حاصل نہ کرسکیں، ہم متروکہ سندھ کے بلا شرکت غیرے مالک ہیں، اپنا حق لے کر رہیں گے۔ سماء

law

battle

Tabool ads will show in this div