کالعدم جنداللہ اورجماعت الاحرار نےدھماکے کی ذمہ داری قبول کرلی

Nov 30, -0001

ویب ایڈیٹر امبرین:

 

نامعلوم مقام : لاہور  کے واہگہ بارڈر پر ہونے والے خود کش حملے سے متعلق متضاد بیانات سامنے آگئے، ایک طرف کالعدم جنداللہ  تو دوسری جانب کالعدم حررالہندہ کی جانب سے خود کش حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کے بیانات منظر آپ پر آگئے ہیں۔

 

اتوار  کے روز لاہور کے واہگہ بارڈر پر ہونے والے خوف ناک خود کش حملے کی ذمہ داری ہمیشہ کی طرح مختلف کالعدم تنظیوں کی جانب سے قبول کرنے کی خبریں سامنے آگئی ہیں، ایک طرف  کالعدم جنداللہ ، تو    دوسری جانب کالعدم جماعت   الاحرار  نے بھی دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے، کالعدم تنظیموں کے متضاد دعوے سامنے آنے کے بعد خود میڈیا اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی الجھن کا شکار ہوگئے ہیں۔

واہگہ بارڈر  خود کش حملے سے متعلق سابق کالعدم ٹی ٹی پی کے ترجمان احسان اللہ احسان نے میڈیا نمائندوں کوفون کیا اور واہگہ بارڈرخود کش  حملے کی ذمےداری قبول کی، جب کہ کالعدم تحریک احرار الہہند کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں بھی خود کش حملے کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے، کالعدم جماعت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ خود کش حملہ شمالی وزیر ستان میں جاری آپریشن ضرب عضب کا رد عمل ہے۔

 

دوسری جانب انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ واہگہ بارڈرحملےسےمتعلق خفیہ اطلاع گزشتہ رات ملی تھی،آج صبح واہگہ بارڈرپرتعینات سیکیورٹی حکام کوآگاہ کردیاگیاتھا اور صبح سےواہگہ پرسیکیورٹی انتہائی سخت تھی۔

 یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہ ہی کالعدم گروپ ستمبر پشاور میں  چرچ پر ہونے والے خود کش حملے میں ملوث تھا، جس میں  78 عیسائیوں کو ہلاک کیا گیا تھا۔ جب کہ اس گروہ  کی جانب سے سیکیورٹی اہل کاروں اور قافلوں پر بھی حملوں کی ذمہ داری قبول کی گئی۔  جب کہ اس سے قبل جنداللہ سابق کور کمانڈڑ کراچی احسن سلیم حیات، امریکی قونصلیٹ اور عاشورہ جلوس پر خود کش حملوں اور دھماکوں میں ملوث رہا ہے۔ ابتداء میں  جنداللہ کے صرف کالعدم القاعدہ سے ہی رابطے تھے، تاہم اب کالعدم تحریک طالبان پاکستان محسود گروپ سے بھی جنداللہ کے رابطے ملے ہوئے ہیں۔ سماء

کی

protests

jobs

g20

Tabool ads will show in this div