تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد ۔ ۔

File photo of Pakistan's President Musharraf arriving at European Parliament in Brussels

تحریر: عمران احمد راجپوت

اگر ملک میں ایک آزاد اور غیرجانبدارانہ سروے کرایا جائے تو قوی امکان ہے کہ پاکستان کے باشعور طبقے سے تعلق رکھنے والے عوام پرویز مشرف سے پسندیدگی کا اظہار کرتے نظر آئیں۔ ماضی کو کھنگالیں تو حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ مشرف کو اقتدار سے ہٹانے اور زرداری حکومت قائم کئے جانے کے بعد سے عوام میں ایک عجیب بے چینی پائی جانے لگی۔ جو عوام مشرف گورنمنٹ میں پاکستان کو ترقی وخوشحالی کی راہ پر گامزن ہوتا دیکھ رہی تھی اسے ایک بار پھر پاکستان سمیت اپنا آپ پیچھے کی جانب جاتا نظر آنے لگا۔ کیونکہ اقتدار پر ایک بین الاقوامی سازش کے تحت بالترتیب انھی لوگوں کو براجمان کیا جارہا تھا جن کو عوام بھگتائے بیٹھے تھے۔ لہذا پہلے زرداری گورنمنٹ اور پھر پرانے روایتی کھیل کو برقرار رکھتے ہوئے نواز گورنمنٹ کا اقتدار پر براجمان ہونا اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

جنرل مشرف کے اقتدار سنبھالے جانے کے بعد، شروع کے تین سالوں میں جب تک ملک میں مارشل لاء قائم رہا اور مشرف ملک کے چیف ایگزیکٹیو بن کر جنرل ضیاء کی طرح معاملات چلاتے رہے تو ملکی و بین الاقوامی طاقتیں انھیں پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتی رہیں۔ لیکن جیسے ہی مشرف نے 2002 ء میں عام انتخابات کا انعقاد کرایا اورساتھ ہی پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار جمہوریت کی اصل روح لوکل گورنمنٹ کے تحت شہری حکومتوں کا قیام عمل میں لایا گیا تو ملک میں موجود اشرافیہ سمیت ملکی و غیر ملکی قوتوں کی جانب سے مشرف کے خلاف ایک محاز کھول دیاگیا۔ کچھ قوتوں نے افغان پالیسی کا بہانہ بنا کر مشرف کو آڑے ہاتھوں لیا تو کچھ نے آمریت کا ڈھنڈورا پیٹتے ہوئے حبِ علی میں بغضِ معاویہ کا کردار نبھایا۔

download (4)

دوسری جانب جنرل مشرف کا ملک میں ایک نئی سوچ کو پروان چڑھانا اور ایک لبرل مائینڈسیٹ رکھتے ہوئے ترقی پسندی کے رجحان کو عام کرنا عوامی سطح پر سرہایا جانے لگا۔ مشرف کی مقبولیت میں پے درپے اضافہ ہورہا تھا، ملک ترقی کی طرف چل پڑا تھا، لوگ خوشحال ہونے لگے تھے، ملکی درآمداد و برآمداد میں اضافہ ہورہا تھا، پاکستان کی معاشی گروتھ تاریخ کی انتہائی بلند ترین سطح پرپہنچ چکی تھی۔ شہری حکومتوں کے نظام کے تحت عوامی مسائل اُن کی دہلیز پر حل ہونے لگے تھے۔ پاکستان کے چاروں صوبوں سے غریب و متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے عوام کو شہری حکومتوں کے نظام کے تحت اقتدار میں حصہ ملنے لگا تھا۔ عوام مطمئین ہورہے تھے کیونکہ عوام میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ ہونے لگا تھا۔ میڈیا کو آزاد اور بااختیار بنادیا گیا تھا جس سے عوام میں سیاسی شعور بیدار ہونے میں مدد ملی اور غریب عوام کو سیاست کی سمجھ بوجھ آنے لگی، نت نئے سیاسی کھلاڑی میدان میں اترنے لگے جس سے پرانے کھلاڑیوں کا راستہ بند ہونے لگا۔ بنیادی تعلیم کو لازمی قرار دیتے ہوئے مفت کردیا گیا تھا تاکہ ملک میں خواندگی کی شرح کو بڑھایا جاسکے۔ ترقیاتی فنڈز ملک کے گلی کوچوں میں استعمال ہورہے تھے۔ عوام کا پیسہ عوام کے سامنے لگ رہا تھا۔ عوام ماضی کی طرح سیاستدانوں کے جھوٹے آسروں اور کھوکلے نعروں پر امید لگائے نہیں بیٹھے تھے بلکہ عوام خود ملک کو ترقی و خوشحالی کی طرف گامزن ہوتا دیکھ رہے تھے۔ ملک میں موجود وہ قومیں جو حقوق نہ ملنے کی وجہ سے احساسِ کمتری میں مبتلا تھیں اُن کی شکایات دورہونے لگی تھیں۔ صوبائیت کا تصور اور لسانیت کی سیاست آہستہ آہستہ دم توڑرہی تھی کیونکہ ملک میں ہر طبقے سے تعلق رکھنے والی قوم کو اُس کے اپنے علاقے میں اختیارات سونپے جارہے تھے۔ ملک میں اشرافیہ کی گرفت کمزور ہونے لگی تھی، ملکی سیاست میں عوام ذور پکڑنے لگے تھے یوں کہیں کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار حقیقی عوامی جمہوریت قائم ہونے جارہی تھی۔

Pakistan's former President Pervez Musharraf speaks during a news conference in Dubai

طاغوتی قوتوں کو یہ سب کب برداشت ہونے لگا تھا۔ لہذا پرانی تنخواہ پر کام کرنے والوں کو واپس لانے کے لئے راستہ ہموار کیا جانے لگا۔ ڈُگ ڈگی کی تھاپ پر ایک بار پھر عوام کو نچانے کی تیاری کی گئی۔ ملک میں بے چینی اور انتشار پھیلانے کے لئے ایک ماحول بنایا گیا۔ ریاستی اداروں کو استعمال کیا گیا۔ میڈیا سے لیکر ملک میں بکنے والی ہرچیز کو منہ مانگے داموں خریدا گیا اور بالآخر ایک عالمی سازش کے تحت پاکستان میں پہلی بار قائم کی جانے والی حقیقی عوامی جمہوری گورنمنٹ کاخاتمہ کر دیا گیا۔ یہ سب واقعی پاکستانی قوم کے لیے ایک صدمے کا باعث تھا۔ اِس کے بعد جو کچھ ہوا اور ہورہا ہے سب قارئین کے سامنے ہے۔ ملکی معیشت آج پھر داؤ پر لگی ہے، عوام سڑکوں پر احتجاج کررہے ہیں، لوڈشیڈنگ کا جن بوتل سے باہر ہے، عوام بے بسی کی تصویر بنے یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں لیکن کچھ بھی کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ اِن کی حالت ایک معزول قوم کی سی ہے جنھیں مفاد پرستوں نے ا قتدار کے عیوز جمہوریت نامی سولی پر چڑھادیا ہے۔

آج دیکھیں تو جمہوریت کے پجاریوں میں شامل سیاستدان بھی خوش، اشرافیہ بھی خوش، بین الاقوامی قوتیں بھی خوش، عسکری قیادتیں بھی خوش اگر کہیں کوئی نوحہ کناں ہیں تو اِس ملک کی 20 کروڑ عوام جنھیں اُن کے حق سے معزول کردیا گیا۔ آج اِس قوم کو حقیقی معنوں میں مشرف کی کمی محسوس ہورہی ہے۔ لیکن مذکورہ بالا جمہوری حسن پرستوں نے سیاست میں اُس کا راستہ روک رکھا ہے اور سیاسی انتقام کا نشانہ بنائے ہوئے ہیں جس میں اندرونی و بیرونی قوتوں کا ہاتھ ہے جو نہیں چاہتے کہ ملک میں عوامی حکومت قائم ہو اور ملک ایک بار پھر ترقی و خوشحالی کی طرف گامزن ہوسکے۔ لوگ آج بھی مشرف کا دور یاد کرتے ہیں جس نے ان میں یہ احساس جگایا کہ پاکستان کے اصل وارث اِس ملک کے حقیقی عوام ہیں۔

FORMER PRESIDENT

PERVEZ MUSHARRAF

liberal mindset

ex army chief

Tabool ads will show in this div