تین کروڑسائنسدان،انجینئرز،ڈاکٹرزدستیاب ہیں؛رابطہ کیجئے

Oct 01, 2016

sultana foundation

سلطانہ فاؤنڈیشن کے چیئرمین ڈاکٹر نعیم غنی کی زندگی کی داستان بہت دلچسپ ہے۔ ڈاکٹر صاحب سول سرونٹ تھے اور پوسٹنگ سعودی عرب ہو گئی۔ ڈاکٹر صاحب خوشی خوشی اس مبارک زمین پر روزگار کمانے چلے گئے۔ وہاں کے گورنر شہزادہ سلمان ڈاکٹر صاحب کے مریض ہوگئے۔ وہ ڈاکٹر صاحب کی پیشہ ورانہ قابلیت اور ذہانت سے اس قدر متاثر ہوئے کہ ڈاکٹر اور مریض کا رشتہ دوستی میں بدل گیا۔ شہزادہ سلمان کے گھر کی ضیافتوں میں ڈاکٹر نعیم غنی مدعو ہونے لگے۔ اہل خانہ سے بھی ملاقات رہنے لگی۔ شہزادہ سلمان کی اہلیہ سلطانہ ڈاکٹر صاحب کی درد مندی کی قائل تھیں۔ آج سے کوئی پچیس برس پیشتر ڈاکٹر صاحب نے فیصلہ کیا کہ پاکستان میں بچوں کی تعلیم کے لیے کوئی چھوٹا سا پراجیکٹ شروع کیا جائے۔ شاہی محل میں شہزادہ سلمان کی اہلیہ سلطانہ سے جب اس بات کا ذکر ہوا تو ان کی دلچسپی اس پر اجیکٹ میں بڑھی۔ انہوں نے ڈاکٹر صاحب سے دریافت کیا کہ اس پراجیکٹ کے لیے کتنی رقم درکار ہو گی۔ ڈاکٹر صاحب کا اس وقت تک ہوم ورک مکمل نہیں تھا۔ کچھ گول مول سا جواب دیا کہ اگر پراجیکٹ چھوٹا ہو گا تو کم پیسے چاہیے ہوں گے اور اگر پراجیکٹ بڑا ہو گا تو زیادہ پیسے درکا ر ہوں گے۔ شہزادہ سلمان کی اہلیہ ڈاکٹر نعیم غنی کی دیانت اور جذبے کی قائل تھیں ۔ انہوں نے فوری طور پر ایک خطیر رقم ڈاکٹر صاحب کے نام سے ایک اکاؤنٹ میں بچوں کی تعلیم کے واسطے جمع کروا دی۔ اب اگر یہاں کوئی اور شخص ہوتا تو یہ کہانی یہاں ختم ہو جاتی۔ جمع کروایا ہوا روپیہ ہوا ہو جاتا اور تعلیم کے نام پر ایک اور فراڈ ہو جاتا۔ لیکن یہاں سلطانہ خاتون کی اس سخاوت کا واسطہ ڈاکٹر نعیم کی دیانت سے پڑا تھا۔ ڈاکٹر صاحب پاکستان آئے اور ایک قطعہ زمین خرید کر سلطانہ فاؤنڈیشن کی داغ بیل ڈال دی۔ گذشتہ پچیس برسوں میں سلطانہ فاؤنڈیشن سے تعلیم پانے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ اب ہر سال قریبا چھ ہزار بچے اس ادارے سے گریجویٹ بن کر نکلتے ہیں۔

SF

اس ادارے میں جن بچوں کو تعلیم دی جا رہی ہے وہ زیادہ تر وہ بچے ہیں جن کے والدین یا تو انکے تعلیمی اخراجات اٹھا نہیں سکتے یا پھر ان کو اس کار خیر کا ہوش ہی نہیں ہے۔ گلیوں میں آوارہ پھرنے والے بچے، بھیک مانگنے والے بچے، کچی بستیوں کے بچے، یتیم اور مسکین بچے ، غریب اور نادار والدین کے مفلوک الحال بچے، اقلیتیوں کے بچے اور معاشرے کے دھتکارے ہوئے افراد کے بچے اس ادارے میں داخل ہوتے ہیں اور اس ملک کے کار آمد شہری بن کر نکلتے ہیں۔ بچوں کا یونیفارم، اسکولوں کا ڈسپلن، اساتذہ کی جدید علوم میں تربیت، اعلی تعلیمی سہولیات، کمپیوٹر لیب اور کھیل کا میدان بچوں کے اس تعلیمی ادارے کا خاصہ ہے۔ بچوں کوتعلیم کے ساتھ اخلاقیات، سماجی اقدار اور وطن سے محبت کا درس دینا بھی اس ادارے کے فرائض میں شامل ہے۔

ڈاکٹر صاحب کی طبیعت ایسی ہے کہ انہوں نے جب اس نیک کام کا آغاز کیا تو پھر ایک علاقے تک اپنے آپ کو محدود نہیں کیا۔ تعلیم کا جھنڈا اٹھائے وہ مختلف علاقوں میں علم کی روشنی پھیلاتے رہے۔ جہاں اسکول نہیں تھے وہاں ایک کمرہ کرائے پر لے کر  موقع اسکولوں کا آغاز کر دیا۔ جہاں ایک کمرہ بھی دستیاب نہیں تھا ان علاقوں میں مسجد کو درسگاہ کا روپ دے کر مسجد اسکولوں کے آغاز میں مگن ہو گئے۔ دیکھا گیا ہے کہ آج کل کے جدید اسکول میرٹ کو بنیاد بنا کر صرف ذہین طلباء کو ہی داخلہ دیتے ہیں تاکہ انکے بچے پوزیشن حاصل کر سکول کی نیک نامی کریں۔ سلطانہ فاؤنڈیشن نے اس سوچ کو بھی ختم کیا اور آج تک کسی بھی بچے کو کم نمبروں کی بنیاد پر داخلے سے منع نہیں کیا۔اب یہ سلطانہ فاؤنڈیشن کے اساتذہ کی ان تھک محنت اور کاوشیں ہیں کہ وہ بچے جنہیں کم نمبروں کے سبب کوئی بھی اسکول داخلہ دینے پر تیار نہیں تھا وہی بچے جب سلطانہ فاؤنڈیشن میں داخل ہوتے ہیں تو بورڈ میں نمایاں نمبروں سے کامیاب ہوتے ہیں۔ابتدائی پوزیشنز حاصل کرتے ہیں۔

SF1

ادھرکرنا خدا کا ایسا ہوا کہ گورنر شہزادہ سلمان جو ڈاکٹر صاحب کے ذاتی دوست تھے وہ سعودی عرب کے فرمانروا ہو گئے۔ کنگ ڈم آف سعودی عریبیہ کے حالیہ بادشاہ بن گئے۔ اس عہدہ جلیلہ پر پہنچنے کے باوجود انکی اور ڈاکٹر نعیم غنی کی دوستی اس طرح برقرار ہے۔ سلطانہ خاتون کی دی ہوئی خطیر رقم ان برسوں میں ختم ہو چکی تھی اور اب فاؤنڈیشن کا گزارہ مخیر حضرات کی عطیہ کی ہوئی رقوم پر تھا۔ ان برسوں میں سلطانہ خاتون کا انتقال ہو چکا تھا۔ بچوں کی تعلیم کے لیے وسائل درکار تھے۔ سعودی بادشاہ سلطان سلمان کو جب اس بات کا علم ہوا تو نہوں نے ایک خطیر رقم ایڈاومنٹ فنڈ کے طور پر سلطانہ فاؤنڈیشن کے اکاؤنٹ میں جمع کروا دی۔ جس سے تعلیم کا یہ سلسلہ جاری و ساری ہے۔ اگر آپ کو سلطانہ فاؤنڈیشن کا دورہ کرنے کا موقع ملے تو یہ احساس بہت قوی ہوتا ہے کہ پیسے کی قدر یہ لوگ جانتے ہیں ۔ ڈونیشن کے لیے ملنے والی ایک ایک پائی اس طرح خرچ ہوتی ہے کہ حقدار کو اس کا حق پہنچتا ہے۔ اس مالی مدد کے باوجود وسائل ڈاکٹر صاحب کے حوصلے کا مقابلہ نہیں کر پارہے۔ ڈاکٹر صاحب کا بس نہیں چلتا کہ کسی طرح دنوں میں اس ساری قوم کو تعلیم یافتہ کر دیں ۔ لیکن یہ کام ایک فرد یا ادارے کا نہیں حکومتوں کا ہے جنہیں اس طرف توجہ کرنے کی فرصت ہی نہیں ہے۔

sf3

سلطانہ فاؤنڈیشن میں نہ کوئی ائرکنڈیشن ہیں نہ اٹلی کے فرنیچر والے دفاتر، نہ کوئی چیختا دھاڑتا منتظم ہے نہ انگریزی زبان میں تقریر کرنے والے چرب زبان لوگ ۔ ان لوگوں کے پاس لوگوں کو دکھانے کے لیے اپنے لاجواب کام کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ اس ادارے کی شناخت ہے یہی اس کا اثاثہ ہے۔

پاکستان میں اس وقت تین کروڑ بچے مختلف وجوہات کی بنا پر سکول نہیں جا رہے۔ہمارا مذہب کہتا ہے کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔ آئین پاکستان کہتا ہے ریاست کم سے کم وقت میں جہالت ختم کرے اور ہر شہری کو مفت تعلیم مہیا کرے۔اگر ہم ان تین کروڑ بچوں کو پڑھانے میں کامیاب ہو گئے تو چند برسوں میں ہم اقوام عالم کو فخر سے کہہ سکیں گے کہ ہمارے پاس تین کروڑ سائنسدان، ا نجینئراور ڈاکٹر دستیاب ہیں ہم سے رابطہ کریں اور اگر حکومتوں کی تعلیم سے بے توجہی کا یہی عالم رہا تو خدانخواستہ یہ نعرہ کچھ یوں لگے گا کہ ہمارے پاس تین کروڑ جاہل ،دہشت گرد، مجرم اور جرائم پیشہ افراد ہیں۔ ہم سے بچ کر رہیں۔

Sultana Foundation

Tabool ads will show in this div