انوکھی سواری

Sep 28, 2016

2_83712

تحریر: احمد سعید

میں تمہارا بھرکس نکال دوں گا، غصے میں بپھرے انسان کے لبوں سے کچھ ایسے ہی پھول جھڑتے ہیں۔ کبھی آپ کا ایسا کوئی ارادہ ہو تو ہم آپ کو ایک فری مشورہ دیے دیتے ہیں، بس اپنے حریف کو رکشے میں سوار کرا دیجئے، شرط صرف اتنی سی ہے کہ سڑکیں بھی بھرپور ساتھ نبھائیں، ایک راؤنڈ لگانے سے ہی لگ پتہ جائے گا۔

نہ موٹر سائیکل نہ گاڑی، رکشہ ہے ایک انوکھی سواری جو ہے سب پہ بھاری۔ تین پہیوں والی یہ سواری دیکھنے میں بھی ایک عجوبہ لگتی ہے، ملک عزیز کے کئی شہروں میں تو اسی کا راج ہے۔ رکشے کو زود ہاضم بھی کہا جاسکتاہے، بس ایک چکر لیجئے سب کھایا پیا ہضم ہو جائے گا۔ بعض دفعہ تو ایسا لگتا ہے کہ آپ زمین پر نہیں ہواؤں میں اڑ رہے ہیں۔

رکشوں کے پیچھے آپ کو اشعار بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ مثلاً ماں کی دعا جنت کی ہوا، باپ کی دعا جا بیٹا رکشا چلا۔

جس نے ماں کو ستایا اس نے رکشہ چلایا۔

کون کہتا ہے کہ موت آئے گی تو مرجاؤں گا، رکشے والا ہوں کٹ مارکر نکل جاؤں گا۔

اے مسافر کیوں گھبراتا ہے میرے رکشہ میں بیٹھ جانے سے ، خدا بھی ناراض ہوتا ہے کسی کا دل دکھانے سے۔

ظالم پلٹ کر دیکھ تمنا ہم بھی رکھتے ہیں، تم اگر کار رکھتی ہو تو رکشہ ہم بھی رکھتے ہیں۔

اے راکٹ تجھے قسم ہے ہمت نہ ہارنا، جیسا بھی کھڈا آئے ہنس کر گزارنا۔

قتل کیا نظروں سے، تلواروں میں کیا رکھا ہے، سیر کرو رکشے میں پجارو میں کیا رکھا ہے۔

2_89261

رکشے کے خاندان میں وقت گزرنے کے ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے لیکن فیملی پلاننگ کی تلوار بھی گرتی رہتی ہے، پہلے ٹو اسٹوک رکشے کی شامت آئی اور فور اسٹوک رکشے نے انٹری دی، شہر قائد کو تو رکشوں کا شہر کہا جا سکتا ہے۔ یہاں بھانت بھانت کے رکشے نظر آتے ہیں، چھوٹے، بڑے ہر قسم کے رکشے سڑکوں پردوڑتے ہیں، 6 اور 12 سیٹرز رکشوں نے اپنی دھاک بٹھائی ہوئی ہے۔ اکثر جگہوں پر تو آپ کو ٹیکسیاں کم اور رکشے زیادہ نظر آتے ہیں۔ اب ذکر ہو جائے، رکشہ فیملی کی ایک اور ممبرچنگ چی کا، اس شاہانہ سواری کا سپریم کورٹ میں بھی ذکر ہوتا رہا ہے۔

لاہور میں گلابی رکشوں کا بھی چرچا ہوا، جس میں خاتون ہی ڈرائیور اور خواتین ہی سواریاں ہوتی ہیں۔ گلابی رکشوں کے بعد رنگیلے رکشوں کا بھی شور سنا، ان رکشوں کی سج دھج ہی الگ ہے، ان کی سواری کا لطف اٹھائیں اور ساتھ ساتھ شہر کے تاریخی مقامات کی سیر کریں، یہ رنگیلے رکشے صرف سیر کیلئے نہیں بلکہ شادی بیاہ کی تقریبات کیلئے بھی استعمال ہوتے ہیں۔

385538-CNGRickshawPHOTOFILE-1338253735-195-640x480

یوں تو رکشے کی شان ہی الگ ہے لیکن کہیں کہیں ان کی حکمرانی نہیں چلتی۔ ایسی ہی ایک جگہ شہر بے مثال اسلام آباد ہے، جہاں آپ کو یہ مخلوق دکھائی نہیں دے گی۔ حیران کن طور پر پابندی پر عمل بھی کیا جاتا ہے، کبھی بھولے بھٹکے بھی رکشا یہاں آنے کی ہمت نہیں کرتا۔ شہر کی کھلی سڑکیں اس سواری کیلئے سود مند ہے مگر کیا کریں صاحب، پابندی تو پھر پابندی ہے۔ ہاں کبھی کبھی رات کے اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر کوئی رکشہ رخ کر ہی لیتا ہے۔

نیا دور، نیا زمانہ، آج کل کئی ممالک میں ماحول دوست الیکٹرک رکشے بھی نظر آتے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں بھی ایسے رکشوں کو سڑکوں پر لانے کی تیاریاں جاری ہیں لیکن ابھی معاملہ صرف کاغذوں تک ہی محدود ہے، یہ رکشے اپنے آباد و اجداد کے برخلاف مسافروں کو منزلوں تک بغیر دھواں اڑائے لے جائے گا۔ آج کل رکشے بھی ہائی ٹیک ہو گئے ہیں، کئی رکشوں میں وائی فائی کی سہولت بھی دستیاب ہے۔

رکشے سڑکوں پر تو دکھائی دیتے ہیں، چھوٹے چھوٹے رکشے ڈیکوریشن پیسز کی صورت گھروں کی زینت بھی بنتے ہیں، رکشے ہیں تو زمین کی سواری مگر ان سے کچھ بعید نہیں۔ مستقبل میں یہ آپ کو خلا میں بھی نظر آئیں۔ کہنے میں کیا حرج ہے۔

women drivers

Tabool ads will show in this div